کُرپشن کرو اور کرنے دو !

قانون حُکم ہے ۔ حُکم حکمت زاد ہے ۔ چنانچہ حضرت فضل شاہ قادری فاضلی نُور والے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حُکم میں رہتا ہے ، حفاظت میں رہتا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص قانون کی پابندی کرتا ہے ، وہ خُدا کے قانون کی پناہ میں محفوظ اور مامون رہتا ہے ۔ قانون کی پابندی تمام عبادات کا سرچشمہ ہے ۔

خالقِ کائنات نے جب آدم و حوا کو جنت الفردوس کی جاگیر عطا کی تو ساتھ ہی قانون کی کتاب بھی دی جس کے مطابق یہ فرض عائد کیا گیا کہ جس کام کو کرنے کا حُکم دیا گیا ہے وہ کرو اور جس کام سے منع کیا گیا ہے اُس سے باز رہو ۔ جن باتوں پر عمل پیرا ہونے کا حکم ہے وہ نور اور ہدایت کی باتیں ہیں اور جن باتوں سے روکا گیا ہے وہ ظلمت اور گمراہی کی باتیں ہیں ۔ اس قانون کو ایک جُملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ بھلائی کا راستہ اختیار کرو اور برائی سے دور رہو ۔

سُرخ مٹّی کے آدم کو پہلا قانون دینے کا واقعہ کتاب میں اس طرح درج ہے :
اور ہم نے کہا کہ اے آدم  تُم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جو چاہو بے روک ٹوک کھاؤ پیو مگر اُس درخت کے پاس نہ جانا ، ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔ البقر ۔ ۳۵
ظاہر ہے جس درخت کا قرب ظالم بناتا ہے وہ ظلمت کا درخت ہوگا ۔ ظلمت گمراہی اور تاریکی ہے ۔ شر ہے ۔ ابلیسیت ہے ۔ صراطِ مستقیم سے گریز اور روگردانی ہے ۔

میں اس سلسلے میں آپ کو ایک کتابی اور مکتبی حوالہ یاد دلاتا ہوں ۔ تاریخ میں رقم ہے کہ قبلِ مسیح کے زمانے میں یونان کے شہر ایتھنز میں ایک درویش رہا کرتا تھا جس نے بتایا تھا کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ لیکن  پیغمبرِ آخرالزمان ﷺ کے درویشوں نے کہا کہ انسان ایک قانونی حیوان ہے اور اگر وہ قانون کی پابندی سے اجتناب کرتا ہے تو وہ انسانی منصب کھو بیٹھتا ہے ۔ جیسا کہ سبت والوں کے ساتھ ہوا کہ وہ قانون شکنی کی پاداش میں انسانی منصب گنوا بیٹھے اور بندر کی طرح نقالی کے منصب پر فائز ہو گئے ۔ اس وقت بھی متعدد معاشروں میں نقال بندروں کی حکمرانی ہے ۔ بندر نما لوگ تحقیق کے بجائے تقلید کے راستے کے جانور ہیں ۔ لیجیے اقبال کو یاد کیجیے :
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کُشی
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے

اور آج 19 اکتوبر کو نون لیگ کی مستقبل کی وزیرِ اعظم محترمہ مریم صفدر نے بڑی ہی خوبصورت بات کہی ہے ۔ فرمایا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کے نام پر جُگت بازی کا تھیٹر جاری ہے ۔ اُنہوں نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے جو کلیدی لفظ استعمال کیا وہ یہ تھا :
FARCE
تھیٹر کی زبان میں فارس اُس مزاحیہ ناٹک کو کہتے ہیں جس میں ڈرامے کے کردار مبہم اور پیچیدہ صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں ۔ یعنی جب ہم کسی صورتِ حال کو فارس قرار دیتے ہیں تو اُس کے غیر منظم ، غیر مربوط اور غیر تسلی بخش ہونے کا عندیہ دیتے ہیں ۔ لہٰذا ، محترمہ مریم صفدر کہہ رہی تھیں کہ نیب عدالت کی کارکردگی مبہم اور غیر تسلی بخش ہے ۔ اس نہلے پر وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کا دہلا یہ تھا کہ اُنہوں نے نیب کو انتہائی کرپٹ ادارہ قرار دے دیا ہے ۔ بالواسطہ طور پر اس کی تفسیر یہ ہے کہ نیب سے لے کے عدالتِ عالیہ و عظمیٰ سب کرپشن کی تھیلی کے ہی چٹّے بٹّے ہیں ۔ تعجب ہے کہ جو ادارے نون لیگ کی پالیسیوں کا عملی اطلاق ہیں ، وہ کرپٹ کس نے اور کیسے کیے۔ عمران خان نے یا جماعتِ اسلامی نے ۔ لیکن نون لیگ کی حکومت ، وفاقی اور صوبائی کابینہ اور اسمبلیلیوں کے ہوتے ہوئے عمران خان نے یہ چوٹ کیسے لگائی۔ جب کہ ان اداروں کی کرپشن کا راز مریم صفدر اور شہباز شریف سے بہتر کون جانتا ہے یا جان سکتا ہے ۔ یہ سارے ادارے شریف خاندان کے آہنی جھولے میں پلے ہیں ۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ شریکِ جُرم لوگ جرائم کو روکنے کی استطاعت اور صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ظالم خود اپنے ظلم کے خلاف عملی اقدامات کرے ۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ زبانی بیان بازی سے ظُلم کی مذمت بھی کرے اور ظُلم بھی جاری رکھے ۔

چنانچہ اس صورتِ حال میں ظاہری حالات کو نارمل رکھنے کے لیے مُک مکا کا فارمولا ایجاد کیا جاتا ہے ۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ تم بھی کرپشن کرو اور ہم بھی کرپشن کریں اور سب اپنی اپنی کرپشن کی روش پر قائم رہیں مگر ایک دوسرے کی کرپشن کو پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت نظر اندز کریں تاکہ ظاہر امن غارت نہ ہو اور جمہوریت ایکسپریس کرپشن کی پٹڑی پر رواں دواں رہے ۔ منی لانڈرنگ کی ریوڑیاں اپنوں اپنوں میں بٹتی رہیں ۔ چنانچہ کرپشن کے الزامات کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم نے کرپشن کی ہے تو ہم پر الزام لگانے والوں کا دامن بھی پاک نہیں ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کرپشن کرنے والوں کو کوئی پکڑتا کیوں نہیں ۔ اور ایسا ہی کیوں ہوتا ہے کہ جب حکومت کی کرپشن منظرِ عام پر آئے تو مخالفین کی کرپشن کے مرتبان سے ڈھکنا اُٹھا دیا جاتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ بے چارے عوام کی تو ہڈیاں تک چبائی جا چکی ہیں۔ لیکن جب تک لُوٹ مار پر کسی فریق کو کوئی اعتراض نہ ہو تب تک سب مل کر کھائیں اور اس لوٹ مار کو جمہوریت کا خوبصورت نام دیں ۔
جی ہاں ، کرپشن کو کرپشن سے راہ ہوتی ہے ، لیکن میڈیا شرافت کے اس اصول کو سمجھ ہی نہیں ہا رہا ہے اور حکمرانوں کی ناک میں دم کرنے کے لیے اول فول بولتا رہتا ہے ۔

حکمران اب میڈیا کی بک بک سے تنگ آ چکے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس شور شرابے کو بند ہوجانا چاہیے ۔ چنانچہ میڈیا ہاؤسوں اور صحافیوں کا گلا گھونٹنے کی تیارہی ہو رہی ہے ۔ میڈیا ہاؤس کو پانچ کروڑ کے جرمانے کی دھمکی سنائی جا رہی ہے اور قانون شکن صحافیوں کے لیے قید کی مدت میں خوفناک حد تک اضافے کی خبر سنائی جا رہی ہے ۔ یہ دھمکی آزادی اظہار پر قدغن تو ہے ہی لیکن یہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی بھی ہے جن کا ارشادِ گرامی ہے کہ ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے اور اس پابندی کے ذریعے ظلم کے خلاف جہاد کو روکنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ لیکن حکمران یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے کہ اظہار اور رائے کی آزادی ، جسے سورج کی کرنوں اور بہار کی ہوا کی طرح آزاد ہونا چاہیے ، اُن کی نازک مزاجی پر گراں کیوں ہے ۔ آخر کیوں؟
 

loading...