پاکستانوراما، المیوں سے رقم ایک داستان

پاکستان ایک ہفت حرفی مظہر ہے جس میں تیسرا کاف فی الوقت  کرپشن کا ہے ، جسے سر پر تان کر دو قومی نظریے کا قافلہ انتشار کا شکار ہے ، جس کی صفیں تِتّر بِتّر ہیں اور جس کو بیڈ گورننس کی اُستانی ہمیشہ یہ پٹّی پڑھاتی رہی ہے کہ جمہوریت حکمران خاندانوں کی خوش حالی ، مالداری ، زر اندوزی اور ماورائے قانون طرزِ سیاست کا نام ہے ۔

حیرت تو اس بات پر ہے کہ مارشل لاء کی گود میں پلے بچّے ، جن کے پوتڑوں سے اب بھی فوجی بوٹوں کی بساندھ آتی ہے ، جمہوریت کے ملجیٰ و ماویٰ بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کی سہ فریقی حکمران قوتیں عسکریہ ، مذہبیہ اور عدلیہ اگرچہ تین پایوں والی ایک تپائی ہے مگر ان کو اپنی ظاہری قدروقیت ( فیس ویلیو) برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ چوتھے پائے کی ضرورت رہی ہے جو سِولیہ کہلاتی ہے ۔ یہ سولیہ سیاسی ، مذہبی  اور تجارتی جماعتوں پر مشتمل ہے  جس کا اصل کام حکومت کو تجارتی بنیادوں پر چلانا اور ساتھ ہی باقی تینوں قوتوں کو خوش رکھنے کے لیے مصالحت کی فضا برقرار رکھنی ہوتی ہے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ عوام کی  مٹّی سے سونا اخذ کرتے ہیں ۔ اُن کے لیے عوام کی حیثیت ہل چلے کھیت میں پڑے مٹّی کے ڈھیلوں سے زیادہ نہیں ہوتی مگر ان کھیتوں میں سول حکمرانوں کے ذاتی مفادات کی فصل اُگتی ہے  اور وہ اپنی بقا کے لیے عوام کو زندہ رکھتے ہیں، خواہ وہ  اُنہیں غُربت کی لکیر کے نیچے ہی کیوں نہ رکھیں ۔ بس اس سے زیادہ کی  اُن کی اوقات ہے نہ صلاحیت ۔

اِس وقت پاکستان میں معاشرتی زندگی التوا نما تعطل کا شکار ہے ۔ عوام نے خود کو  حالات کی مجبوری کی بنا پر چاروں طرف سے دھرنوں اور احتجاجوں میں گھیر رکھا ہے ۔ ٹریفک جگہ جگہ معطل ہے ۔ مریضوں کی ہسپتالوں تک اور  کام کاج پر جانے والوں کی اپنے اپنے اڈوں ، دفتروں اور دکانوں تک رسائی کے راستے میں احتجاجوں اور جرائم پیشہ وارداتیوں نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں ۔ جب کہ صرف اسی پر بس نہیں ، لوگ اپنے گھروں میں بھی لُٹیروں اور ڈاکوؤں کی دستبرد سے محفوظ نہیں ہیں ۔ جرم اور بد اخلاقی کے شیطان نے ہر گلی کوچے میں انڈے دے رکھے ہیں ۔

چونکہ عوام اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں اس لیے عام پاکستانی ، خواہ کسی بھی مذہب یا فرقے کا ہو ، ہر ناجائز کو جائز بنانے کے دھندے میں ملوث ہے ۔ انہی غیر قانونی کاروباروں میں سے ایک کاروبار انسانی سمگلنگ ہے جس نے بوری بند لاشوں اور دہشت گردی کی سیاست کا مقابلہ شروع کر رکھا ہے ۔ بیرونِ ملک اچھی ملازمت اور خوشحالی کا سبز باغ دکھا کر بے چارے غریب نوجوانوں کو اُن کی جمع پونجی یعنی ٹکٹ ، ویزے اور ایجنسی کی فیس  کی رقم غصب کرنے کے بعد قتل کروا دیا جاتا ہے اور کچھ افواہیں کہتی ہیں کہ یہ قتل انسانی سمگلروں اور دہشت گردوں کی ملی بھگت ، باہمی شراکت داری اور مکمل منصوبہ بندی سے ہوتے ہیں ۔

اس سارے شیطانی کھیل میں حکومت کی حاضری کہیں نظر نہیں آتی جو مجرموں کو جرائم سے روکتی ہو ۔ حکومت اس لیے نظر نہیں آتی کہ حقیقی معنوں میں حکومت ہے ہی نہیں بلکہ  ملک پر ایک کاروباری مافیا کا تسلط ہے ، جس نے اپنا نام حکومت رکھ چھوڑا ہے ۔ المیہ ، سب سے بڑا المیہ ( گریٹ ٹریجیڈی) یہ ہے کہ اس نفسا نفسی ، چھینا جھپٹی اور افراتفری میں دوقومی نظریہ اور اُس کا مثالیہ دونوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور حالات کی ستم ظریفی اور میری انفرادی بد بختی کہ ایک چوہتر سال کا یہ بوڑھا سابق پاکستانی ، جس نے پاکستان کو بنتے اور ٹوٹتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، اب بچے کھُچے ملک کی گلیوں میں دن رات جاری موت کا برہنہ رقص ٹی وی کی کھڑکی میں بیٹھا دیکھتا رہتا ہے ۔

اور میں اکیلا تماشائی نہیں ، میرے ساتھ یہ رقص پاکستان کی عسکریہ ، مذہبیہ ، عدلیہ اور سِولیہ بھی دیکھتی ہے  مگر کسی میں اتنا دَم نہیں اور نہ ہی صلاحیت کہ اس انتشار ، افتراق اور خانہ جنگی پر قابو پا سکے ۔ ایک آتش فشاں ہے جو دن رات بد امنی ، لاقانونیت ، کرپشن ، بیڈ گورننس اور بحران کا لاوا اُگل رہا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کیاؤس کا سموگ بالآخر چھٹے گا اور عقب سے امن ، ترقی اور خوش حالی کی روشنی ضرور ابھرے گی ۔ کافور اور نابود ہوتی دہشت گردی کی راکھ سے ایک نیا ققنس جنم لے گا ۔ ایک نیا پاکستان جس کی باتیں جانے کب سے ہو رہی ہیں  بالآخر ، یقیناً معرضِ وجود میں آئے گا ۔

اس پاکستان کا تیسرا حرف کاف کریمی ، کفالت اور کایا کلپ کا ہوگا جو اس قوم کو صراطِ مستقیم پر گامزن کر سکے گا ۔  اگرچہ اللہ کا نافرمانوں سے کوئی وعدہ نہیں مگر میں پھر بھی پاکستان کی مٹّی کو مخاطب کرکے کہتا ہوں : " لا تقنطو من الرحمتہ اللہ" ۔
 

loading...