کرسمس میں کاروان کی واپسی

اور میں نے کاروان کی واپسی کا صبر سے انتظار کیا ۔ تعطّل کے دن جُوں تُوں کر کے کاٹ ہی لیے اور اب اس برس کے آخری مہینے میں میرا قلم لکھنے کے لیے تیار اور میری زبان آزاد ہے ۔ مجھے اور قارئین کو قلم کار کی یہ واپسی اور کاروان کی بحالی مبارک ہو ۔ کاروان کے نئے اور پرانے قارئین کو میرا مودبانہ سلام ! میں ان دنوں کرسمس کے ماحول اور مذہب سے محبت کے موسم میں ہوں ۔ میرا شہر درامن روشنیوں اور رنگوں میں لپٹی دُلہن بنا ہوا ہے ۔ دسمبر میں ۲۵ تاریخ کا دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت ہے یا نہیں ، میں نہیں جانتا ، مگر یہ دن اُنہی سے منسوب ہے ۔ چنانچہ میرے لیے یہ دن میلادِ عیسیٰ ابنِ مریم ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، اللہ کے وہ رسول ہیں جن کا اپنا اور جن کی کتاب انجیلِ مقدس کا نام قرآنِ کریم میں متعدد بار آیا ہے ۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہ السلام کے نام سے پوری ایک سورت اللہ کی کتاب کا روشن باب ہے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو آدمِ ثانی بھی کہا گیا ہے ۔ قرآنِ کریم چونکہ اُم الکتاب ہے ، ساری کتابوں کی ماں ہے ، اس لیے تمام صحیفے اُس کے بچوں کی طرح ہیں ، جنہیں وہ اپنے پروں میں لیے اُن کی حفاظت کرتی ہے ۔ چنانچہ اس ضمن میں مجھے پڑھایا گیا ہے کہ : ؔ ( حوالہ) اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ، اُن کے بعد یکے بعد دیگرے پیغمبر آتے رہے اور عیسیٰ ابنِ مریم کو کھلے نشانات دیے اور روح القدس سے اُن کی مدد کی ۔ البقر ۔ ۸۷ ۔ ہم سب جو ابراہیم حنیف علیہ السلام کی ملت میں ہیں ، سب ایک ہی رستے کے مسافر ہیں ۔ ( البقر ۱۳۵ ) اسی ضمن میں قرآن کا بیان ہے کہ سب لوگوں کا مذہب ایک ہی تھا لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے تو خُدا نے اُن کی طرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور اُن پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تا کہ اختلافی امور میں فیصلہ کر دے ۔ ( البقر ۲۱۳) قصہ کوتاہ قرآنِ کریم تمام پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اللہ نے تورات اور انجیل بھی نازل کی ۔ ( آلِ عمران ۔ ۳ ) یہ ہیں ہدایت کے وہ روشن چراغ جن کی روشنی میں نبی ء آخر الزماں ﷺ کے ساتھ مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چہرا بھی نظر آ تا ہے ۔ اور میرے ایمان کی تجدید کرتا ہے کہ میں بطور مسلمان اللہ ، اُس کے تمام فرشتوں ، اُس کی بھیجی ہوئی ساری کتابوں اور اُس کے تمام رسولوں ، تعداد میں وہ جتنے بھی ہیں ، ایمان لایا ہوں ۔ اور میں عہد کرتا ہوں کہ میں اللہ کے تمام رسولوں کو اُس کے فرستادہ تسلیم کرتا ہوں ۔ چنانچہ وہ تمام پیغمبر اسلام کے لیے اجنبی نہیں ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور نہیں بھی ہے مگر قرآن نے اُن کے ہونے کی گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے پیغمبروں کا ہم نے ذکر نہیں بھی کیا ۔ اور میں حبشہ کے عیسائی حکمران نجاشی کو کیسے بھول سکتا ہوں جس نے مسلمانوں کی جماعت کو پناہ دی اور اُنہیں کفارِ مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ۔ کیا ایسے دین کے ماننے والوں کے عقائد اور شعائر سے انکار میرے لیے مناسب ہو گا ؟ ہر گز نہیں ۔ اگر چہ میں عیسی علیہ السلام کو خُدا کا بیٹا نہیں مان سکتا ، مگر وہ اُن پیغمبروں میں سے جلیل ترین ہیں جنہوں نے عالمِ انسانیت تک خُدا کی وہ روشنی پہنچائی ، جو آج بھی دنیا بھر کے سارے کلیساؤ ں کو منور کر رہی ہے ۔ یہ روشنی جتنی کسی عیسائی کی ہے اُتنی ہی میری بھی ہے کیونکہ میں تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کا اقرار کر چکا ہوں ۔ اسی لیے ناروے میں ، جو میرا دوسرا وطن ہے ، یول کا جو تہوار منایا جا رہا ہے ، وہ میرے دوسرے وطن کا ملی دن ہے اور میں ملتِ ابراہیم سے اپنے رشتے کے احترام میں اُس کو اپنا تہوار مانتا ہوں ۔ ہاں ، ہاں ، میں کرسمس کو ملتِ عیسوی کا مقدس دن سمجھتا ہوں ، اور اُس کے ماننے اور اس کی رسمیں تازہ کرنے والوں کو اپنا احترام اور محبت پیش کرتا ہوں ۔ اب آخر میں ایک پنجابی نظم آپ سب کے لیے ، جو چند برس پہلے شائع ہوئی تھی : مُرشد رنگ فرید ورگا ، کبیر ورگا اوہ میرے اُستاد ، پیر ورگا اوہ سِکھ ، مسلمان ، بُدھ ، عیسائی خُدا دے ہتھ دی لکیر ورگا محبتاں دی صداواں لاندا اوہ نُور والے فقیر اورگا اور چاننڑاں وچ اُچیچا چاننڑ صداقتاں دے سفیر ورگا اوہ سچّا درویش مست مولا نِرول ماکھی تے شیر ورگا خُدا دی بولی دا پُورا غالب اُداسیاں وچ اوہ میر ورگا تُوں لبھ لے مسعود اپنا مُرشد بشارتاں دے نذیر ورگا
loading...