محرابِ مسجد میں خرّاٹے

ہر صبح موبائل کبوتر غُٹر غُوں گا کر صبح کے چھ بجنے کا اعلان کرتا ہے کہ شبینہ موت کا وقت ختم ہوا ۔ چلو لباسِ شب خوابی اُتارو ، لباسِ بیداری زیبِ تن کرو اور نفاست سے وضو بنا کر رب کے حضور حاضری دو لیکن آج نہ جانے کیا ہوا کہ کبوتر نے غُٹر غوں کے بجائے عیسیٰ خیلوی لہجے میں ایک رزمیہ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح میرے کانوں میں اُنڈیل دیا : میاں میاں پاکستان ، خان خان پاکستان بلاول بلاول پاکستان ، فضل الرحمٰن پاکستان تِس پر میری نیند کی صُراحی ایک زور دار چھناکے بلکہ دھماکے سے ٹُوٹ گئی اور ان دیکھے خواب بہ کر بستر پر ہر طرف کشمیر کے نقشے بنانے لگے ۔ لگتا تھا ، بادام اور صنوبر کے درختوں کے پتّے سلوٹ سلوٹ بکھرے ہوئے ہیں ۔ تب مجھے یاد آیا کہ ابھی ابھی نیوزی لینڈ میں پیرِ قارونیت حضرت ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک روحانی شاگرد مسٹر برینٹس ٹرانٹ نے اپنے مذہب کا اعلان دو مساجد میں سرمئی جلد والے اُنچاس نمازیوں کو شہادت سے ہم کنار کر کے کیا ، جنہیں بعد میں جنت بھجوا دیا گیاہے ۔ اس پر برینٹس کا شکریہ تو بنتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات پاکستان میں تواتر کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں ۔ اگرچہ میں نسیان کا مریض ہوں مگر مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہم نے اسلام آباد کی لال مسجد ، پشاور کے مسلمان بچوں کے سکول اور لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں ایک مذہبی تنظیم کے حصار پر کس طرح کی "محبت" گردی کی تھی ۔ بات کو اگر طلالی اور دانیالی استدلال میں کہوں تو عابد باکسر کے ہاتھوں موت کا شکار ہونے والے لوگوں کے بھوت مجھے ڈرانے آجاتے ہیں ۔ بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر کے جنت بھجوانے کی سہولت کاری ہمارے یہاں ایک طاقت ور مذہبی رویہ بن چکی ہے ۔ اب میری تجویز یہ ہے کہ طاہر القادری صاحب کو اپنی تنظیم کے چودہ مقتولین کے جنت بھجوانے پر نون لیگ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور تنظیم کی طرف سے خادمِ اعلیٰ اور رانا ثنا کو خصوصی اعزات دینے کا اعلان کرنا چاہیے ۔ اب دیکھ لیجے میری سوچ کتنی بے رحمانہ اور سفاکانہ ہے ۔اب آپ میرے طرزِ بیان کو جہالت کہیں ، قلم کمینگی کہیں یا سیاسی کوتاہ بینی ، کوئی بھی نام دے لیں ، آزاد ملک کے شہریوں کی حیثیت سے یہ ہم سب کا حق ہے ۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے ، ایک دوسرے پر بہتان باندھنے، الزام لگانے اور ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔ بھلا کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی کوالیفائیڈ مسلمان کے طرزِ عمل پر انگلی اُٹھائے ۔ مگر لالہ ملنگ پوچھ رہا ہے کہ یہ کوالیفائیڈ مسلمان کون ہوتا ہے ؟ یہ تصور شریعت یا فقہ کی کون سی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے ؟ تو عرض کیا کہ زید حامد خان کی لال ٹوپی کے نیچے جو چہرا ہے ، وہ کوالی فائیڈ مسلمان کا چہرا ہے۔ اس کی زندہ مثالیں اور بھی ہیں مگر اس وقت بات قلم کاغذ کی ہے اور اسے میں یہیں تک ہی رہنے دیتا ہوں ۔ اس پر لالہ کا اصرار ہے کہ اُسے یہ تو بتا دیا جائے کہ کوالیفائیڈ مسلمان کس فقہی فیکٹری میں تیار ہوتے ہیں؟ تو عرض کیا کہ لالہ جی ! میری معلومات کے مطابق یہ تین الگ الگ فیکٹریاں ہیں جن کی ذیلی شاخیں ہر گلی محلے میں قائم ہیں ، جہاں فرقہ واریت کا سودا فروخت کیا جاتا ہے اور یہ فیکٹریاں یہ ہیں : ۱ ۔ اسلامی نظریاتی کونسل ۲ ۔ علماء کونسل ۳ ۔ وفاقی شرعی عدالت ان کے تعمیر کیے ہوئے مسلمان اُن برتنوں کی طرح ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر ٹُوٹتے رہتے ہیں اور جب ان کی کارکردگی دیکھنا ہو تو کسی ایک مسلمان کا معیارِ مذہب چیک کر لو ۔ مثال کے طور پر وہ سابق وزرا ہی دیکھ لو جنہیں یہ پتہ نہیں کہ سورہ ء اخلاص کس ستارے کا نام ہے ۔ کیا صادق اور امین ہونا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الاللہ کا نعرہ لگانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ جہاں تک مسلمانوں کی سماجی زندگی کی نظم و ضبط سے آشنا کرنےاور انہیں باعمل مسلمان بنانے کا معاملہ ہے اُس ضمن میں بیڈ گورننس کے جس کلیے کا اطلاق سیاستدانوں پر ہوتا ہے وہ ان علماء پر بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ رب کے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کو نہ تو رب کے حقیقی گھر کا روڈ میپ ہی مہیا کرتے ہیں اور نہ ہی اپسے پڑھنا سکھاتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی اپنی فرقہ وارانہ ڈفلی پر اپنا اپنا راگ چھیڑتے اپنی انا میں مست رہتے ہیں اور کسی کو یہ نہیں بتاتے کہ خُدا کے پاور ہاؤس سے جو روشنی چھن رہی ہے وہ ظلمت سے نور کی طرف کس طرح لے جاتی ہے ۔ اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں نہ ظاہری روشنی ہے نہ باطنی ۔ اندر باہر ، داخلی اور خارجی لوڈ شیڈنگ نے ہمارے دلوں اور ذہنوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ یہ خارجی لوڈ شیڈنگ سے سول شیڈنگ ( روحانی فرو مایگی) تک ایک سا منظر ہے جس کا ذکر قرآن میں یوں کیا گیا ہے : "اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی ۔ جب آگ نے اردگرد کے مظاہر و اشیا کوروشن کیا تو اللہ نے اُن کی بینائی چھین لی اور اُن کو اندھیروں میں یوں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے " البقر آیت نمبرسترہ جو لوگ خُدا کے بندوں کی صحبت میں بیٹھتے ہیں وہ لازماً نیک ہو جاتے ہیں ۔ تو ان نیک بندوں کی صحبت کیا ہے اور وہ کہاں رہتے ہیں ؟ رومی نے فرمایا: یک زمانہ صحبتے با اولیا بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا لیکن سوال یہ کہ ہمارے یہاں علماء کی صحبت لوگوں کو نیک کیوں نہیں بنا رہی ؟ کیا یہ بھتہ خور ، اغواکار ، کرپٹ ، ظالم اور بے رحم لوگ سچ مچ مسلمان ہیں ؟ کیا ان علماء کی رہنمائی وہ مسلمان پیدا کر سکی ہے جنہیں صلح کُل مسلمان کہا جاتا ہے یا صرف فرقہ وارانہ تنازعات ہی پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے ہر فرقہ دوسرے فرقے کا دشمن ہے ، جس میں شیعہ ، بریلوی اور احمدی کا قتل جائز ہے ۔ اس قسم کے شوشے معاشرے میں مسلمان نہیں زہریلے بچھو پیدا کرتے ہیں جبکہ مسلمان ہونا ایک اعلیٰ ترین انسانی درجہ ہے مگر یہاں ڈمیوں نے اسلام کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ لالہ نے اعتراض کیا کہ سائیں ، تم لبرلوں جیسی باتیں کر رہے ہو ۔ اور لالہ ، یہ لبرل کیا بلا ہے ؟ وہی جو اس فرقہ وارانہ ماحول کا مخالف ہے اور فرقہ واریت کی لاش پر امن چاہتا ہے ، خواہ فرقہ واریت غارت ہی کیوں نہ ہو جائے ؟ نہیں لالہ ! میں تو ربوبیت کی کان سے محبت کے ہیرے نکالنے والا کان کن ہوں ۔ اور جیسے کہتے ہیں کہ ہر کہ در کانِ نمک رفت ، نمک شُد ، اُسی طرح ہر کہ در کانِ رحمان رفت ، محمدی شُد والا مضمون ہے ۔ سمجھے میرے چین کے شہزادے ! لیکن جب جواب نہ ملا تو میں نے نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ چین کا شہزادہ گھٹنوں میں سر دے کے سو گیا تھا اور اُس کے بلند آہنگ خراٹے ماحول میں دنگا فساد کر رہے تھے ۔

loading...