جمہوریت کا تھیٹر

تیسری دنیا ایک کشکول ہے جس میں جمہور کے نام پر بھیک مانگی جاتی ہے اور بھیک کا یہ اندوختہ سیاسی اشرافیہ کی وہ جمع پونجی ہوتی ہے جس پر وہ اپنی سرمایہ داری کی جعلی عمارت تعمیر کرتے ہیں اور اس عمارت کو کھڑا رکھنے کے لیے وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے آگے جمہور کو گروی رکھ کر اپنی ذاتی آمدنی میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر مسلمان ملکوں کے اقتصادی اور سماجی نظام میں کچھ بھی تو اسلام کا نہیں ہے ۔ اس عہد کا مسلمان خلافت کے نظامِ ریاست کی الف بے تک نہیں جانتا اور تُرکِ ناداں کے خلافت کی قبا چاک کرنے بعد خلافت صرف اور صرف ڈاکٹر اسرار احمد کی تقریروں میں نظر آتی تھی ، مگر وہ تقریریں بھی اب قصہ ء پارینہ بن چکی ہیں ۔ ہمارے یہاں جس قسم کی جمہوریت رائج ہے اُس کی مناسب ترین تعریف شاید یہی ممکن ہے کہ : Government of the political elite, for the political elite and by the political elite.، ہمارے یہاں کا یہ نظام ہمارا موروثی ریاستی نظام ہے ، جس میں بادشا ہ یا حکمرانِ مطلق ملک کے مختلف حصوں اور صوبوں میں با اثر لوگوں کو جاگیریں اور زمینیں بخشتے اور ان کے ذریعے لوگوں کی اطاعت خریدتے ۔ ملک چھوٹے بڑے حجم کے تعلقوں اور جاگیروں میں تقسیم تھا جنہیں ریاستوں کا نام دیا تھا جہاں نواب حکمران تھے ۔ مغل شاہی کی وفات کے بعد کمپنی بہادر نے بھی یہ کام جاری رکھا اور اپنے چاپلوسوں ، خدمت گاروں اور حاشیہ برداروں کو سہولیات ، مراعات اور خطابات دے کر اپنے اقتدار کو مضبوط کیا ۔ میں نے جب کبھی اس بات پر غور کیا کہ آخر ہم غریبوں کی غُلامی کی تقدیر کس لیے لکھی گئی ہے ؟ تو مجھے کتاب اللہ سے رہنمائی ملی ۔ ۱ ۔ جس کو تو چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے ۔ آلِ عمران ۔26 ۲ ۔ زمین تو خدا کی ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اُس کا مالک بناتا ہے ۔ الاعراف ۔ ۱۲۸ ۳ ۔ پھر اُس کے بعد ہم نے تم کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو ۔ یونس ۔ 14 تو کیا یہ خُدا ہی ہے جو حکومت اور اقتدار دیتا ہے ۔ اور کیا یہ خدا ہی ہے جو ظالموں کو مظلوموں پر مسلط کردیتا ہے ۔کیا یہ خُدا ہی ہے جو کربلا میں یزید کو فتح سے ہمکنار کرتا ہے ،کیا وہی جنرل ایوب ، یحیٰ ، ضیا اور مشرف کو نازل کرتا ہے ، تاکہ وہ سول جمہوریت کو سستانے کا موقع فراہم کر سکیں ۔ کیا وہی ہے جس کے حکم سے انگریز بہادر کمپنی بہادر کی وردی پہن کر کچھوے کی چال چلتا راجوں ، مہاراجوں اور نوابوں کو اپنے قبضہ ء قدرت میں جکڑ لیتا ہے ؟ میں نہیں جانتا لیکن مجھے اتنا پتہ ہے کہ انگریز کی غلامی کے شر میں یہ خیر پنہاں تھی کہ اس خطے پر علم اور تحقیق کے دروازے کھلے اور لوگوں کی زندگی کی نئی راہیں دریافت کرنے کا حوصلہ ملا ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہم نے اسلامی تعلیمات سے استفادہ کر کے وہ معاشرت ہی تعمیر کی جو قانون کے پابند صادق اور امین لوگوں کی اُمت ہوتی اور نہ ہی ہم نے اُس علمی تحقیق کا اعادہ کیا جو کبھی بغداد کے دار الحکمت کا طرہ ء امتیاز تھا ۔ ہم ابھی تک غلامی کی اس نفسیاتی کیفیت میں ہیں جس میں ہم ہر شعبہ ء زندگی میں مغرب کی تقلید کرتے ہیں ۔ لباس بھی مغربی پہنتے ہیں ، رہن سہن بھی مغربی سٹائل کا ہے ، مارکس اور اینگلز کی تحریروں میں پاکستان کا روشن مستقبل تلاش کرتے ہیں ۔ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں مگر رہتے امریکہ میں ہی ہیں ۔ مغرب پر تنقید کرتے ہیں مگر مغربی ملکوں میں املاک خریدتے ہیں ، وہیں کاروبار کرتے ہیں اور انہی کے ہسپتالوں میں مرتے ہیں مگر دفن پاکستان میں ہوتے ہیں ۔ انہی کے قرضوں پر اپنی جمہوریت کی مشین بھی چلاتے ہیں اور پھر گالی بھی مغرب کو ہی دیتے ہیں اور اپنی ساری بیماریوں کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہراتے ہیں مگر اپنی ہر خطا ، خواہ وہ قتل ہی کیوں نہ ہو ، بڑی دریا دلی اور فیاضی سے معاف کردیتے ہیں ۔ اس وقت سوشل میڈیا پر فوٹو شاپ اور گالی گلوچ سے ہم نے جو جمہوری گند ڈال رکھا ہے اور آزادی اظہار کے نام پر جو بیہودگی جاری ہے اُس کو پیشِ نظر رکھ کر یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستانی مسلمان نے جموریت کی آڑ میں اسلامی قدروں کا جامہ ء احرام اتار نے کے بعد زیر جامے سے بھی فراغت پا لی ہے اور اب سائیبر تھیٹر کے اسٹیج پر ننگے ناچ رہے ہیں اور اس بیہودگی کو جمہوریت کا حُسن قرار دیا جا رہا ہے ۔ اور کچھ ایسی جمہوریت کہ اگر یہ جمہوریت اپنی صورت کسی آئینے میں دیکھ لے تو شرم کے مارے مر ہی جائے ۔ یہ ایسی صورتِ حال ہے جسے پاکستانی معاشرت کی اخلاقی موت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ پورا میڈیا چور چور کی دہائی دے رہا ہے ۔ ایک دوسرے کے گریبان پکڑے جا رہے ہیں ۔ کرادر کشی کی جا رہی ہے ۔ کردار کشی موت کا عمل ہے جس میں زندگی کا مضحکہ اُڑایا جاتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اُن لوگوں کے درمیان ہو رہا ہے جو سیاست اور صحافت سے براہِ راست وابستہ ہیں اور خیر سے کالر پر دانشوری کے تمغے سجائے پھرتے ہیں ۔ اور اب تو ایک نیا لطیفہ بھی ایجاد ہو چکا کہ حزبِ اختلاف نے حکومتی وزرا پر جادو کرنا شروع کردیا ہے اور فیض چوہان کے ہاں سے ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں ، جب کہ حزبِ اختلاف کے کیمپ سے آوزہ لگ رہا ہے کہ ہڈی نکلی نہیں ڈالی گئی ہے ۔ قصہ کوتاہ یہ کہ ایک طوفانِ بد تمیزی ہے جو جمہوریت کے نام پر برپا ہے ۔ واہ ری جمہوریت ! تیرے صدقے جاؤں ۔
loading...