لفظ کی بے حُرمتی

لفظ خُدا کی ایجاد ہے اور اُس کو زبان و لب سے ادا کرنا عبادت لیکن بدقسمتی سے ہمارے تمام سماجی شعبوں میں لفظ کی بے حُرمتی کی جا رہی ہے اور کلماتِ پاکیزہ کو کلماتِ خبیثہ سے بدلا جا رہا ہے ۔ خُدا نے البقرہ میں بتایا ہے کہ اُس نے آدم کو اسماء سکھائے ، سارے ناؤنز یاد کرائے اور سورہ ء ا لرحمان میں واضح کیا کہ اُس نے بیان کرنا بھی سکھایا لیکن خُدا کے شاگردوں نے جس طرح لفظوں کو اُلٹنا پلٹنا اور مسخ کرنا شروع کیا وہ لفظ کے حق میں کوئی نیک فال نہیں تھی اور نہ ہے ۔ اسماء کے علم سے لے کر بیان کے ہُنر تک ہم لوگ کئی کئی طرح سے بولتے ہیں ۔ ایک بولنا خُود کلامی ہے ۔ اپنے آپ سے باتیں کرنا یعنی سوچنا ۔ اور پھر خود سے باتیں کرتے ہوئے اُنہیں سُننا بھی ہوتا ہے لیکن ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں اور خود کلامی کو آدھا چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر ہم قلم کی زبان سے بولتے ہیں تو کاغذ صریرِ خامہ سے گنگنانے لگتا ہے اور غالب کو یہ جبریل کے پروں کی آواز لگی اور اُس نے اس آواز کو نوائے سروش کہا ۔ اور اب کمپیوٹر کے زمانے میں کلیدی رسم الخط میں انگلیوں سے لکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ہمار ی دوطرفہ گفتگو کے قرینے ہیں جن میں میڈیا سرفہرست ہے ، اگرچہ خواتین کی باہمی گفتگو کو اس پر فوقیت حاصل ہے مگر وہ آف دی ریکارڈ رہتی ہے ۔ میڈیا کے ٹاک شوز میں لفظوں سے گفتگو کا پیٹ بھرنے والے بیشتر لوگ غیر مہذب نظر آتے ہیں جو بالعموم کلماتِ خبیثہ سے لفظ کی بے حُرمتی کرتے ہیں ۔ ٹی وی پر سیاسی بد تمیزوں کی بد زبانیاں سن کر میرا دھیان ہمیشہ قرآن کی سورہ ء الحجرات کی طرف جاتا ہے اور مجھے یاد آتا ہے ۔ کیا یاد آتا ہے ۔ آپ بھی میری یاد میں شریک ہو لیجیے : ؔ ( مومنو ! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اُڑائے ممکن ہے کہ وہ لوگ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں عورتوں کی ہنسی اُڑائیں ، ممکن ہے کہ وہ اُن سے اچھی ہوں ۔ اور ایک دوسرے کو بُرے القاب نہ دو اور ایک دوسرے کے بُرے نام رکھو ۔ ) الحجرات ۔ ۱۱ جب میں سیاسی اکابرین کے مونہہ سے ایک نعبد و ایاک نستعین بار بار سُنتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ قرآن اس سے آگے بھی ہے جس میں یہ حکم بھی اُتارا گیا ہے ( قولو للناس حُسنا ) کہ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کرو مگر اس کے بجائے پاکستان کا یہ مسلمان سیاستدان خُدا کی حکم عدولی اور اُس کے لفظ کی بے حُرمتی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہماری تربیتِ نفس کس مذہبی ماحول میں ہوئی ہے ؟ پاکستان میں تو گلی گلی اور محلے محلے میں ایک یا زیادہ مسجدیں ہیں ، ملک میں ہزارہا مدرسے ہیں جہاں شریعت اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ کیا ان مذہبی درس گاہوں اور تربیت گاہوں سے ایسی تربیتی اور تہذیبی ہوا آتی ہے جو ہمارے لسانی کلچر کو سدھا نہیں سکتی اور ہمارے ایوان کوڑا کلچر کا گہوارہ بنتے چلے جارہے ہیں جہاں ہر طرف الزامات ، بہتان تراشی اور دشنام طرازی کے ڈھیر لگے ہیں ۔ اور اب تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان میں نماز کو سرکاری سطح پر نافذ کیا جا رہا ہے اور میں نے کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ شاباش مگر یہ کسی نے نہیں بتایا کہ جب مسلمان سرکاری دفاتر میں نماز پڑھیں گے تو عیسائی ، ہندو ، پارسی ، سکھ اور ملحد کیا کریں گے ؟ اُن کی مذہبی ڈیوٹی کیا ہوگی ۔ کیا وہ نماز کے دوران پاکستانی شہریت سے دستبردار سمجھے جائیں گے ؟ یہ سرکاری نماز کوئی پہلی بار نافذ نہیں ہو رہی ۔ اس سے پہلے ہمارے ملت اسلامیہ کے پیارے اور اوجھڑی کیمپ کے روشن ستارے جنرل محمد ضیا الحق کی سربراہی میں تجربہ ہوچکا ہے جس میں سرکاری نماز کا نفاذ ہوا تھا ۔کیا ان لوگوں کو جو اس قسم کی حرکتوں سے عوام میں مقبول ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، معلوم نہیں کہ عوام میں مقبول ہونے کے لیے اشیائے ضرورت کی ارزانی ، صاف پانی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی موثر ترین اقدامات ہوسکتے ہیں کیونکہ نماز بندے اور خُدا کا معاملہ ہے عوام اور حکمران کا نہیں ۔ اور پھر نماز کو سرکاری حکمنامے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ پہلے سے ہی سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں میں نافذ ہے اور خُدائی حکم پر حکم ، مکھی پر مکھی مارنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔نماز تو ہر حالت میں ، ہرصورت میں اور ہر جگہ اور ہرگھر میں فرض ہے مگر ہمارے یہاں فرض کی جگہ تکلف نے لے لی ہے ۔ ہم نماز کا تکلف کرتے ہیں ، اسے فرض سمجھ کرا دا نہیں کرتے کیونکہ اگر نماز فرض سمجھ کر ادا کی جائے تو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ایک ایسی اعلیٰ ، ارفع ، مقدس اور پاکیزہ ڈسپلن ہے جو نمازی کو ہر طرح کی برائی اور بے حیائی سے پاک کر کے فرشتوں سے بھی افضل بنا دیتی ہے ۔ حالی کہ گئے ہیں : فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ اور اِس کی گواہی کتاب اللہ کی اس آیت میں مرقوم ہے جس میں کہا گیا ہے ( ان الصلوٰۃ تنہا عن الفحشا والمنکر) کہ نماز اپنے نمازی کو ہر برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے ۔ پاکستانی معاشرت کو جو لا الہ الاللہ کے ستونوں پر کھڑی بتائی جاتی ہے ، دور سے دیکھیں یا قریب سے ، ایک ہولناک تاثر مرتب کرتی ہے ، جہاں چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں ریب یعنی جنسی ہوس پرستی اور درندگی کے بعد بڑی سفاکی سے موت کی نیند سُلا دیے جاتے ہیں ۔ بھتے خوری کی پرچیاں نکلتی ہیں ، مزدور زندہ جلا دیے جاتے ہیں ، دن دیہاڑے ڈاکہ زنی اور لوٹ مار ہوتی ہے مگر جہاں نماز کی حقیقی اور قرارِ واقعی ڈسپلن موجود ہو وہاں ایسے مکروہ افعال شاذ ہی ممکن ہیں ۔ چنانچہ پچھلے ستر برس سے ہم نے نماز کا جو تکلف کیا ہوا ہے ، اُس کا صرف ایک ہی مصرف ہے کہ دو چار کروڑ ملا ، مُفتی ، قاری ، حفاظ اور معلم اپنی روزی کما رہے ہیں اور خیر سے بہت تمول کے ساتھ بسر کر رہے ہیں بلکہ کچھ پیش اماموں نے تو مسجد کی کمائی سے شاپنگ پلازے تک کھڑے کر لیے ہیں ۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں کہ وہ اُمت کا اخلاق اور اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔ صلوٰۃ یعنی نماز تو طور کی وہ آگ ہے جو جو وجود کے اندر پڑے ہوئے منافقت ، حسد ، لالچ ، نفرت ، جھوٹ اور بے ایمانی کے کوڑا کچرے کے انباروں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اور تن من ایسا پاکیزہ ہو جاتا ہے جیسے وادی ء فاراں میں بہار کی صبح ۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں سب کچھ کمرشلائز ہو چکا ہے اور تھوڑے معاوضے کے بدلے خُدا کی نشانیاں بک رہی ہیں ۔ مگر تا بہ کے؟
loading...