دوستوں سے گلہ گزاری

واں پہ رہتا ہوں جہاں برف پڑی ہوتی ہے
ہر گھڑی میری جُدائی کی گھڑی ہوتی ہے
ایک وکیل صاحب سے ، جو لندن میں رہتے ہیں ، میری الیکٹرانک قلمی دوستی ہے ۔ وہ صرف وکیل ہی نہیں ، کالم نگار بھی ہیں اور زندگی کے اداکار بھی ۔ وہ سیاسی پناہ کے طالبوں کو قانونی مدد فراہم کرتے ہیں اور اُن کو برطانیہ میں اقامتی ویزہ دلواتے ہیں ۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ کیا وہ مجھے پاکستان میں سیاسی پناہ دلا سکتے ہیں ، تو اُنہوں نے معذرت کرلی ۔ پاکستان میں صرف کرپشن پناہ دیتی ہے اور خود  موجودہ چیف جسٹس سے پناہ مانگتی ہے ۔

دو  تین برس پہلے میں نے ، اوسلو کے پاکستانی سفارت خانے کے توسط سے ، جب نادرا بی بی کی ایک برانچ یہاں قائم تھی ، اوریجن کارڈ کے لیے درخواست تیار کی اور جب وہ کاغذات قبول کرنے کی باری آئی تو بہت سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے لگی ۔ پاکستان کے پرائمری سکول ، میٹرک  اور ایف اے کے سرٹیفکیٹ ، پنجاب یونی ورسٹی کی ڈگری ، روزنامہ آزاد لاہور میں بطور سب ایڈیٹر کام کرنے کا سرٹیفکیٹ ، جس پر حمید اختر مرحوم کے دستخط ہیں ، پی ٹی وی لاہور اور لاہور ریڈیو کے سٹیشن ڈائریکٹروں کی تحریری اسناد بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئیں۔ لیکن کہا گیا کہ یونین کونسل کا سرٹیفکیٹ لاؤ ۔ عرض کیا کہ 1944 میں کوئی یونین کونسل نہیں تھی ۔ تب برطانوی ہندوستان تھا  اور میں یہاں اس پردیس میں بیٹھ کر سن چوالیس کا سفر نہیں کر سکتا کہ اُس وقت کے پیدائش و اموات کے رجسٹر کی نقل حاصل کر سکوں ۔ تب کہا گیا کہ والدین کی رہائش کا ایڈریس دو ۔ تو عرض کیا کہ وہ چنیوٹ میں حافظ دیوان قبرستان میں اپنی اپنی قبر میں ریتے ہیں ، اُن سے خود جا کر پوچھ لیجیے ۔ پھر کہا گیا کہ سگے بہن یا بھائی کا ایڈرس بتاؤ ۔ عرض کیا کہ دو بہنیں تھیں ، دونوں اب اس دنیا میں نہیں لیکن چچا ، ماموں تایا اور پھوپھی کی اولادیں ہیں  تو جواب ملا کہ وہ اوریجن کارڈ  کے اجرا کی بنیاد نہیں بن سکتے ۔

میں نے ایک صحافی دوست سے ، جو اب صحافت سے تو تائب ہو چکے ہیں ، مگر قلم ( اُنگلی نہیں ) کرنے سے باز نہیں آتے ، مشورہ مانگا تو  بولے مال خرچ کرو ۔ عرض کیا ، میں نہ تو رشوت دینے والوں میں سے ہوں اور نہ لینے والوں کو پسند کرتا ہوں ، تو وہ بولے ، " فیر بھائی جتھے ہیں ، اوتھے ہی رہو " ۔ چنانچہ میں نے اب پاکستان میں سیاسی پناہ کی خواہش ترک کر دی ہے کیونکہ میرا اوریجن آسمان میں ہے ۔ شاہد اسی لیے میں نے اپنے نشہ  سُخن میں کہا تھا:
زمین میرے لیے سیر گاہ ہے مسعود
میں شمس زاد ہوں نیلے گگن میں رہتا ہوں

اور نیلے گگن میں رہنے والوں کی کوئی نیشنلٹی نہیں ہوتی ۔ اس جیسے بیانات پر میرے ایک صحافی دوست نے جو میرے رفیقِ کار تھے ، مجھ پر عمر رسیدگی کے نتیجے کے طور پر مذہبی ہو جانے کا الزام لگا دیا ۔ نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ۔ مذہب تو قانون ہے ۔ سہ آتشہ قانون ۔ جو اللہ کے قانون ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون اور حاکمِ وقت کے قانون سے مل کر ایک تکون بناتا ہے ۔ یہ تکون انسانی معاشرتی زندگی کی بنیاد تکون ہے ۔ یہ فیثا غورث کی مثلث سے بھی زیادہ اہم اور  اساسی ہے ۔ لیکن ہم لوگ قانون سے ماورا لوگ ہیں ۔ جہاں قانون کی پابندی کی بات ہو وہاں ہمیں موت پڑتی ہے لیکن قانون سازی اور قانون کی تشریح و توجیہہ ہماری ذہنی عیاشی کے سامان  ہیں ۔

یہ وہ نشہ ہے جو وکیل کرتا ہے ، ملا کرتا ہے، سیاستدان کرتا ہے اور حکمرانوں کا پالتو دانشور کرتا ہے ۔ بالکل اُن شاعروں کی طرح جو جو اپنی غزلوں میں محبت کی تسبیح پڑھتے ہیں لیکن اُن کی ذاتی زندگیاں نفرتوں کا شاندار ارژنگ ہوتی ہیں ۔ اور میں بھی اُنہی میں سے ایک ہوں ۔
 

loading...