سیاسی بزنس کی تشہیری مہم

اِن دنوں پاکستان کے سارے سیاسی بزنس مین اپنے اپنے سیاسی کاروبار کی تشہیری مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ہر ایک اپنے کھٹے انگوروں کو جنّت کی کھجوریں ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ اپنی پبلسٹی مہم اور کنویسنگ کے دوران  یہ  بزنس مین اپنی سابقہ کارکردگی بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ ستّر برس کے دوران اُن کے ہاتھوں عوام پر غُربت ، بے روزگاری ، تعلیم سے محرومی اور طِبّی سہولتوں کے خوفناک فقدان کے باعث کیا کیا قیامت ٹوٹی ہے اور پولیس کے ہاتھوں جو نوعّیت اور کردار کے اعتبار سے اُن کی نجی پولیس ہے ، قانون کی میّت کس کس طرح سڑکوں پر گھسیٹی گئی ہے ۔

بے چارے عوام عصری یزیدوں کے پانی اور بجلی کے کاغذی منصوبوں کی منہدم عمارت کے ملبے تلے دبے کراہ رہے ہیں، مگر آواز آتی ہے کہ انشا اللہ اگلے پانچ سال میں یہ ملک جنّت بن جائے گا ، یقیناً بنے گا مگر یا تو احمقوں کی جنّت بنے گا یا قانون شکنوں کی ۔ جہاں تک بے چارے عوام کا تعلق ہے وہ کوڑے کے ڈھیروں پر  مکھیوں ، مچھروں ، کھٹملوں اور آوارہ کُتّوں کے درمیان بیٹھے گندے پانی کے مشروب کے ذریعے بیماریاں پی رہے ہیں  اور پوچھ رہے ہیں کہ جو  حکمران ، اپنے عوام کو صاف گلی کوچے نہیں دے سکتے ، پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کر سکتے  اور صرف موٹر وے ، بالائی پُل اور میٹرو بسیں چلانے کو ہی ترقی سمجھتے ہیں اُن کو دماغی علاج کی ضرورت ہے ۔ اور  بنظرِ غائر اِن کی تشہیری مہم  کا جائزہ لیا جائے تو ہم پر کھُلے گا کہ در اصل یہ ساری سیاسی ہاہاکار ، نجی املاک ، بنک بیلنس اور کاروباری مفادات کو بچانے کی غلیظ  مہم ہے ، جسے عوام اور ووٹ کے تقدس کے نام پر چلایا جا رہا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انسانی معاشرہ ایک چھ کونوں والا ستارا ہے ، جو دو مثلثوں کے تانے بانے سے وجود میں آنے والے باہمی اتصال پر مبنی ہے ۔

ایک مثلث جو اوپر سے نیچے کی طرف بنائی جاتی ہے ، مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے تین اضلاع پر مشتمل ہے جب کہ دوسری مثلث کے تین ضلعے فوج ، مذہبی ادارے اور عوام ہیں ۔ اور اگر عوام نہ ہوں تو نہ قطعہ ء ارض کی ضرورت ہے اور نہ ہی اداروں کی ۔ یہ سب کچھ عوام کے دم قدم سے ہے ۔ اور زمین تو اللہ کی ہے جسے قوموں کو لیز پر دیا جاتا ہے اور اس کا کرایہ قوموں کو اپنی بہتر کارکردگی ، امن و امان ، انصاف اور مساوات کی صورت میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔ قومیں یا اُمتیں اپنی تنظیمی صلاحیت سے جسے ادارے قائم کرتے ہیں، زندہ رہتی ہیں اور ان اداروں کی کارکردگی قانون کی پاسداری کی مرہونِ مِنّت ہوتی ہے ۔ قانون وہ محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ گھومتا ہے ۔ پہلا قانون خُدا نے بنایا اور آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ " تُم اور تمہاری بیوی اس جنّت میں رہو ، کھاؤ پیو مگر شجرِ ممنوع کے قریب نہ جانا " ۔ یہ کون سا درخت تھا؟ اِس کی مختلف تعبیریں ہیں مگر بیشتر مذہبی محقق اس بات پر متفق ہیں کہ وہ درخت شر کا تھا جس کا مفہوم لاقانونیت ہے ۔ جی ، قانون شکنی کسی بھی سطح پر ہو ، شر ہے ۔ اسی لیے کتاب اللہ میں اوامر و نواہی کا وہ چارٹر شامل کیا گیا جو باغِ قرآن میں پھولوں کی طرح بکھرا  رنگ اور خوشبو تقسیم کرتا ہے اور کانٹوں کی زبان سے آگاہی دیتا ہے کہ قانون کے پھول چنو مگر قانون شکنی کے کانٹوں سے بچو ۔ چنانچہ " کلو واشربوا ولا تسرفوا" ایک قانون ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ مگر اسراف نہ کرو ۔ اسراف اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللوں تللوں میں اُڑانا ہے ، اسراف فضول خرچی ہے ۔ اسراف حد سے گزرنا ہے ، اسراف دوسروں کو محروم کر کے اپنی جمع پونجی اور مال منال اور املاک میں اضافہ کرنا ہے ۔ پھر " قل العفو " میں یہ حکم پوشیدہ رکھا گیا کہ جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو وہ اللہ کا ہے اور اللہ کے اُن بندوں کا ہے جو اپنی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں کر پاتے ۔ اقبال نے بھی یہی کہا کہ جو حقیقت حرفِ قل العفو میں پوشیدہ ہے ، اُسے آشکار ہونا ہے ۔

اسلام میں قانون کی پابندی کا تصور بنی نوعِ انسان کی فلاح سے مشروط ہے ۔ چنانچہ اگر آپ قانون کی پابندی کرتے ہیں تو آپ مسلمان اور انسان ہو سکتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تو آپ نہ انسان ہیں نہ مسلمان بلکہ جانور ہیں جو انسانی منصب سے محروم ہیں ۔ اور ہمارے یہاں پچھلے ستر سال سے عوام کو قانون کے نام پر لاقانونیت کے چولھے میں گیلی  لکڑیوں کی طرح جلایا جا رہا ہے ۔ کیا پاکھنڈ بنا رکھا ہے ہم نے۔ کوئی مسئلہ درپیش ہو تو شور مچ جاتا ہے کہ قانون سازی کرو ۔ حکمرانوں کے احتساب کو روکنا ہے تو قانون بنا دو ۔ منی لانڈرنگ کا جواز فراہم کرنے کے لیے قانون بنا دو ۔ ناموسِ رسول( ﷺ)  کے  تحفظ کے لیے قانون بناؤ اور جب چاہو ان قوانین میں چپکے چپکے  ترمیم  کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کرو اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دو ۔ 

آخر قانون پر عمل کون کرے گا ؟ کیا آسمان سے فرشتے آئیں گے جو قانون کے مطابق زندگی بسر کر کے سیاسی جانوروں کے سامنے قانون کی پابندی کا نمونہ پیش کریں گے۔  نہیں شاید ایسا تو کبھی نہ ہو لیکن یہ بوجھ بالآخر ہمیں ہی اُٹھانا پڑے گا ۔ اسی ناتوان کو اُٹھانا پڑے گا جو قانون کی پابندی سے بھاگتا ہے اور اگر اُس نے صورتِ حال کا ادراک نہ کیا اور اپنے طرزِ عمل کو نہ بدلا تو  یہ معاشرت دھڑام سے نیچے آ گرے کی اور اس کی لاش پر رونے والا بھی کوئی نہ ہوگا :
نہ سمجھو تو مٹ جاؤ گے ایک " پاکیستاں "  والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں 
 

loading...