منقسم معاشرتی تشخص

پاکستان ایک انتہائی نازک سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی انارکی کی صورتحال سے دوچار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ یوں بھی ما بعدِ سقوطِ ڈھاکہ کا پاکستان وہ پاکستان نہیں جسے قائدِ اعظم نے پاکستان کی سیاسی ، عسکری اور مذہبی قیادت کے سپرد کیا تھا ۔ قائدِ اعظم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے رُخصت ہوئے اور اپنے پیچھے کسمپرسی میں مبتلا قوم کو چھوڑ گئے جو آج بھی اپنی تشکیل ، استحکام  اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ مذہبی سیاست کی بنیاد پر کسی ملک کی تشکیل آسان کام نہ تھا لیکن خدا کی مہربانی اور تائیدِ غیبی سے دنیا کے نقشے پر ایک ملک ابھرا جو پچھلے ستر برس سے جلتے بجھتے بلب کی مثال بنا ہوا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے اللہ والے مل جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا تھا اور انشا اللہ تا قیامت قائم رہے گا ۔ اللہ ہم پر اپنا فضل فرمائے اور ہمارے جذبوں کے تحت قائدِ اعظم کی جلائی شمع کو ہمیشہ روشن رکھے ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بائیس کروڑ لوگوں کی اس مخلوط سوسائٹی کو چلانے والے  سیاسی اور مذہبی لوگ  نا اہل ہیں ۔ وہ آئین اور قانون کو پوری قوت سے نافذ کرکے ملک کو امن ، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن نہیں کر سکے ۔ اس ضمن میں سُخن گسترانہ بات یہ ہے کہ  خواندگی اور تقریر کا ہُنر اور کتابوں میں لکھے مواد کو رٹ لینا کسی شخص کو عالم نہیں بناتا بلکہ عالم وہ ہے جو علمی نکات ، تشریحات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مطابق اپنا وہ کردار تعمیر کرے جس سے وہ فطرت کے ہاتھوں میں خُدا کے حرفِ تخلیق کی طرح ہو۔ اور ہر لمحہ نئی آن اور نئی شان سے اپنے جوشِ کردار کی گواہی دے ۔ غالباً اقبال کا ایک شعر اس موقف کی تائید میں پیش کرنا موزوں ہو گا :
جوشِ کردار سے شمشیرِ سکندر کا طلوع
جوش، کردار سے بنتی ہے خُدا کی آواز

اس سلسلے میں مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث کا حوالہ بھی موزوں رہے گا کہ پییغمبرِ آخرالزماں ﷺ سے سوال کیا گیا کہ " من ارباب العلم؟" کہ اہل علم لوگ کون ہیں ، تو جواب ملا کہ جو لوگ اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ یہی بات قرآن میں بھی کہی گئی ہے کہ " لما تقولون ما لا تفعلون" ۔ کہ جس بات پر تم عمل پیرا نہیں، وہ بات مت کہو۔ مگر ہم نے ایک ایسا قولی دین ایجاد کر لیا ہے جو صرف  اقرار باللسان پر مبنی ہے اور اس کے لیے تصدیق بالقلب ضروری نہیں ۔ اس طرزِ فکر و عمل  نے ہمارے معاشرتی تشخص کو تقسہم کردیا ہے ۔ ہم جو ہیں وہ نہیں ہیں ۔ ہم جو خود کو مسلمان کہتے ہیں ، شاید لفظ کے حقیقی مفہوم میں ہیں نہیں ، بلکہ محض مذہبی اداکار ہیں جنہیں غالب نے کچھ اس طرح بیان کیا تھا:
ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھُلا

ہمارا معاشرہ جو دن رات مجرموں اور گنہ گاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے کرتا رہتا ہے ، خود جوشِ کردار سے محروم ہے ۔ اور اس روایت کے سب سے بڑے علمبردار ، سیاست دان اور مذہبی کارکن ہیں ۔ ابھی حال ہی کی مثال ہے کہ ہم من حیث القوم ایک مذہبی نوعیت کے دھرنے کی اذیت سے گزر رہے ہیں ۔ یہ دھرنا ختمِ نبوت ﷺ کے سلسلے میں دیا جا رہا ہے جس کی قیادت ایک نوخیز مذہبی سیاسی جماعت کر رہی ہے جو خود کو " لبیک یا رسول اللہ " کہتی ہے ۔ اس کے مرکزی رہنما ، یا سربراہ یا علمبردار ایک مولوی صاحب ہیں جو اس دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں ۔ ایک ایسا دھرنا جو نبی اکرم ﷺ کے منصب کے تحفط کا دعویٰ کرتا ہو ، اُس کا قائد اپنے خطبوں ، بیانوں اور نعروں میں غلیط زبان کس طرح استعمال کر سکتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کی شان میں برپا محفل میں ماں بہن کی گالیاں اور دلو ، کنجرو جیسے کلمات خبیثہ سُن کر گمان ہوتا ہے کہ مروجہ اسلام کی گاڑی خلقِ عظیم کی پٹڑی سے اُتر چکی ہے اور اس جماعت کے بیشتر  پیرو گالی کو  جائز سمجھتے ہیں جب کہ قرآن میں واضح حکم ہے کہ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کی جائے۔ لیکن یہ تحریک قرآن کے واضح حکم کو نظر انداز کرکے گالی کو ایک شرعی رویہ بنانے پر تُلی ہے ۔

ایک پنجابی ہوتے ہوئے میں پنجابی اسلامی کلچر کا شریک اور گواہ ہوں کہ ہمارے یہاں گالی گفتگو کا مرچ مسالہ ہے ۔ کچھ لوگ ماں بہن کی گالی کے بغیر بات بھی نہیں کر سکتے ۔ بعض لوگوں کا تکیہ کلام بھی گالی ہی ہوتی ہے ۔ کچھ بزرگ اپنے بچوں کے بچوں کو اوئے کنجرا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ۔ ہمارے دیسی مسلمان کلچر میں  کسی کو سؤر کا بچہ ، کتے دا پُتر یا حرامی کہنا معمولی بات ہے۔ اور ہم نے اپنے گالی کلچر کو مذہب میں بھی داخل کردیا ہے جو ایک بھیانک  اور بیہودہ قسم کی بد عت ہے۔ جو ہمارے معاشرتی تشخص کو  برباد کر رہی ہے ۔ اور ہمارے وہ علماء جن کا کام یہ تھا کہ لوگوں کو دین کی حکمت سے لیس کرکے اُنہیں صادق اور امین بناتے ، وہ گالی سے دہن کی صداقت کو آلودہ کرتے ہیں  اور بیہودگی کو رواج دے رہے ہیں۔

بعض صوفیا کے نزدیک گالی چونکہ دہن کی پاکیزگی پر نجاست ملتی ہے اس لیے وہ  زبان و بیان  کی خیانت ہے ۔ اور زبان و بیان دونوں اللہ کی نشانیاں  ہیں ، جن کی بے حرمتی سے آدمی صادق نہیں رہتا ۔ چانچہ جب  خُدا کے آئین کے مطابق دشنام طراز صادق نہیں رہتا  تو وہ منبرِ رسول ﷺ پر بیٹھنے کے استحقاق سے محروم ہوجاتا ہے۔ لیکن کون جاتا ہے دین کی ان تفصیلات میں۔ تب صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ :
گر ہمی مکتب و ہمی مُلا
کارِ طفلاں تمام خواہد شُد
 

loading...