اَذیّت ناک سوالات

کیا پاکستانی کوئی قوم ہیں ؟ یا یہ مُختلف قومیتوں ، مہاجروں اور بھانت بھانت کے غیرقانونی تارکینِ وطن پر مشتمل بڑی طاقتوں کی جمع کی ہوئی بھیڑ ہے جسے مختلف نظریات کا زہر دے کر فرقہ واریت اور دہشت گردی کی موت ماردیا گیا ہے ۔ کیا یہ وہ جگہ ہے جہاں مرکھنے بیل لڑتے ہیں ، جن کے پاؤں تلے آ کر عوام نام کے مینڈک کُچلے جا رہے ہیں ۔ کیا پاکستان کوئی ریاست ہے ؟ یا محض ایک قطعِ ارض ہے جو جس طرح 1947 میں وجود میں آیاتھا اب اُس اورجنل حالت میں پچھلی نصف صدی سے موجود نہیں ہے ۔ کیا اس ملک میں جمہوری نظام ہے ؟ یا یہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، مذہبی اور غیر مذہبی تاجروں ، بیوروکریٹوں اور سیکیورٹی اداروں کا بنایا ہوا ایک عبوری نظام ہے جس کا اب تک کوئی نام تجویز ہی نہیں ہو سکا ۔ کیا یہ سچ مُچ کی اسلامی ریاست ہے یا محض اسلام کے نام پر اُس انسانی ہجوم کا جذباتی استحصال کیا جا رہا ہے جسے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت ہے؟ یہ ہیں وہ سوالات جو میرے لیے برسوں سے سوہانِ روح ہیں ۔ میں جو عمر میں پاکستان سے بڑا ہوں ، ان سوالوں کی چکی میں پس پس کر اور گھِس گھِس کر اتنا چھوٹا رہ گیا ہوں کہ اپنا ہونا محسوس ہوتا ہے ، دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مجھے آئینے میں ہی نظر آتا ہے ۔ میں جو پچھلے انتالیس برس سے پاکستان سے ہزاروں میل دور ناروے کے مہاجر کیمپ میں بیٹھا ہوں ، نہ کہیں کا شہری ہوں اور نہ ہی میری کوئی قومی شناخت ہے ۔ اگرچہ میرے پاس ناروے کی سفری دستاویز ہے اور میں رسمی طور پر نارویجن شہری بھی ہوں مگر میرے پاؤں کسی بھی مٹی میں نہیں ہیں ۔ چنانچہ جب کبھی مجھے اپنی شناخت کا بحران ستاتا ہے تو میں لفظوں کی بُکّل مار کر گُنگنانے لگتا ہوں: کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بُتاں کی ہے مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے لیکن کعبہ بھی پاکستان کی غالب اکثریت کے لیے ایک خواب ہے کیونکہ کعبے کی زیارت بھی اہلِ استطاعت کا حق ہے ۔ یعنی جس کے پاس زادِ راہ اور مقدور نہ ہو وہ دین کے اس پانچویں ظاہری رُکن کو انجام نہیں دے سکتا ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ پانچواں رُکن صرف سرمایہ داروں ، مالداروں اور پونجی وادوں کے لیے ہے جو سال بھر میں بارہ عُمرے بھی کرتے ہیں لیکن بے استطاعت لوگ اس تکلف میں نہیں پڑتے کیونکہ تکلف سراسر تکلیف ہے جب کہ سعادت میں آسانی ہوتی ہے ۔ میرے حساب سے حج تقدیر میں لکھی ہوئی مذہبی یاترا ہے جو سب کے لیے نہیں ۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے لیے بھی نہیں تھی کیونکہ ان دونوں اکابرین کی سوانح میں حج یا عمرے کا کوئی واقعہ درج نہیں ہے اور نہ ہی اس قسم کا کوئی ذکر ملتا ہے ۔ میرے لیے اصل مسئلہ حجِ اکبر ہے کہ میں پاکستان میں غُربت کے ہتھوڑے اور بیڈ گورننس کے کلہاڑے سے کاٹے گئے دلوں کو جوڑنے کیے کچھ کرسکوں ۔ شیخ سعدی نے اس ضمن میں عجیب بات کہی کہ ٹُوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا حجِ اکبر ہے اور دل ہزار کعبے سے بہتر مقام ہے: دل بدست آور کہ حجِ اکبر است از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است لیکن دلوں کو جوڑنے کا کام پاکستان میں باکل بھی نہیں ہوتا بلکہ وہاں تو سڑکوں پر معصوم بچوں کو اغوا کرنے اور ذبح کرنے کا کام ہوتا ہے ۔ یہ وہ کام ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کر رہی ہے ۔ یعنی دونوں طرف عسکری سیاست کے درندے بچوں کو قتل کر رہے ہیں ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ستر برس میں اپنے حصے کے مسلمان ملک کو امن ، ترقی اور خوش حالی سے ہمکنار نہیں کر سکے اور موجودہ سیاسی صورتِ حال میں سیاست کی دال جس بھونڈے طریقے سے جوتیوں میں بٹ رہی ہے وہ نہایت اذیت ناک ہے ۔ نظریہ پاکستان چونکہ برِ صغیر کے مسلمانوں کا مشترکہ نظریہ تھا ، اس لیے بھارت میں مقیم بیس کروڑ مسلمانوں اور بنگلہ دیش کے ہمارے پچیس برسوں کے ہم سفروں کی ذمہ داری بھی اُنہی پر ہے جو پاکستان کا پرچم لے کر چل تو رہے ہیں مگر دولت کے نشے میں لڑکھڑا کر کرپشن کے پتھروں سے ٹھوکریں کھا کر گرتے پڑتے کولہو کے بیل کی طرح کئی کروڑ کوس چل کر بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947 میں تھے اور یہ ہماری بد قسمتی ہے ۔ پاکستان کی اسمبلیوں میں جس طرح کی کارروائی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ یہ عندیہ دیتی ہے اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ نہ سیاست دان ہیں اور نہ ہی معاشرے کی تعمیر کے فن کے ماہر بلکہ یہ اپنی اس جمع پونجی کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں جسے نیب آمدنی سے زائد اثاثوں کا نام دیتا ہے ۔ ہر سیاسی کیمپ میں ہاہاکار مچی ہے اور اس آپا دھاپی اور نفسا نفسی کی کیفیت میں ملک نہیں چل سکتے اور ہماری بد قسمتی کہ ہم ہزار سال کی جنگ کے رستے پر چلتے چلے جا رہے ہیں اور ابھی ہزار سال میں سے صرف ستر سال ہی گزرے ہیں ۔ ان ستر برسوں کے دوران میں نے زندگی کی شاہراہ پرسوالیہ نشانات کے جتنے پتھر گاڑے ہیں وہ میرے لیے باعثِ اذیت ہیں ۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ مجھے اپنی اذیت کا مداوا کرنے کا نہ ہی تو طریقہ آتا ہے اور نہ ہی یہ میرے بس کی بات ہے ۔ اور جانے کب تک میں ان سوالوں کی اذیت میں مبتلا رہوں گا تا آں کہ موت مجھے آ کر اس اذیت سے رہائی دے گی ۔
loading...