بازاری سیاست کے لشکارے

پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے سابق پاکستانی ، پاکستانیت کے روز مرہ معاملات میں براہِ راست  شریک نہیں  ہوتے مگر وہ محض تماشائی بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اور پاکستانیت اُن کا ماضی ، بچپن ، لڑکپن ، تعلیم گاہوں میں دوستی کے سلسلے اور اُن کی محبتیں ہیں ۔ دیارِ غٖیر میں پاکستان سے آنے والی خبریں سُن کر  قلب و ذہن پر ایسا تاثر مُرتب ہوتا ہے کہ پاکستان اُن کا وہ سابقہ سکول ہے جہاں کا موجودہ نصابِ تعلیم محض رسمی ہے ،  جس کی برکات سے میڈیا کے جُگتیں اور ترقی کے جھوٹے وعدے بخیر و خوبی تخلیق کیے جا سکتے ہیں ۔

سب سے سنگین المیہ یہ ہے کہ مذہب کے دعویدار  لوگ اللہ اور رسول ﷺ کے مقدس اسماء کا ورد کرتے ہیں ، اُن کی محبتوں کا دم بھرتے ہیں لیکن عملاً اُس محبت سے دور بھاگتے ہیں اور محمد ﷺ کے قدم بہ قدم چل کر اُن کی اطاعت کرتے ہوئے اُن کے پیر ٹُوٹتے ہیں ۔ سیاسی تاجر دن رات قائدِ اعظم کے ارشادات کی جُگالی کرتے اور اُن کی سیاسی تقریروں کے حوالے دیتے ہیں ، پاکستان کو بات بات پر اُن سے منسوب کرتے ہیں لیکن قائدِ اعظم کے اصولوں پر نہیں چلتے ۔ نہ وہ باہمی اتحاد قائم کرتے ہیں  ، نہ نظم و ضبط سے تنظیم  کا پرچم بلند کرتے ہیں  اور نہ ہی اُن کی رگوں میں ایمان ، صداقت اور دیانت کا خون دوڑتا ہے ۔  وہ پاکستانیت کی خالی باتوں کا بتنگڑ  تو بناتے ہیں مگر اپنے اعمال میں ننگ دین و ملت و وطن ہیں ۔

آج ٹی وی 92 پر حلقہ 120 کی انتخابی سیر کے دوران اچانک ایک دھماکہ ہوا ، بادل گرجا ، بجلی چمکی اور بچوں کا ایک بریگیڈ " شیر " کی طرح دہاڑتا ، شیر کی آمد کی کامیابی کے مژدے سے میدانِ انتخاب پر کپکپی طاری کرتا نمودار ہوا اور پھر شیر کی استھائی پر ایک بہت بے سُرا انترہ باندھتا ہوا پوری فضا کو آلودہ کر گیا۔ حواس کا ذائقہ خراب کرنا ہو تو آپ بھی سماعت فرمائیے :
اک پیر جُتّی دا
عمران خان کُتّی دا

انتہائی لغو بات ہے لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں کہ " نقلِ کفر ، کفر نباشد" ۔ سو بچوں کی بکواس اُن کے بڑوں کے سر کی دستار ۔ یہ  نعرہ ء جاہلانہ سُن کر انگشت بدنداں رہنے میں کوئی کسر نہ رہی اور معاذ اللہ کہہ کر سر پیٹ لیا کہ آخر یہ سیاسی بھیڑیے اپنی نئی نسل کی کیسی تربیت کر رہے ہیں ۔ اُن کی رگوں میں نفرت کا کیسا زہر انجیکٹ کر رہے ہیں اوراُنہیں کیسی سیاسی گھّٹی دے رہے ہیں جو اُن کی پوری زندگی کو عذاب میں مبتلا رکھے گی۔ غیر مہذب سیاست کے یہ چاند ستارے لوڈ شیڈنگ کے مارے شہروں میں جھوٹے وعدوں کا عذاب تو ہیں ہی مگر اِس پر طرہ یہ کہ ایک شیر کی بیٹی لاہور کی گلیوں میں اُستانی بن کر بچوں کو کیا پٹّی پڑھا رہی ہے ۔ یہ صورتِ حال اُس بدتمیزی کا نقطہ ء عروج ہے جو پانامہ لیکس کے نتیجے میں مخالف اور متحارب سیاسی کیمپوں کے جھنڈ سے نکلا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شائستگی ، خوش گفتاری اور حُسنِ کلام کے ہر جوہرِ آبدار کو بلیو شارک کی طرح نگل گیا ۔ یہ طوفانِ بد تمیزی الف اللہ کے بجائے الف اوئے سے آغاز ہوا اور پھر ایسے فاشسٹ ڈائیلاگ میں بدل گیا  جس کا حاصل یہ آج کا نعرہ تھا ، جسے دوہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

اسلام بدکلامی ، فحش گوئی اور دشنام طرازی کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ لفظ کلمہ ہے اور بد کلامی کلمے کی بے حرمتی ہے اور کلمے کی بے حرمتی کلمہ ء خبیثہ کا اجراء ہے ، جس کا کسی اسلامی معاشرے میں یا کم از کم اسلام کا رسمی دعویٰ کرنے والے معاشرے میں کوئی جواز نہیں ۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جس ملک میں اسلامی نظریاتی کونسل نام کی ذمہ دار اور معتبر تنظیم موجود ہے ، اُس کے سربراہ اور اراکین کو یہ سب کچھ کیوں سنائی نہیں دیتا ۔ اُن کا سارا علمِ فقہ تعددِ ازدواج ، طلاق اور حلالہ کے گرد ہی کیوں گھومتا ہے۔  ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیتے کہ قسم قسم کا سیاسی جانور اور بھانت بھانت کا وزیر بے تدبیر ، اپنی گفتگو بسم اللہ سے شروع کرتا ہے  اور اما بعد ہر نوع کی ژاژ خائی کے شگوفے چھوڑتا ، اپنے بیانیے میں بنی سنوری گالیاں پروتا ، اپنے سیاسی حریفوں کو پچھاڑتا اور اُنہیں لفظوں کے دستی بم مار مار کر  ہلاک کر دیتا ہے ۔

مگر نہ اسلامی نظریاتی کونسل کی فقہی غیرت جاگتی ہے اور نہ ہی وفاقی شریعت کورٹ کے کان پر سوموٹو کی جوں رینگتی ہے ۔  لگتا ہے یہ دونوں ادارے ایسی لاشیں ہیں جو پرانی ہو کر بد بو چھوڑنے لگی ہیں ۔ ایسی لاشوں کی زندہ معاشروں کو ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس لیے انہیں تورا بورا کے قبرستان میں لے جا کر دفن کر دینا چاہیے ۔ اور مجھ ایسوں کو کالم نویسی کی فضولیات سے تائب ہو جانا چاہیے کہ جب مقدس آسمانی صحیفے، رسالتمآب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ابواب ، ان عربی  جیسے محققوں کے مقالات اور رومی، عطار اور  سنائی جیسے شاعروں کی کتابیں اس اُمتِ پاکستانیہ کو محبت اور اخلاقیات نہیں سکھا سکی ، تو ہما شما کیا بیچتے ہیں۔
میں باز آیا صحافت سے اُٹھا لو لفظ دان اپنا۔۔۔ 

loading...