نیم تاریکی میں تبلیغی ایڈونچر

مسلمان اللہ کا سپاہی ہے اور ہمیشہ اپنے اپنے بریگیڈ کی وردی میں رہتا ہے ۔ اس وردی میں مُٹھی بھر داڑھی ، مُنڈی مونچھیں ، لمبا کُرتا ، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور گلے سے ح اور ع کی آوازیں نکالنے کی صلاحیت شامل ہے ۔ چنانچہ جیسا دیس ویسا بھیس مکتبِ فکر کے لوگ اُن کی لُغت میں لبڑل کہلاتے ہیں اور جب وہ لبڑل کا تلفظ ادا کرتے ہیں تو لبڑل کے ڑ میں بلغم کا شور پوری شدت سے سنائی دیتا ہے ۔ میں گزشتہ ویک اینڈ پر رات کے گیارہ بجے گھر جانے کے لیے بس کے انتظار میں تھا کہ ایک وردی پوش خُدائی فوجدار میری طرف بڑھا اور نارویجن میں مجھ سے پوچھا کہ میں مسلمان ہوں کیا ؟ میں نے چوہے کی بو پا کر نظر انداز کرنے والے انداز میں سر ہلایا تو وہ بولا ، تم نے ایک بار کہا تھا کہ تم مسلمان ہو ۔ اس پر میں نے بصد احترام جواب دیا کہ آپ نے دوبارہ پوچھا کیوں؟ اس پر وہ جلال میں آ گئے اور گلا پھاڑ کر بولے کہ جانتے بھی ہو اسلام کیا ہے ؟ عرض کیا سنو ! اور کلمہ ء شہادت پڑھ کر تبلیغ شروع کر دی ۔ اسلام کیا ہے ؟ اسلام محمد ﷺ کے فقر پر قائم رہنا ہے ۔ محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا ہے ۔ یہ اسوہ حسنہ کے اصولوں کے مطابق صداقت اور راستبازی اختیار کرنا ہے یعنی صادق اور امین ہونا ہے اور جو صادق اور امین نہیں وہ محمدﷺ کا وفادار نہیں ۔ محمد ﷺ کے قافلے میں شامل نہیں ۔ ایسے بے وفا کا اسلام ایک ڈھونگ ہے ۔ تکلفِ محض ہے ۔ دکھاوا ہے ۔ نمائش ہے ۔ ریاکاری ہے اور اس طرح کے سارے نمائشی رویے اور طرز ہائےعمل ردِ اسلام ہیں ۔ اسلام سے دوری کا استعارہ ہیں ۔ یہ رویے جہالت کی زنجیریں ہیں اور اگر ہم جہالت کی زنجیروں کو توڑ کر رہائی نہیں پا سکتے تو مسلمان ہو ہی نہیں سکتے ۔ اسلام ہر وقت ایک امکان کی طرح موجود ہے مگر ملکہ جہالت کی بیٹی جس کا نام خواہشِ نفس ہے ، ان زنجیروں کی حفاظت کرتی ہے اور رہائی کا اذن نہیں دیتی ۔ وہ اپنی بہن انا کے ساتھ مل کر ، جو شیطان کے انڈے سے نکلی تھی ، ضمیر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر کے مٹی کی اولاد کو گمراہی کی چراگاہوں کی طرف ہانک دیتی ہے ، جہاں وہ دن رات خود فریبی کی گھاس چرتی ہے اور خالی لفظوں کی جگالی کرتی رہتی ہے ۔ لفظوں کی جگالی آدمی کو طوطا ، مینا ، روبوٹ اور وائس ریکارڈر تو بنا سکتی ہے مگر سچ مچ کا مسلمان نہیں ۔ بیشتر مذہبی اور روایتی معاشروں میں اس طرح کے طوطوں کی کثیر آبادی ہوتی ہے ، جن کے گھر قبریں اور جن کے خاکی وجود کفن ہوتے ہیں ۔ یہ چلتے پھتے کفن ہر صبح اپنی قبروں سے طلوع ہوتے ہیں اور ہر شام دفن ہو جاتے ہیں ۔ زندگی کے خواب میں مست یہ مردے زندگی کے نام پر موت کا بہروپ ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو سچ مچ زندہ سمجھ رہے ہوتے ہیں ، حالانکہ وہ جسموں کو لاحق ایسا نفسیاتی روگ ہیں جنہیں زندگی اور موت کے درمیان حقیقی امتیاز کی صلاحیت بہم نہیں ہے ۔ مردہ ہونے کی سب سے بین دلیل یہ ہے کہ مردے کے مو ضوعی حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی کیونکہ اُن کے خواب نہیں ٹوٹتے ۔ اُن کے کفن چونکہ روز بدلتے ہیں اس لیے وہ میلے ہو کر بھی میل کو محسوس نہیں کرتے ۔ مگر اُن کی بستیاں جو قبرستان ہیں ، تبدیلی ، تغیر اور انقلاب کے خواب تو دیکھتے ہیں مگر ان مراحل سے عملی طور پر گزر نہیں پاتے ۔ اُن میں عمل کی تاب و تواں ، سکت اور مجال نہیں ہوتی کیونکہ اُن کی زندگی اس مواد سے بنی ہوتی ہے جو خواب سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ وہ اپنی روز مرہ سرگرمیوں اور معمولات کے لیے دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں ۔ وہ ایسے جنازے ہوتے ہیں جنہیں کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے ۔ لو سنو ! مولانا جلال الدین رومی یہی کہہ رہے ہیں : بندہ باش و بر زمیں رو چوں سمند چوں جنازہ نے کہ بر گردن نہند ( خُدا کے قانون کے پابند بنو اور زمین پر گھوڑے کی سی استعداد کے ساتھ چلو ۔ جنازے مت بنو جنہیں کندھوں پر اُٹھایا جاتا ہے ) اور کیا تم نے آج پاکستان کی قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کی کاروائی دیکھی ہے ، جس میں بہت سے جنازوں کی چرخ چوں سُننے کے مواقع بہم تھے ۔ ایک جنازہ جس نے برسوں خشت و سنگ کی سیاست کی اور اینٹوں ، پتھروں ، بجری اور سریے سے پاکستان تعمیر کرنے کو راست جانا ، آج اقبال کے کندھوں پر چڑھ کر کہہ رہا تھا : جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا حالانکہ اُس کی اپنی کارکردگی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ افکارِ تازہ سے دور اینٹ اور پتھر کی دنیا کا ایک پتھر رہا ، آج بھی پتھر ہے اور کل بھی پتھر ہی رہے گا ۔ وما علینا الالبلاغ

loading...