میڈیا منڈی ۔ پاکستانی صحافت کا کچا چٹھا

پاکستان میں صحافت ، جسے عرف عام میں میڈیا کہا جاتا ہے، ایک ایسے عفریت کی صورت اختیار کر چکی ہے جو بے ہنگم بھی ہے، بدہئیت اور بد شکل بھی اور جس کی ہر حرکت سے تعمیر کی بجائے تخریب کا پہلو نکلنے لگا ہے۔

یا اسے ایک ایسے جوہڑ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس میں خوفناک اور خطرناک مگرمچھوں نے ڈیرا ڈالا ہؤا ہے۔ وہ پانی کی باقی ہر طرح کی مخلوق کے لئے عذاب جاں بنے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی اچھے شکار پر کھینچا تانی کرتے ہوئے وہ آپس میں بھی بھڑ جاتے ہیں۔ ایسے میں غلیظ و کثیف مادے سے اس آب گیر میں دوسرے رہنے والوں کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ لیکن کوئی ان بے طور و قوی الجثہ مگرمچھوں کے خلاف اف نہیں کر سکتا۔ اکمل شہزاد گھمن نے اس عفریت اور مگرمچھوں کو نہ صرف یہ کہ للکارا ہے بلکہ انہیں آئینہ دکھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے نوجوان دانشور کی کتاب ” میڈیا منڈی “ اس حوصلہ اور بے خوفی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یوں تو اکمل شہزاد گھمن ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر ہیں۔ اس طرح کسی نہ کسی طرح وہ اسی پیشے سے وابستہ ہیں جس کے چند طاقتور نمائندوں کو بے لباس کر کے وہ صحافیوں کی پرانی نسل کے گناہوں کا کفارہ اور نئی نسل کے عزم کا اعلان کر رہے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ صحافت یا ریڈیو کی پروڈیوسری ان کے گزر بسر کا ذریعہ نہیں ہے۔ میڈیا منڈی شائع کرنے کے چند ہفتے بعد ہی انہوں نے فیس بک پر ایسی تصاویر پوسٹ کی ہیں جس میں وہ ٹریکٹر پر بیٹھے ہیں اور اپنے گاﺅں کی فضاﺅں میں مگن گھوم رہے ہیں۔ پس ثابت ہؤا اگر وہ للکار رہے ہیں تو اس کی کوئی وجہ بھی ہے۔ کہ ان کے پاﺅں زمین پر ٹکے ہیں اور ان کا رشتہ دھرتی سے استوار ہے۔ وہ قلم کے ” مزدور“ نہیں ہیں کہ لکھیں گے تو بیچیں گے۔ ایسا ہی شخص قلم کے سوداگروں کے ساتھ دنگل کا اعلان کر سکتا ہے۔ دنگل ان معنوں میں بھی کہ میڈیا منڈی پاکستان میں صحافت اور صحافیوں پر گھمن کی کتابوں کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابھی تین کتابیں مزید آ رہی ہیں۔ اب یہ کون جانے کہ چار کتابیں تخلیق کرنے کے بعد وہ کیا کرنے کی ٹھان لیں۔ کیونکہ زیر بحث کتاب میں جو تیور انہوں نے دکھائے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے بہت سوں کے دانتوں سے پسینہ آ رہا ہو گا۔

کتاب ملک میں صحافت اور صحافی کے بارے میں ہو۔ اس کا خالق نوجوان اور حوصلہ مند ہو۔ دو ٹوک بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور اپنے تجزئیے میں کھرا ہو۔ غلطی ماننے پر آمادہ ہو لیکن چوک کو معاف کرنے پر تیار نہ ہو۔ جو احترام کرتا ہو مگر اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کے لئے پرعزم ہو …….. تو اس گئے گزرے زمانے میں مصائب میں گھرے اس پیشے اور قلم کی حرمت کے لئے اس سے اچھی کوئی خبر نہیں ہو سکتی۔ زندگی کا سفر مکمل کرنے کے بعد ٹمٹماتے چراغ تو انصاف اور سچ کا درس دیتے ہی رہتے ہیں۔ زہد وہ ہے جو جوانی میں آشکار ہو۔ اکمل شہزاد گھمن پاکستان میں نئے لکھنے والوں کی بے باکی اور بلند حوصلگی کا نمائندہ ہے۔

376 صفحات پر مشتمل کتاب ” میڈیا منڈی “ کسی لحاظ سے مکمل تخلیق نہیں ہے۔ یہ ایک متوازن تخلیق بھی نہیں ہے۔ اسے پورے ملک کی صحافت کا محاکمہ کرنے والی کتاب کہنا بھی غلط ہو گا۔ اگرچہ بین السطور یا کتاب کے آخری حصے میں پاکستان میں اخباروں کا تعارف کرواتے ہوئے کراچی، اسلام آباد اور چھوٹے صوبوں کی مطبوعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لیکن ساری کتاب جن کرداروں اور اداروں کے گرد گھومتی ہے، ان کا زیادہ تر تعلق لاہور سے ہے۔ مصنف نے انٹرویو کرنے کے لئے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے، ان میں سے بھی ایک کے سوا سب کا تعلق لاہور سے ہے۔ سردار خان نیازی اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ گھمن نے کراچی سے کسی ادارے یا فرد کو اپنی کتاب میں شامل نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے اور یہ کتاب تخلیق کرتے وقت وہ لاہور میں مقیم تھے۔

انہیں اس بات کی چھوٹ دی جانی چاہئیے کہ پاکستان میں کتاب لکھنا یا تحقیق کرنا ایک مہنگا شوق ہے۔ یورپ کے برعکس پاکستان میں حکومت یا ادارے اس قسم کے کام کے لئے نہ وسائل فراہم کرتے ہیں اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس لئے کسی مصنف کے لئے جو لاہور میں رہتا ہو، کراچی یا کوئٹہ جا کر مواد حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہو سکتا۔ یہ چھوٹ دیتے ہوئے البتہ یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے جیسے مصنف لاہور کے بطور صحافتی مرکز معترف ہوں اور کراچی کے صحافیوں کو لاہور میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں ” کم عقل “ یا ” کم پروفیشنل “ سمجھتے ہیں۔ یہ صریحاً میرا ذاتی تاثر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن تحقیق کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ایک کتاب میں اگر قاری کو اس قسم کے تعصب کا احساس ہو تو یہ اس اہم اور معتبر کام کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔
 

اکمل شہزاد گھمن کتاب کے ابتدائیہ میں بتاتے ہیں کہ وہ اس کتاب کے لئے انٹرویوز نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جب یہ سلسلہ شروع ہؤا تو انہوں نے سمجھا کہ گویا ” اللہ نے مستند حوالہ جات کا بندوبست کر دیا “۔ ان کی اس بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ انٹرویو دینے والا اپنا مؤقف اور حقائق کی وہ صورت پیش کرے گا جو وہ خود دیکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری مصنف پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان باتوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کر کے اصل حقائق قاری تک پہنچانے کا اہتمام کرے۔

میڈیا منڈی کے مصنف نے یہ اہتمام یوں کیا ہے کہ انہوں نے ایک معاملہ کے دو فریقوں کے علیحدہ علیحدہ انٹرویو کر کے قاری کے سامنے تصویر کے دونوں رخ رکھ دئیے ہیں۔ اس طرح نوائے وقت کے معاملہ میں عارف نظامی بمقابلہ مجید نظامی اور روزنامہ پاکستان کے معاملہ میں سردار خان نیازی بمقابلہ مجیب الرحمن شامی کے انٹرویو کتاب میں شامل ہیں۔ تاہم خبریں کے ضیاء شاہد اور ایکسپرس کے مرحوم ایڈیٹر عباس اطہر کا انٹرویو کسی ” مدمقابل “ کے بغیر شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی کھلتی ہے کہ 6 ایڈیٹروں کے انٹرویو اس کتاب میں شامل کئے گئے ہیں، ان میں سے پانچ مالکان ہیں۔ صرف عباس اطہر اپنے ادارے کے مالک نہیں تھے۔

ان اصحاب سے کئے گئے سوالوں میں بھی یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ وہ اخبار کے مالک سے انٹرویو کر رہے ہیں یا اس کے مدیر سے سوال کررہے ہیں۔ اس طرح یہ اہم بحث خلط ملط ہو کر رہ گئی ہے کہ مالک اور مدیر کے رول بالکل علیحدہ اور ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں۔ مالک اپنے اخبار کے ذریعے منافع کمانا چاہتا ہے جبکہ ایڈیٹر کا کام خبر کی حرمت کی نگہبانی ہوتا ہے۔ لیکن مصنف نے یہ مشکل عباس اطہر کے اس بیان سے آسان کر دی ہے کہ بطور ایڈیٹر مالکان کے اشاروں پر چلنا ہی ایڈیٹر کی سب سے بڑی شان اور کمال ہے۔

سوالات بے باکی سے کئے گئے ہیں لیکن اکثر انٹرویو پڑھتے ہوئے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مصنف متعلقہ شخص کے نظریات کو پرکھنا چاہتا ہے، اس کے اصولِ صحافت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے یا بطور انسان اس کی خوبیاں اور خامیاں سامنے لانا چاہتا ہے۔ تاہم اس کوشش میں انٹرویو آبجیکٹس OBJECTS کی شخصیت اور سوچ کے ایسے پہلو بھی سامنے آئے ہیں جنہیں جان کر گھن بھی آتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ کیا یہی لوگ ہمارے ملک کی صحافت کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ تو کیا عجب کہ پاکستان میں صحافت ایک ایسی اندھیری گلی میں داخل ہو چکی ہے جس سے باہر نکلنے کا راستہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔

گھمن نے تواتر سے متعدد لوگوں سے یہ سوال کیا ہے کہ اردو صحافت میں جذباتیت کیوں ہے۔ البتہ اس کا مستک جواب حسن نثار نے دیا ہے کہ اس کی اصل وجہ جہالت ہے۔ تاہم مجھے امید ہے کہ میری طرح یہ کتاب پڑھنے والا ہر شخص یہ ضرور سوچے گا کہ اس جواب کے بعد اکمل شہزاد گھمن نے حسن نثار سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ پھر وہ اپنی تحریر و تقریر میں یکساں طور سے جذبات کو کیوں انگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں ایک سائنٹیفک دانشور ہونے کا گمان ہے۔ اسی طرح اگرچہ مصنف نے اکثر انٹرویوز میں مالی معاملات پر بھی کھرے اور سیدھے سوال کئے ہیں لیکن حسن نثار سے یہ پوچھنے کا حوصلہ نہیں کر سکے کہ سعودی عرب میں چند برس کے دوران انہوں نے کون سا ایسا کام کیا تھا کہ اس وقت کی  کمائی ہوئی دولت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ نہ ہی انہوں نے یہ دریافت کیا کہ جس آمدنی پر آپ سوا لاکھ روپے ماہانہ ٹیکس دیتے ہیں اس کی مقدار کتنی ہے اور وہ آپ کو کہاں سے کن خدمات کے عوض حاصل ہوتی ہے۔

کتاب میں صفحہ 297 سے 368 تک اکہترصفحات پر ملک کے طول وعرض سے شائع ہونے والے اخبارات کا تعارف کروایا گیا ہے۔ اس سیکشن پر خاصی محنت کی گئی ہے۔ یہ حصہ  قاری کے لئے بیش قیمت معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس سے قطع نظر کتاب پڑھتے ہوئے مصنف کی اپنی تحریر“ دریافت “ کرنے کے لئے بہت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ کتاب کا زیادہ مواد براہ راست انٹرویوز یا ان ملاقاتوں کے حوالوں پر مشتمل ہے جن کو باقاعدہ انٹرویو کی شکل میں کتاب میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ کتاب پڑھتے ہوئے بعض اوقات یہ گمان بھی گزرتا ہے کہ مصنف نے ایک خاص طرح کے مائنڈ سیٹ اپ کے ساتھ سوالات کئے ہیں۔ اس طرح وہ پڑھنے والے کو ایک مخصوص نقطہ نظر تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسے لکھنے والے کا استحقاق بھی سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر یہ احساس ہو کہ مصنف ڈاکٹر مہدی حسن کی انگلی پکڑ کر صحافت اور صحافی کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کی ذاتی خوبیاں بھی اس تاثر سے گہنا جاتی ہیں۔

ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر جو میں نے اس امید اور حوصلے سے تحریر کئے ہیں کہ گھمن انہیں ایک ایسے شخص کی رائے سمجھ کر درگزر کریں گے جس نے اردو صحافت میں 45 برس صرف کئے ہیں اور جو اسے اب بھی دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے برابر لانے کی خواہش اور امید رکھتا ہے ………… یہ کتاب اردو صحافی اور صحافت کے موضوع پر قابل قدر اضافہ ہے۔ اسے پڑھ کر بہت سے رازوں سے پردہ اٹھتا ہے اور ایسی متعدد کمزوریوں کا ادراک بھی ہوتا ہے جنہیں دور کئے بغیر اردو صحافت کو حقیقی عروج اور ترقی نصیب نہیں ہو سکتی۔

اکمل شہزاد گھمن نے تن تنہا اپنے وسائل کے بل بوتے پر جو کام کیا ہے وہ ملک میں ماس کمیونیکیشن پڑھانے والی یونیورسٹیوں کے کرنے کا ہے۔ شاید اس کام کو دیکھ کر بے شمار وسائل کے ساتھ بڑے بڑے ادارے چلانے والوں کو بھی اس اہم شعبہ میں کام کرنے کی لگن اور شوق پیدا ہو۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words