محبّت اور مذہب

مذہب زندگی کا روڈ میپ ہے ۔ یہ خُدا کاقانون ہے جس کا ظاہر شریعت اور باطن محبّت ہے ۔
ہم مذہب اس لیے اختیار کرتے ہیں ، تاکہ محبّت کرنا سیکھ سکیں اور محبّت اس لیے کرتے ہیں  تاکہ مذہب کی حقیقت پوری تفصیل کے ساتھ جان سکیں  ۔ زندگی کو محبت کے سوا کسی رہنمائی یا سبق کی ضرورت نہیں  ۔
لیکن یہ کون ہے جو محبت کا سزاوار ہے ۔ اِس کو جاننے ، محبوب کو پہچاننے اور کسی بھی گمرہی سے بچنے کے لیے استاد جلال الدین رومی نے ایک اشارہ دیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
سورہ ء رحماں بخواں اے مبتدی

مگر کیوں ؟ اس لیے کہ سورہ ء رحمان میں پوری کائنات اُتری ہوئی ہے ۔ مگر اس بھری کائنات میں محبّت کے لیے کس کو منتخب کیا جائے ۔ زندگی کے نخل پر آئے کسی ایک  پھول کو یا نہالِ گلاب پر  چٹکتے کسی ایک  غُنچے کو  چنا جائے ، جس کے ساتھ کانٹا بھی ہے ، اور پھر گلاب تو  ایک شاخ سے پیوستہ ہے  جب کہ یہ شاخ پودے سے منسلک ہے ۔ پودا جڑوں  پر ایستادہ ہے ، جڑیں مٹّی میں گڑی ہیں  ۔ مٹّی کو توانائی پانی اور سورج سے ملتی ہے  ۔ تو اس تناظر میں صرف پھول سے ہی محبّت کیوں۔ یہ جزوی محبّت تو خود غرضی ہے اور محبت کی تردید ہے ۔

آخرِ نخلِ کائنات کا صرف ایک پھول ہی کیوں  جب کہ وہ پوری کائنات سے جُڑا ہے ۔ وہ محبت جو پوری کائنات کر نظر انداز کرتی اور صرف ایک پھول کو اپنا محبوب قرار دیتی ہے ، جہالت  کی آئینہ دار ہے ۔ ایسی محبت تو خود کو غموں کے حوالے کرنا ہے ۔ خود کو توڑ پھوڑ دینا ہے اور محبت کو قتل کردینے کے مترادف ہے ۔ جی ہاں ، اس طرح یہ جزوی سی  محبت  ، یہ چیونٹی  برابرمحبت مر جاتی ہے ۔
زندگی کا درخت جسے پرانے نارویجن اِگدراسیل کہتے ہیں ، ایک ارژنگ ہے ، ایک کولاژ ہے جس کے کچھ پتے ہرے ہیں ، کچھ پیلے ہیں ، کچھ مرجھا کر قرمزی ہو گئے ہیں ، کچھ اپنی تروتازگی میں خوبصورت دکھائی دیتے ہیں اور کچھ بیمار اور پھربھرے  ۔ کچھ پتے ہاتھ کی دونوں ہتھیلیوں سے بڑے ہیں  یا برابر ہیں اور کچھ شہد کی مکھی کے پر جتنے ۔ نازک اور نرم و ملائم ۔

کیا ہم جانتے نہیں کہ پیلے پتوں کی پیلاہٹ سبز زمردیں  شیڈ سے آغاز ہوتی ہے اور جب سبز رنگ میں سے  خزاں  نیلا رنگ نچوڑ لیتی ہے ، جو روح کا رنگ ہے ، تو زرد رنگ باقی رہ جاتا ہے ۔
یہ بات رنگوں سے تصویریں بنانے والے بخوبی جانتے ہیں کہ پیلا اور نیلا رنگ ملائیں تو سبز رنگ بنتا ہے ۔
ہم سب  ، ہم بنی نوعِ انسان  ، انسانیت کا درخت ہیں ۔
" کان الناس اُمۃ واحدہ " ۔ اُم الکتاب میں لکھا ہے کہ  بنی نوعِ انسان ایک ہی اُمت تھے ۔ مگر ہم  زمیں زادوں نے اُس ایک اُمت کو رنگوں ، نسلوں ، عقیدوں اور نظریوں کی آری سے چیر کر  ٹُکڑے ٹُکڑے کردیا  ۔ ہم جو جُڑ کر رہنے اور جوڑنے کے لیے آئے تھے، ہم نے خود ہی اپنی وحدت کو توڑ دیا ، حالانکہ ہمیں  فرقوں میں بٹنے اور انسانی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا نہ استحقاق تھا نہ اختیار۔ ہم نے نخلِ زندگی کی ایک شاخ کو دوسری سے الجھایا اور ایک سمت  کے پتوں کو دوسری سمت کے پتوں کے خلاف صف آرا کر دیا ۔  یہ دیکھ کر رومی نے صدا لگائی :
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی

انسان کو دنیا میں باہم مل کر رہنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایک دوسرے سے کٹ اور بٹ کر رہنے کے لیے نہیں ۔ مگر:
ہم نہیں مانتے ، ہم نہیں  جانتے
ساری دنیا خُدا کی ہے اور  تمام مذاہب کی سمت  بھی ایک ہے ۔ جو آدم علیہ السلام  کا مذہب تھا وہی نوح علیہ السلام ، ابراہیم   اور اولادِ ابراہیم  کا  تھا ۔ وہی  اُن سارے نبیوں کا تھا جن کا ذکر قرآن میں موجود نہیں ۔ اور جو کارل مارکس نے کہا وہ بھی مخلوق کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے کہا ۔ جس پر اقبال کی گواہی موجود ہے:
جانتا ہے جس پہ روشن باطنِ اسلام ہے
مزدکیت فتنہ ء فردا نہیں اسلام ہے 

اور کتاب میں یہی لکھا ہے کہ :
"  یقین جانو  کہ عربی نبی کے ماننے والے ہیوں ، یا یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی ، جو بھی اللہ اور روزِ حساب پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اس کا اجر اُس کے راب کے پاس اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں  ہے " ۔ البقر  ۶۲
لیکن شاید ہم خُدا کی بات سمجھے ہی نہیں اور نہ ہم جانتے ہیں کہ مذہب کیا ہے اور محبت کیا  ہے۔ 

loading...