با خُدا دیوانہ باش و با محمدﷺ ہوشیار

ہم ایک عجیب عہد میں جی رہے ہیں ، جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے دعویداروں کی روز مرہ زندگی ، قرآن و سُنّت کی تعلیمات کے واضح اور شرمناک حد تک استرداد کی گواہی  دیتی ہے جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آج کے مسلمان کا اسلام سے رشتہ واجبی ، سطحی اور سریع الاعتقادی کا شہکار ہے۔ اس بات کے پیش نظر مجھے قرآن کی وہ نشانیاں یاد آتی رہتی ہیں جن میں مسلمانوں کی مختلف کیٹیگریاں بیان کی گئی ہیں ۔

سورہ  بقر میں مرقوم ہے :
" اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ، ہم اللہ اور یومِ احتساب پر ایمان لائے ، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ سے اور اہلِ ایمان سے دھوکہ کرتے ہیں ، جبکہ درحقیقت وہ خود دھوکے میں ہیں اور اس بات کا شعور نہیں رکھتے ۔ یہ لوگ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں اور اللہ نے اُن کی بیماری بڑھا دی ہے اور یہ بیماری اُن کے لیے دردناک عذاب ہے جو اُن کے جھوٹ کا بدلہ ہے اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تو اصلاح کر رہے ہیں " ۔ البقر ۹،۱۰،۱۱
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہمارے اعمال سے رحمت اللعالمینی کی خوشبو آتی ہے یا نہیں۔ کیا  کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہمارا معاشرہ ، جسے ستر سال پہلے ہم نے بنایا تھا ، وہ سچ مُچ خُدا تعالیٰ اور اُس کی کتاب کی عملاً تائید بھی کرتا ہے کہ نہیں۔  کیا یہ گستاخی نہیں کہ ہم جن پر ایمان لائے ہیں اُن کی تعلیمات کو نعروں ، میلادوں ، خُطبوں اور سیمناروں سے نکال  کر اپنے اعمال میں آباد نہیں کر سکے ۔

اسی مضمون پر صادق آنے والی ایک حدیث میری نظر سے گزری تھی کہ اللہ کے احکامات کا گھر اعمال ہیں اور جب اعمال میں اُن کو آباد نہ کیا جائے تو واپس لوحِ محفوظ کو لوٹ جاتے ہیں ۔ اِسی قسم کا ایک بیان حضرت فضل شاہ فاضلی علیہ رحمت نور والے نے بھی جاری کیا تھا کہ قرآن آسمانوں کو واپس لوٹ گیا ہے اور زمین پر  خوبصورت کاغذوں اور غلافوں میں لپٹے محض لفظ پڑے ہیں ۔ اس لیے یہ وقت بحث و جدال کا نہیں خموشی سے عمل کرنے کا ہے۔ لیکن ہمارا سارا وقت شیعہ سُنّی مباحثوں ، اہلِ حدیث ، دیوبندی اور بریلی سکولوں کی حمد و ثنا میں گزر جاتا ہے ۔ اور اُس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اسلام کی تعلیمات سے خوفزدہ ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ مجھے یا آپ کو اس بات کا شعور ہے یا نہیں ۔ اسلام کے راستے پر چلنے کا مطلب ہے اپنے سینے کو اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات کے لیے کھول دینا اور اُن تعلیمات کو اس طرح جاننا جیسے ہم اپنے بچوں کو جانتے ہیں ۔ لیکن ہم مسلمان نہ صرف ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں بلکہ خود اپنے لیے بھی اجنبی ہیں ۔ کوئی کسی کو نہیں جانتا گویا ہر کوئی  خود کو نہیں جانتا ۔

یہ بات کل سے اوسلو میں پاکستان فیمیلی نیٹ ورک کی اُس تقریب سے چھِڑ کر میرے لہو میں اس طرح اُتری ہے جیسے مجھے زہر دیا گیا ہو ۔ محبت آدمی کو اجنبی کے قریب لا کر اُسے شناسا بنا دیتی ہے ۔ اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کوئی اپنے سارے تحفظات سے دستبردار ہو جائے ۔ اور اس کے باوجود یہ خطرہ برقرار رہتا ہے کہ اگر آپ اپنے سارے تحفظات ، ماسک ، بہروپ تج کر کھل کے سامنے آ جائیں تو اجنبی آدمی جانے  آپ سے کیا سلوک کرے ۔ ہم میں سے ہر شخص ہزاروں بھید چھپائے ہوئے ہوتا ہے ۔ اس قسم کا اِخفا صرف سب سے زیادہ اپنے آپ سے ہوتا ہے اور دوسروں سے نسبتاً  بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ جس غیر صحت مند معاشرے میں ہم پلے ہیں ، وہ طرح طرح کے خارجی دباؤ ، پابندیوں اور نواہی کے عوارض میں مبتلا ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کسی شخص کو پاکستان میں اپنے بچپن سے جانتے ہیں یا ناروے میں ترکِ وطن کرکے آنے کے بعد سے آشنا ہیں ، دوطرفہ  اجنبیت کبھی نہیں مرتی ۔ ایک فاصلہ سا رکھنا اور تحفظات سے سینہ سپر رہنا ہی موزوں لگتا ہے کیونکہ دوسرا شخص ، جو آپ کا اور اپنی ذات کا اجنبی ہے آپ کی کمزوریوں اور منفی پہلوؤں کا فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ اس لیے لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں اور بُلھے شاہ نے اسی ضمن میں جو سوال اُٹھائے ہیں وہ ہر عہد میں اہم ہیں۔ فرماتے ہیں :
بُلھیا کیہ جاناں میں کون
نہ میں مومن ، وچ مسیتاں
نہ میں وچ کُفر دیاں ریتاں
نہ میں پاکاں وچ ، پلیت آں
نہ میں موسیٰ ، نہ فرعون
بُلھیا کیہ جانڑاں میں کون
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوا جایا
نہ کجھ اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون
بُلھیا کیہ جانا میں کون؟

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ خود سے خوفزدہ ہیں اس لیے وہ خود کو جاننا ہی نہیں چاہتے ۔ اور یہ مسئلہ اُس وقت اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جب لوگ بُلھے شاہ کی طرح گھنگرو باندھ کر ناچنا تو چاہتے ہیں لیکن اُن کے تحٖفظات بیچ میں آن کھڑے ہوتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ ہر چند لوگ خود سے ملنا چاہتے ہیں ، کیونکہ  کسی سےملے بغیر وہ اس کائنات میں تنہا ہیں ، کسی دوست کے بغیر ، کسی محبوب کے بغیر، کسی قابالِ اعتماد ساتھی کے بغیر ہر شخص تنہا ہے۔ اور وہ ایک ایسے شخص سے ملنا چاہتا ہے جس کے سامنے وہ اپنے سینے کے زخم کھول کر اپنی کہانی بیان کر سکے ۔ وہ شخص کون ہو سکتا ہے ۔ وہ شخص ہیں  آپ اور  وہ شخص ہوں میں ،  ورنہ بُلھے شاہ کہیں گے:
چل اوئے بُلھیا اوتھے چلیے جتھے سارے انھے
نہ کوئی ساڈی ذات پچھانے ، نہ کوئی سانوں منّے

اسی لیے ہم ناروے آ گئے ہیں جہاں ہر شخص اجنبی ہے اور ایک دوسرے کی وجودی ریاست میں غیر ملکی ہے۔ اور جب تک بُلھے شاہ کی طرح ہم سب اپنے اپنے کون کو نہیں جانتے ، ہم اجنبی ہی رہیں گے ۔ بُلھے شاہ کو میرا تہ دل سے محبت بھرا سلام!
 

loading...