یومِ خواتین زندہ باد

بین الاقوامی طور پر 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے ۔ ہر چند کہ بعض کٹّڑ مذہبی حلقوں کی طرف سے اِس دن کے خلاف آوازیں اُٹھتی ہیں اور اِسے خلافِ شریعت قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسا اعتراض جو کئی حوالوں سے بے محل اور غیر ضروری ہے کیونکہ آج سے پندرہ صدیاں پہلے عرب قبائلی سوسائٹی میں عورت کی جو حیثیت تھی ، اُس کو بہتر بنانے کے لیے اسلام کے علمبرداروں ، مفکرین اور فقہا نے موثر اقدامات کیے ، تاہم عرب معاشرت میں اُس عورت کا جو ملکِ یمین یا زر خرید باندی نہیں تھی ، مقام و مرتبہ بلند تھا ، وہ اپنی پسند کے مرد کو شادی کا پیغام بھیجنے کا حق رکھتی تھی ۔ چنانچہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام حضرت خدیجہ رضی اللہ کی طرف سے آیا تھا ۔ اور یہ روایت عرب میں عام تھی لیکن ہمارا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اسلام دنیا بھر میں جہاں جہاں گیا وہاں کی مقامی روایت کی بنیاد پر اسلامی اصولوں کو ڈھالا گیا ، کیونکہ اسلام کسی بھی ملک کی مثبت مقامی روایات کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایسی روایات جو علم و حکمت اور روایات کی قدروں کی امین ہیں ، اس لیے قابلِ قبول ہیں کہ اسلام " الحکمتہ ضالتہ المومن" کا اصول بیان کرتا ہے جسے مولانا حالی نے اس طرح بیان کیا ہے: کہ حکمت کو اک گم شدہ لعل سمجھو جہاں پاؤ اپنا اُسے مال سمجھو جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی معاشرت کی علم و حکمت ، انصاف اور مساوات کی انسانی قدریں اسلامی روایت میں شامل کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن بعض معاشرے ایسے بھی ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے ناپسندیدہ ، غیر انسانی اور نا منصفانہ قدروں اور رویوں کو ترک نہیں کرتے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے نالائق اور بے انصاف بھائی ، اپنے باپ کی متروکہ جائداد میں سے اپنی بہنوں کو حصہ دینے سے انکار کرتے ہیں اور اگر بہنیں قانونی ذرائع سے اپنا حق حاصل کر لیں تو اُنہیں عمر بھر کے لیے غیر قرار دیتے ہیں اور مرنے پر بھی اُن کا مونہہ نہیں دیکھتے ۔ شادی کرتے ہوئے بیٹی یا بہن کی پسند یا رائے کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا ، جس سے بیشتر شادیاں جبری ہوتی ہیں جو گھر کو مسلسل جہنم بنائے رکھتی ہیں ۔ ہمارے ہاں عام لوگوں کا خیال یہ ہے کہ عورت پاؤں کی جوتی ہے ، وہ کم عقل ہے ۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جسے دیہی معاشرت میں سند کی حیثیت حاصل ہے ۔ چنانچہ مرزا صاحباں کے قصّے میں حافظ برخوردار اس رویے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :: چڑھدے مرزے خان نوں جٹ ونجھل دیندا ای مت بھٹھ رنّاں دی دوستی تے کُھریں جیہناندی مت ہس ہس لاون یاریاں تے رو رو دیون دس عورت کی کم عقلی اور مرد کی برتری کا تصور پاکستان میں بہت عام ہے لیکن اس برتری کے تصور کی نوعیت کیا ہے ؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اسے سمجھنے اور اسے بدلنے کی کوشش کی ہے ؟ نہیں بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمارا مسلک لکیر کی فقیری ہے ۔ حالانکہ سورہ نساء میں واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو نفسِ واحدہ یعنی ایک ہی سیل سے پیدا کیا گیا اور پھر اُسی سے اُس کا جوڑا بنایا گیا جس سے انسانی آبادی کے تسلسل کا کلیہ مرتب اور رائج ہوا ۔اِس جوڑے کے ایک فریق کو دوسرے پر فضیلت کیوں ہے ، جبکہ وہ اصل میں ایک ہی ہیں ، اس کے حق میں کوئی حتمی دلیل موجود نہیں ہے ۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق اس قسم کا امتیاز ابلیسیت سے عبارت ہے کیونکہ ابلیس کے انکار کے قصّے میں بتایا گیا ہے کہ اُس نے یہ کہہ کر آدم کو تعظیم پیش کرنے سے انکار کیا کہ چونکہ وہ آگ میں سے ہے، اس لیے افضل ہے اور آدم جو مٹّی میں سے ہے اس کے مقابلے میں اسفل ہے ۔ تو ابلیس کی یہ دلیل رد کر دی گئی کہ امتیاز کا یہ حق مخلوق کو حاصل نہیں ہے اور جب آگ اور مٹی میں امتیاز قابلِ قبول نہیں تو نفسِ واحدہ سے بننے والے جوڑے کے دو اجزاء میں سےایک کو دوسرے پر فضیلت کس اصول کے تحت ہے ؟ شاید اس معاملے کو کبھی سنجیدگی سے طے کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی اور انسانی معاشرت کے پرانے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی ۔ لیکن کیوں؟ اسلام کی تشکیل و تعمیر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اُن پانچ عظیم ترین خواتین کی خدمات کو خراج پیش کرنا لازمی ہو جاتا ہے جنہوں نے اسلام کی تعلیمات کو پروان چڑھانے میں کسی نہ کسی صورت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور وہ خواتینِ ہیں : 1۔ حضرت آمنہ رضی اللہ 2۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ 3۔ اسلام کی خاتونِ اول خدیجتہ الکبریٰ 4۔ حضرت عائشہ رضی اللہ کی بیان کی ہوئی احادیث کا اثاثہ 5۔ خاتونِ جنّت حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ اور آج میرے لیے ان پانچوں خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا عالمی دن ہے کیونکہ رب العالمین کی ساری انسانی تخلیق ایک وحدت ہے اور خطبہ ء حجتہ الوداع میں جب آقا اور غلام ، کالے اور گورے اور عربی اور عجمی کے درمیان امتیازات ختم کر دیے گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے انسانی جمعیت ایک ہے اور رحمت اللعالمینی کا شرف یہ ہے کہ کہ تمام بنی نوعِ انسان رحمتِ خداوندی کے یکساں حق دار ہیں ، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا ملت سے تعلق رکھتے ہوں اور اس ضمن میں سورہ ء بقر میں ایک واضح قانون موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ : " لوگ یہودی ہوں ، عیسائی ہوں یا صابی ہو ں اگر وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اُن کے اعمال نیک ہیں تو اس کا صلہ خُدا کے ہاں سے ملے گا اور وہ خوف اور غم سے آزاد ہوں گے" ۔ یہ ہے وہ اُلوہی بنیاد جو انسانی معاشرے کو ایک وحدت میں پروتی ہے اور اس قدیم تصور کی تجدید کرتی ہے جو " کان الناس اُمتہ واحدہ" کے الفاظ میں مضمر ہے جس کی رو سے سارے علاقائی تہوار عالمی بن جاتے ہیں اور اسی لیے میں نعرہ زن ہوں ، " آٹھ مارچ کا یومِ خواتین زندہ باد " ۔

loading...