اقتدار کے بیمار

اور اب ایک نیا نعرہ ۔ مدینے کی ریاست ۔ لیکن پاکستان کا مطلب لالہ الاللہ کے نعرے اور مدینے کی ریاست کے نعرے میں فرق کیا ہے ۔ دونوں نعرے ہیں ۔ دونوں کے لگانے والے پاکستان کے وہ سیاستدان ہیں جو پچھلے ستر برس سے جمہوریت کی لکیر پیٹتے آ رہے ہیں لیکن جمہوریت کہیں دکھائی نہیں دی ۔وہ جمہوریت جو پاکستان کے عام آدمی کو بنیادی حقوق کے حصول کی ضمانت دے ، ستر برس کے بعد بھی خواب ہے ۔ ہمارا نظریاتی المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں فلاحِ عامہ کے منصوبوں کو خوابوں کا نام دیا گیا ہے اور یہ وہ خواب ہیں جن کی تعبیر نہیں ہوتی ۔ مثلاً پاکستان کو علامہ اقبال کا خواب ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ خواب جو اپنی تعبیر کی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا ۔ اور اب تو بنگلہ دیش کے وجود میں آ نے کی بات کو سن کر ، پڑھ کر اور سوچ کر شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ کیا ہم من حیث القوم ایک وطن تعمیر کر کے اُسے آئین اور قانون کے مطابق چلا سکنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے مگر سیاسی اور نظریاتی ٹر ٹر بہت کرتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی کے بجائے انا کی حکمرانی ے قائل ہیں ۔ ہماری سیاسی انا ہماری (میں) ہے اور ہم میں کو قانون پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ہمارے نو باختہ وزیر اعظم جو ملک میں تبدیلی کے نقیب اور ایک نئے پاکستان کے معمار ہونے کے دعویدار ہیں ، جب قانون کی زبان کے بجائے میں کی بولی بولتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا تو وہ ایک جھگڑالو سا بچہ لگتے ہیں جو قانون کی حکمرانی کے بجائے میں کی حکمرانی کی مسند پر بیٹھ کر بول رہا ہو ۔ سو دنوں میں ایک ہزار نوکریوں اور ہزاروں لوگوں کو رہائشی سہولتیں بہم پہچانے کا خواب بھی شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکا بلکہ ایک مضحکہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ملک بدستور قرض پر چل رہا ہے اور پورا معاشی ڈھانچہ گروی پڑا ہوا ہے جس کو چھڑانے کے لیے ہونے والی کاروائی نتیجہ خیز اور موثر ہونے کے اشارات مرتب کرتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ آخر کیا ہو رہا ہے ؟ شاید کوئی نہیں جانتا ۔ پی ٹی آئی بھی نہیں جانتی ۔ ملک کی نئی قیادت نہیں جانتی اور نہ ہی عمران خان جانتے ہیں ۔ قوم اللہ کے آسرے پر زندگی کے مصائب کی چکی پیس رہی ہے ۔ اور دل ہی دل میں مہنگائی ، پانی اور بجلی کی قلت اور تعلیمی اور طبی سہولتوں کے فقدان کا مرثیہ پڑھ رہی ہے ۔ مدینے کی ریاست کی بات ہوتی ہے تو اس عجز اور مسکنی کا خیال آتا ہے جو مدینے کی ریاست کے شہریوں کا طرہ ء امتیاز تھا ۔ مدینے کی ریاست کے بانی پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ حشر کے روز اُن کا انجام مسکینوں کے ساتھ کرے لیکن مسکینی کی زبان مدینے کی ریاست کے نئے داعیان کو نہیں آتی ۔ وہ انا کی زبان بولتے ہیں ۔ سخت کلامی کرتے ہیں ۔ دوسروں کی بے عزتی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے اور نہ ہی اُنہیں محبت اور درد مندی کی زبان ہی آتی ہے ۔ لگتا ہے یہ لوگ بھی خوابوں کے سیاسی کردار ہیں جو نیند میں حکومت کر رہے ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ مدینے کی ریاست بنانے کے لیے مدینے کے شہریوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ شہری جو ابوبکر ، عمر، عثمان ، علی ، ابو ذر غفاری ، بلال حبشی ، سلمان فارسی ، اور صہیب رومی جیسے ہوں تو وہ شہری تہذیب وجود میں آتی ہے جو مضبوط اداروں کے قیام کا بیڑہ اُٹھا سکتی ہے ۔ جب کہ یہ کام عثمان بزدار ، فواد چودھری ، علیم خان اور فیاض چوہان جیسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جو اپنی تلخ نوائی سے حزبِ اختلاف کی صفوں میں برپا شکست کی بے چینی اور عداوت کی جلتی پر تیل چھڑکتے رہتے ہیں ۔ حکومت کرنے کے لیے ایسے مدبر ، معاملہ فہم اور خوش بیان لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی جادو بیانی سے عداوت کی آگ کو بجھا سکے ۔ اقبال نے قومی رہنما کے اوصاف گنواتے ہوئے کہا ہے : نگاہ بلند ، سُخن دل نوا ز ، جاں پُر سوز یہی ہے رختِ سفر میری کارواں کے لیے لیکن شاید عمران خان کے پاس دلنواز سُخن کی پونجی نہیں ہے اور وہ قومی اسمبلی میں بیٹھ کر اپنی آواز کا جادو حزبِ مخالف کے اراکین پر نہیں چلا سکتے ۔ اُنہیں اپنی سیاسی بصیرت اور سیاسی استدلال کے ذریعے نئے پاکستان کے تصور کی وضاحت کر کے حزبِ اختلاف کے اراکین کو تسخیر کرنے کا فن نہیں آیا ۔ وہ جب اسمبلی میں آئے تو ٹک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم کی زندہ مثال تھے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی جادو بیانی سے اپنے نئے پاکستان کے فلسفے کی تفسیر اسمبلی میں اس طرح کرتے کہ نو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے وڈیروں کو سانپ سونگھ جاتا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے ۔ میں ذاتی طور پر پی ٹی آئی یا عمران خان کا محاسب نہیں ہوں ۔ میری تو ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ نئے لوگ بر سرِ اقتدار آ کر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالیں اور اس ملک کے دکھی عوام کے دکھ دور کریں ۔ روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم اور طبی سہولتوں کا جو وعدہ پیپلز پارٹی اپنے طویل دورِ قتدار میں پورا نہیں کر سکی وہ کام یہ نئی حکومت کرے اور پاکستان کو سچ مچ کی سول سوسائٹی بنا دے جس کے مضبوط اداروں کے رعب اور دبدبے کی تاب عسکری ادارے بھی نہ لا سکیں ۔ اور جی ایچ کیو کے جرنیل اور افسر اپنی بیرکوں میں بیٹھ کر اپنا کام کریں اور اقتدار کے ایوانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ، مگر ایسا ہونے کے آثار تک دکھائی نہیں دیتے ۔ ملک کے سول ادارے اتنے کمزور اور خصی ہیں کہ وہ رینجرز کے بغیر شہر میں اپنی جان سلامت نہیں رکھ سکتے ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان برسوں میں پولیس کا ادارہ اتنا موثر، منظم ، با وقار اور قانون کے کیل کانٹے سے لیس ہو کر قانون کے نفاذ کے مورچے اس طرح سنبھالتا کہ کسی ہتھیار کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم اپنے سول اداروں کو وہ قانونی اور اخلاقی تربیت نہیں دے سکے جو انہیں اور ان کے طرزِ عمل کو مہذب بنا سکتی ، ہماری اوقات یہ ہے کہ ہم تو وردی کی تبدیلی سے پولیس میں تبدیلی لانے کے در پے ہیں اور یہی ہماری وہ بچگانہ قومی پالیسی ہے جس نے ستر سال کی بوڑھی قوم کو بالغ ہی نہیں ہونے دیا ۔ تبدیلی کا نعرہ یقیناً بہت دل کش اور دلآویز ہے مگر اس نعرے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جس عزم و ہمت ، تدبر اور تفکر کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ شاید ہمارے سیاسی طالع آزماؤں کے پاس نہیں ہے اور ہم نہ جانے مزید کتنے ستر برس ایسی ہی عبوری کیفیت میں گزار دیں گے ۔ اور لگتا ہے ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں انیس سو سنتالیس میں تھے ۔ اور پس منظر میں فیض صاحب کی آواز سناٗی دے رہی ہے : یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
loading...