خدمت براستہ اقتدار

عزیزم بلاول زرداری نے اپنے ساتھ بھٹو کا لاحقہ بھی لگا رکھا ہے جو لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لئے ہے کہ یہ نوخیز سیاستدان  بے نظیر بھٹو کا بیٹا اور جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نواسہ ہے  ۔ جی ہمیں سب یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ وہ حاکم علی زرداری کے پوتے ہیں ۔ بھلا بھٹو مرحوم اور اُن کی بیٹی کو کون بھول سکتا ہے اور مجھ جیسے فقیر کو جس نے اُن کے دو ماموؤں میر مُرتضیٰ اور شاہ نواز بھٹو کے ساتھ کابل میں کئی مہینے گزارے ہیں ، ایک ایک بات یاد ہے کہ کون کیا ہے ، کیا تھا  اور وہ عوام کے حق میں کیسا تھا ۔

بلاول زرداری جنہیں پہلے بھٹو بنانے کی کوشش کی گئی اب پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئر مین بنانے کی سازش کی جارہی ہے مگر یہ سیاست کی بستی ہے اور سیانے کہہ گئے ہیں کہ :
بستی بسنا کھیل نہیں ہے ، بستے بستے بستی ہے

کسی کو اُس کرسی پر بٹھانا جو اُس کا اہل نہ ہو ، نہ صرف جرم ہے بلکہ پارٹی کے ساتھ بھی دھوکا  ہے ۔ بلاول صاحب ، عملی سیاست میں نووارد ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاست سیکھ رہے ہیں ۔ اور سیاست شاعری اور نبوت کی طرح موروثی نہیں ہوتی اگر چہ اِس ضمن میں چند ایک استثنائیں موجود ہیں ۔ یعقوب علیہ السلام کا بیٹا یوسف پیغمر ہو گیا لیکن نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان اپنے عظیم باپ کی روایت، حکمت اور منصبِ نبوت سے نا واقف نکلا ۔  اور پھر نظامی گنجوی نے شاعری کے باب میں اپنے بیٹے کو ایک بہت اچھی نصیحت کی تھی :
در شعر مجو ہیچ نیک نامی
کہ ایں ختم شدہ است بر نظامی
( شعر گوئی کو نیک نامی کا سبب نہ جان کیوں کہ یہ فن نظامی پر ختم ہے )

یہی نصیحت بلاول کے لیے ایک بوڑھے درویش کی ہے کہ خاندانی اور موروثی سیاست ذوالفقار علی بھٹو پر ختم ہوئی اور جو کچھ ترکہ تھا وہ اُن کی بیٹی اور آپ کی والدہ بے نظیر تک تھا اور آپ کے دونوں ماموں جو اپنے باپ کے جائز وارث تھے ، سازشیوں کے ہاتھوں صفحہ ء ہستی سے مٹ گئے ۔

اب بلاول شہروں شہروں  کہتے پھرتے ہیں کہ اگر اُنہیں موقعہ دیا گیا تو وہ عوام کی خدمت کریں گے ۔ عزیزم بلاول ! خدمت کے لیے موقعے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خدمت صدقہ ء جاریہ ہے اور جس کو خدمت کی توفیق ہے وہ خدمت کر رہا ہے ۔ خدمت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مجھے  کرو مگر آپ اس کے لئے کرسی کے انتظار میں ہیں ۔ آپ آنکھیں کھول کر دیکھئے کہ آپ چاروں طرف  غربت ، غلاظت ، مصائب ، بیماریوں اور  کرپشن کے کینسر  میں مبتلا لوگ  ہیں جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ آ بلاول ہماری خدمت کر ! لیکن آپ اُن کے  مسائل کو حل کرنے اور اُن کی  خدمت انجام دینے کے بجائے وفاق میں اقتدار کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور عبث دوڑ رہے ہیں ۔

آپ کے نانا جان نے اس ملک کے لوگوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان دلانے کا وعدہ کیا تھا  لیکن جب ووٹ مل گئے تو سازشوں کی گلہری نے پاکستان کے گلی کوچوں کی چھتوں پر پھدکنا شروع کردیا اور پھر بھٹو کو تختہ  دار تک پہنچادیا ۔ لیکن اس کے بعد آپ کی امی جان  وزیرِ اعظم بن کر اقتدار میں رہیں ، آپ کے ابا حضور پانچ برس تک ملک کے صدر رہے لیکن لوگوں سے کئے ہوئے وعدے پورے نہ ہو سکے ۔ اگر چند خاصوں اور مصاحبوں کو نوازا گیا تو یہ عوام پر کوئی احسان نہ ہوا ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر پاکستان کی تاریخ جاننے والے عوام آپ پر اعتبار کیوں کریں۔  یقین جانیں عزیزم ، عوام سے زیادہ تاریخ شناس کوئی نہیں ہوتا ۔ آپ کو تاریخ سناؤں کہ میرا ایک دوست تھا حبیب جالب ۔ اُس نے آپ کے نانا کی تحریک میں بڑا کردار ادا کیا تھا ۔ اُس نے جب دیکھا کہ عوام سے کیا گیا  روٹی ، کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ بہت رویا۔ اُس نے کہا:
روٹی ، کپڑا اور دوا
گھر رہنے کو چھوٹا سا
مفت مجھے تعلیم دلا
میں بھی مسلماں ہوں واللہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ

اور جالب کا یہ مطالبہ آج بھی جاری ہے  لیکن آپ خدمت نہیں کرتے ، بالکل  نہیں کرتے ۔ لوگ آپ کے اپنے صوبے سندھ میں ، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ، مسائل سے دوچار ہیں ۔ وہاں کی کیفیت یہ ہے کہ آپ کے خاندان ، وڈیروں ، جاگیرداروں ، سیاسی مچھندروں اور بڑے افسروں کو چھوڑ کر :
مانگ رہا ہے ہر انسان
روٹی ، کپڑا اور مکان

کراچی کی سڑکیں آپ کی صوبائی حکومت کی نالائقی ۔ بے حسی اور بد ذوقی کی شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہماری خدمت کرکے ہمیں صاف کرو مگر کسی کو یہ چیخ و پکار سن کر شرم نہیں آتی ۔ کون سی غیر معمولی خصوصیات ہیں آپ میں جس کی بنا پر لوگ آپ پر پھر سے اعتبار کریں ۔ آپ میں اور نون لیگ کی حکومتوں میں فرق ہی کیا ہے۔ آپ کو لوگ وزیرِ اعظم کیوں بنائیں:
کھیل بچوں کا نہیں ہے یہ وزارت ، عظمیٰ
تم سیاست سے رہو دور تو اچھا ہوگا

آپ کو کیا علم کہ غربت کیا ہوتی ہے سوہنے سائیں۔ آپ نے کبھی بھوک نہیں کاٹی ، اپ نے کبھی سڑک پر رات نہیں گزاری ، آپ نے ابھی تک شادی کرکے ازدواج اور بچوں کی کفالت کا تجربہ نہیں کیا۔ آپ کیا جانیں کہ غریب عوام کا دکھ کیا ہوتا ہے میرے صاحب ۔ اور نہ ہی یہ بات اپ کے والد محترم جانتے ہیں ۔ اب اس سے زیادہ کچھ کہنا ضروری نہیں ، کیونکہ سیاست دان جمہوریت کے اندھے ہوتے ہیں ، جنہیں کُرسی کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا ، خدمت تو بڑی دور کی بات ہے ۔ 

loading...