کھنڈرات میں نوحہ

جُگتیں سُنتے ، ایک دوسرے کے لتّے لیتے ، ہُلڑ مچاتے ، احتجاجی دھرنے دیتے ، اپنا بنیادی حق مانگتے ، دشنام طرازی اور الزام تراشی کرتے ایک سال اور بیت گیا ۔ اٹھارہ سالہ دوشیزہ اُنیس کی ہو گئی مگر چہرے کو غور سے دیکھو تو وہی نین نقش ، وہی لقوہ زدہ دہن ، وہی بہتی ہوئی ناک اور ٹپ ٹپ برستی ٓ آنکھیں ، وہی چیتھڑے پہنے کوڑے کے ڈھیر سے رزق چنتے بچے چیلیں اور کُتّے اور کچرا کُنڈی کی فضا میں اُڑتی نیا سال مبارک کی پتنگیں اور گُڈیاں ، جن کی ڈوریں بچوں کے گلے کاٹتی ہیں ۔ جی ہاں ، یہ سب تو جانے کب سے ہے مگر رسماً مبارک باد کہنے میں کیا مضائقہ ہے ۔ نیا سال مبارک ہو ہمارے رویے ہماری عادت ہیں ۔ عادت جو انسان کو مشین بناتی ہے اور مشینیں اوور ہالنگ اور گریسنگ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر خراب رہتی ہیں ، سوائے ٹی وی مشینوں کے جو دن رات بے تکان چلتی ہیں ، ہذیان اُگلتی ہیں اور غلط تلفظات کے ساتھ کُفر بکتی رہتی ہیں ۔ میرے سامنے ٹی وی کی کھڑکی کھلی ہے اور میں ستر سالہ بُڈھے کے چہرے کی جھریاں دیکھ رہا ہوں جس پر آئی ایم ایف کی امپورٹڈ کریم تھُپی ہوئی ہے ۔ اور وہ اپنی اداس اور یاس انگیز نظروں سے اپنے بوسیدہ لباس کے سبز و سفید کو پہچاننے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ کسی ذہنی مرض کے ہسپتال کا منظر ہے جہاں کچھ نیم حکیم قسم کے باتونی اور بڑبولے ستر سالوں کو سو دنوں کے باٹ سے تولنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر اپنا حسان نہ چلتے دیکھ کر جز بز ہوتے ہیں اور ہذیان بکنے لگتے ہیں ۔ یہاں بادی ا ا لنظر میں ہر شخص انصاف مانگ رہا ہے لیکن اپنی بساط بھر انصاف دینا نہیں چاہتا ۔ ( ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہوسکتا ہے اور انصاف کا بدلہ انصاف کے سوا کیا ۔ لیکن ہم لوگ جو اپنے رشتوں ناتوں کو روزمرہ انصاف نہیں دیتے ، ہم جو بیٹے اور بیٹی کے درمیان غیر شرعی امتیاز برتتے ہیں ، باپ کی جائداد میں سے بہنوں کے حق غصب کر کے حرام کھانے کے عادی ہیں ، جو جہیز کے نام پر کسی باپ کی عمر بھر کی کمائی اُس کی بیٹی سمیت ہڑپ کرنا چاہتے ہیں ، کس مونہہ سے انصاف کی بات کرتے ہیں ۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ جس طرح کُتّے کو گھی ہضم نہیں ہوتا اسی طرح بے انصاف کو انصاف ہضم نہیں ہوتا ۔ ہم نے پچھلے ستر برس میں اداروں کے نام پر جو کھنڈرات کھڑے کیے ہیں وہ ادارے کے تصور پر تُف ہیں اور ہماری بد نظمی ، بیڈ گورننس ، قانون شکنی اور من حیث القوم ہماری بے حسی کا نوحہ ہیں ۔ ادارے فرد سے بنتے ہیں اور یہاں ہر طبقاتی اور محکمہ جاتی سطح پر نامنصفی ، بے ایمانی ، غیر ذمہ داری اور کرپشن کا روبوٹ ہویدا ہو وہاں قرآنِ کریم کے اُس نُکتہ ء ایمان کی توقیر کہاں ممکن ہے جس میں کہا گیا کہ : ( لایغییر ما بقوم حتیٰ یغییر ما بانفسھم ) کہ کسی قوم میں ( جو سب اداروں کا مادر ادارہ ہے) کوئی تبدیلی ممکن نہیں جب تک ایک ایک فرد تبدیل نہ ہو ۔ پاکستان نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے ایک نئے پاکستانی کے ظہور کا تصور تھا جسے پرانے روایتی ہندستانی نے جو انڈین سول سروس اور برطانوی فوجی طاغوت کا تربیت یافتہ تھا ، ہائی جیک کر لیا اور عدالتِ عظمیٰ کے ایوان میں جسٹس منیر کے ہاتھوں قتل کروا دیا ۔ جمہوریت مر گئی ، نظریہ پاکستان یتیم ہوگیا اور پھر ایک ایک کر کے فاتحین آنا شروع ہو گئے ۔ یہی دیکھ کر استاد دامن رو دیے تھے اور بولے : سُن او بھائیان ، جاندیا راہیا گیا ایوب تے آیا یحیٰ اور پھر ضیا اور سید مشرف آئے اور اپنے ساتھ نواز شریف اور چودھری برادران کو لائے اور اس طرح ہم پر ایک ایسی طرز، حکومت مسلط ہوئی جو نہ تذکیر میں تھی نہ تانیث میں ۔ بالکل تیسری جنس کی قسم کی ایجاد تھی ۔ انگریزی میں جو ہماری سرکاری زبان ہے اس طرزِ حکومت کا بیان یوں ممکن ہے : Government of the rulers , for the rulers and by the rulers. اور اس طرزِ حکومت میں ، حکمرانوں کی چھتر چھاؤں میں کون سا ادارہ ہے جو ثابت و سالم ہے البتہ اس عہد میں پیر سید مشرف کی دعا برکت سے میڈیا کی صنعت ایسی پھلے پھولی ہے اور ایسے ایسے جغادری اینکر اینکرنیاں ، تجزیہ کار اور تجزیہ کارائیں عالم غیب سے وجود میں آئی ہیں کہ واہ جرنیل تیری قدرت کا نعرہ لگانے کو جی چاہتا ہے ۔ اور ہماری چتکبی اور ماورائے جنس جمہوریت اسی کے دم سے قائم ہے ۔ یہاں ان لوگوں کا طوطی بولتا ہے جو جو کوے کو سفید ، بکری کو شیر ، گدھے کو دنبہ اور ہنس کو سیاہ فام کوا قرار دینے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قلم اور زبان سے ارب پتی ہوگئے ہیں ۔ لیکن اب اُن پر بھی کڑا وقت ہے اور وہ بھی اس لا نظام کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جس نے اُنہیں پونجا شاہ سے ارب گل بنایا تھا ۔ وہ ان سب کی خیر مانگ رہے ہیں جنہوں نے انہیں پرِ کاہ سے میڈیا شاہ بنایا تھا ۔ یہ سب کے سب وہ حاتم طائی ہیں جن کے خزانوں میں کنجوسی کے سکے سب سے زیادہ کھنکتے ہیں جن کی چھن چھن میں کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دیتی ۔ اُن بچوں اور بچیوں کی چیخیں تک نہیں جن کو جنسی زیادتی کے بعد موت کے گٹر میں پھینک دیا جاتا ہے اور جرم پولیس گردی کا مونہہ چِڑا تا رہتا ہے ۔ اسمبلیوں میں جوتیوں میں دال بٹتی ہے اور اسمبلی جُگت بازوں کا اکھاڑہ لگنے لگتی ہے ۔ کیا ایسے ہوتے ہیں قومی ادارے؟ یہ ادارے نہیں کھنڈرات ہیں ، جن کا میں نوحہ گر ہوں : نیا سال آ گیا لیکن نیا پن آ نہیں پایا مبارک باد لکھتا ہوں تو مجھ کو شرم آتی ہے ۔
loading...