بھارت میں زہریلی شراب پینے سے 92 افراد ہلاک ہوگئے

نئی دہلی: شمالی بھارت کے مختلف دیہات میں جعلی زہریلی شراب پینے سے 92 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کئی افراد کی حالت غیر ہے۔
خبروں کے مطابق سینئر پولیس افسر اشوک کمار نے کہا ہے کہ زہریلی شراب پینے سے زیادہ ہلاکتیں ریاست اتر پردیش میں ہوئی ہیں جبکہ 13 ہلاکتیں ریاست اترکھنڈ میں ہوئیں جن میں سے بیشتر افراد بالپور کے گاؤں میں ہلاک ہوئے۔
اشوک کمار کا کہنا تھا کہ متاثرین نے دو سماجی تقریبات کے دوران زہریلی شراب پی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم اور ابتدائی فرانزک رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریبات میں جن مشروبات کا استعمال کیا گیا ان میں الکوہل شامل تھی۔
واقعات کے بعد پولیس نے شراب کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ ریاستی حکومت نے پولیس اور دیگر محکموں کے 35 عہدیداروں کو معطل کر دیا ہے۔ بھارت میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتیں معمول بن چکا ہے۔
بھارت میں غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی شراب سستی ہوتی ہے جبکہ اثر بڑھانے کے لیے اکثر ان میں کیڑے مار دواؤں سمیت دیگر کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔
شراب کا غیر قانونی کاروبار بھارت میں انتہائی منافع بخش کاروبار ہے جہاں یہ کاروبار کرنے والے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے اور غریبوں کو کم قیمت پر بھاری مقدار میں شراب فروخت کرتے ہیں۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words