بسترِ علالت کی سیاست

نام و نمود کو بطور سماجی رویہ اختیار کرنا اور  اس لسانی اقرار کو نعرہ ، نظریہ اور فلسفہ بنا دینا بہت خطر ناک عمل ہے ۔  لیکن شومئی قسمت سے  ہم فی زمانہ بڑے اُونچے کلمات کے بینرز تلے ایک نمائشی جلوس میں چل رہے ہیں  ۔ اس کیفیت پر صوفیا ء کرام نے بھی مراقبہ کیا اور اپنے نتائج مُرتب کیے ، سلطان باہو نے فرمایا:
اُچّے کلمے سویو پڑھدے ، نیت جیہناں دی کھوٹی ہو

لیکن کھوٹی نیت کے پاس  بھی ایک دفاعی دلیل ہے اور وہ پیش کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ دلوں کا حال اور نیتوں کا متن اللہ ہی جانتا ہے ۔ در اصل یہ دلیل اپنی سماجی ذمہ داری سے بچنے کا ایک حیلہ بہانہ ہے  کہ اپنی بد معاملگی کو اللہ کی رضا اور آخرت کے احتساب کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دلوا لیا جائے۔ حالانکہ حقوق العباد کے ضمن میں اللہ کو اپنا وکیل بنانا ہی غلط ہے کیونکہ اللہ کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے اور بندے کا بندے کے ساتھ ۔ لیکن ہم نے  اپنی نفسی کیفیات کا احتساب کرنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی ۔
 قرآنیات کے مضمون میں نفسِ انسانی تین مدارج سے آگاہ ہیں جو حسبِ ذیل ہیں :
1 ۔ نفسِ امارہ
2 ۔ نفسِ لوامہ
3 ۔ نفسِ مطمئنہ

ان مدارج اور اُن کی حقیقی نوعیت کا علم  علماء کی اکثریت  کو بھی نہیں ہوتا ۔  بیشتر جُبّے صرف نام کی حد تک ہی ان مدارج کو جانتے ہیں ۔ یہی صورتِ حال  ہمارے مذہبی مبلغِ  علم کی ہے کہ ہم توحید ، رسالت ، شریعت ، طریقت ، معرفت ، حقیقت  اور اتباع و تقلید جیسے استعارے اپنے مذہبی بیانیے میں استعمال  کرتے ہیں مگر ان اصطلاحات کا حقیقی مفہوم نہیں  جانتے ۔ حالانکہ قدیم زمانے سے سیانے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لفظوں کو اُن کے حقیقی مفہوم میں استعمال کیا جائے ۔  مگر جہالت اور کج فہمی کے دباؤ کے باعث ایسا ہو نہیں پاتا ۔ ہر شخص کے پاس لفظوں کا اپنا مفہوم ہوتا ہے جو کالا اکشر بھینس برابر کے مصداق  بسا اوقات نا مفہوم یا ردِ مفہوم ہوتا ہے ۔ اور ہمارے یہاں علم کے نام پر جہالت اتنی عام ہے کہ اب یہ کرپشن کی طرح باقاعدہ معاشرتی رویہ بن چکی ہے ۔

کمرشل ازم کے اس عہد میں جب مذہب بھی کاروبار بن چکا ہے ، اسلامی اقدار اور دینی اخلاقیات بھی کاروباری رویوں کے گھاٹ اُتر کر معدوم ہو چکی ہیں لیکن مذہب کا نام  اب بھی  تھوتھے چنے کی طرح گھنا بج رہا ہے ۔ آمدن بر سرِ مطلب: مفتی عبد القوی اور قندیل بلوچ  کا سانحہ ابھی تازہ تھا کہ اس نہلے پر ایک دہلا نازل ہوا اور فیصل آباد کے ایک دینی مدرسے کا  ایک سنگین معاملہ سامنے آیا  جس کے مطابق ایک سولہ سالہ طالبعلم نے اپنے ایک دس سالہ ہم جماعت کو جنسی زیادتی کے بعد  رسی سے  گلا گھونٹا اور اُس کی  لاش کو ایک عمارت کی تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا ۔  گرفتاری کے بعد اس سولہ سالہ طالبعلم نے اعتراف کیا کہ اس سے پہلے بھی وہ ایک کم سن طفل شکار کر چکا ہے  اور  جنسی دست درازی کے بعد  یہ  اُس کا دوسرا قتل ہے ۔  اور اس وقوعے کا کلیدی  پہلو یہ ہے کہ  یہ سب کچھ بھی ایک دینی مدرسے میں ہی ہوا ہے ۔ 

میں  یہ بات کہتے ہوئے ہر گز ، ہرگز دین پر انگشت نمائی نہیں کر رہا بلکہ دین کے غلط استعمال اور استحصال  کی نشان دہی کر رہا ہوں کہ ایسے لوگ جن کے پاس  اعلیٰ  اخلاقی  اقدار کی عملی سند نہیں ہوتی ، اُنہیں مذہبی ادارے بنانے اور چلانے کا لائسنسس کیوں دیا جاتا ہے ۔ کیا یہ بیڈ گورننس کی واضح مثال نہیں ہے  کہ یہ سب کچھ ایک ایسے شہر میں ہوا جو پنجاب کے وزیرِ قانون کا شہر ہے جہاں مذہبی جعلسازوں نے  جعلسازی کے انڈے دے رکھے ہیں اور  دین کو دھوکہ بازی کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔  ہم آئے دن  جعلی عاملوں ، پیروں اور  جادوگروں کی کہانیاں میڈیا میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں  ۔ اور آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ  رانا ثناء اللہ کے شہر  میں ایک نوجوان جعلساز خاتون نے تیسری بار شادی کرکے شوہری کے بیمار کو اُس کی جمع پونجی سے محروم کردیا  اور رفو چکر ہوگئی ۔ اس  چُڑیل کے پیچھے جعلسازوں کا ایک پورا گروہ ہے جو شادیوں کے ذریعے لوٹ مار کا کاروبار کرتا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔

یہ صورتِ حال سیاست سے تعلیم تک اور صحافت سے تجارت اور مذہب تک ہر شعبے میں یکساں شدت کے ساتھ نافذ دکھائی دیتی ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں ۔ اس بات کا اشارہ سعدی نے گلستان میں کیا ہے کہ " الناس علیٰ دین ملوکہم "  ،  لوگ حکمران کے دین پر ہوتے ہیں ۔ ہماری تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے ملک کے مراعات یافتہ طبقے ، حکمران ، جرنیل ، صنعت کار اور جاگیردار  تک مشکل حالات میں فرار کے بہانے تلاش کرتے ہیں  اور بیمار ہونے کی ایسی ایسی اداکاری کرتے ہیں کہ دلیپ کمار بھی حیران رہ جاتا ہے ۔  ان کی مثالیں جنرل پرویز مشرف ، ڈاکٹر عاصم ، آصف علی زرداری ، میاں نواز شریف اور اب اسحاق ڈار ہیں ۔  یہ لوگ قوم کے سامنے جواب دہی کی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے بیماری کا بہانہ کرتے ہیں ۔ کچھ دن پہلے ایک ٹی وی اینکر نے اسحاق ڈار کی بیماری کی پیش گوئی کر دی تھی مگر وہ نجومی شیخ رشید ہر گز نہیں تھے ۔  پیش گوئی میں کہا گیا تھا کہ ڈار صاحب استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ بیمار ہو جائیں گے اور وہ ہو گئے ۔  چنانچہ بیمار بن کر بسترِ علالت سے سیاست کرنا اب ایک  جدید تر مگرمستحکم  جمہوری رویہ بن گیا ہے۔ چنانچہ  یہی سیاست مفتی عبدالقوی نے بھی کی  لیکن مشین نے مفتی پکڑ لیا ۔  اگرچہ علمائے دین کے ضمن میں مشینوں کا استعمال غیر شرعی  قرار دیا جا سکتا ہے لیکن مفتی قوی کے موبائل سے برآمد ہونے والی پورنو ویڈیوز کا کوئی شرعی جواز پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔

با ایں ہمہ ،  ایک ایسے معاشرے میں جہاں زندگی کا ہر شعبہ بسترِ علالت پر ہو، وہاں صرف ڈاکٹری سرٹیفکیٹ ہی  فرار کا راستہ ہے ۔  لہٰذا  میرا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی حاضر ہے کہ  میں اب سیاست پر کوئی مضمون نہیں باندھ سکتا ۔  اس لیے مجھے اجازت دی جائے کہ میں درگاہوں کا تبرک کھاؤں اور وائیٹل چائے پیوں جو ناروے میں دستیاب ہی نہیں ۔
پاکستانی جمہوریت زندہ باد
سیاسی سموگ پائندہ باد
 

loading...