کرپشن اور بیڈ گورنینس کی قیدی قوم

عجیب مخمصہ ہے ۔ نظریے کا خار زارعبور کر کے ستر برس قبل  ہم پاکستان آئے اور   آج ستر برس بعد بھی  پاکستان کی تلاش میں ہیں ۔ وہ ملک  ہے کہاں جو ایک قوم  نے برِ صغیر  ہند میں مذہب کی بنیاد پر  حاصل کیا تھا ۔ جس کا مطلب ایک نعرے میں لا الہ الاللہ بیان کیا گیا تھا ۔ کیا یہ سڑکوں کے جال ، یہ  اوررنج بسیں ،  یہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے غریب مسلمان  کسی خوش حال معیشت اور مستحکم قومی روایت کی علامات ہیں ۔ کیا یہی ہے وہ پاکستان؟

جب پاکستان بن رہا تھا تو تحریکِ پاکستان کا بیانیہ اور تھا اور پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد وہ بیانیہ بدل گیا ہے ۔ اب یہ بیانیہ ، کوئی بیانیہ نہیں رہا بلکہ ایک کنفیوژن بن گیا ہے ۔ لا الہ کا  منظر یہ دیکھنے میں آیا کہ گزشتہ روز عمر کوٹ میں ایک پاکستانی مسلمان ڈاکٹر نے جو روزے سے تھا ، ایک ایسے سیوریج  سسٹم کے کارکن کو طبی امداد دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ روزے سے ہے اور  مریض کا اُس کے کیچڑ آلود کپڑوں میں طبی  معائنہ نہیں کر سکتا  ۔ چنانچہ اس  ردِ مسیحائی ، غیر ذمہ داری اور غفلت سے  بے چارہ غریب مزدور ایک دہشت گرد ڈاکٹر کے ہاتھوں شہید ہو گیا ۔ کہا یہی ہے اسلام کی تعلیم ۔ کیا یہی ہے پاکستانی مسلمان کا ضابطہ ء اخلاق ۔  نہیں یہ پیشہ ورانہ کرپشن کا  مونہہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہ شرفِ انسانیت کی نفی ہے ۔

رمضان کے اس مہینے میں شیطان  کے قید میں ہونے کے افسانے سنائے جارہے ہیں اور آدم زاد بلا تخصیصِ جنس  ، شیطانوں کے پر پہنے پرواز کر رہے ہیں ۔ سرِ عام رشوت لے رہے ہیں ، عورتیں مرد مل کر  ہسپتالوں سے نومولود بچّے چوری کر رہے ہیں ،  گراں فروشی کے خلاف لوگ چیخ و پکار کر رہے ہیں ، جرائم کا ایک طوفانِ بد تمیزی گلی گلی ، محلے محلے اور سڑک سڑک برپا ہے ۔ گھریلو تشدد کی ستائی عورتیں بچوں سمیت موت کے کنوئیں میں پیدل چل رہی ہیں ۔ کیا یہی ہے احترامِ رمضان ۔ جی ہاں کیونکہ ٹی وی سکرینوں اور رمضان کے خصوصی شوز میں اسلام زندہ ہے اور اس  جرائم  ، قتل و غارت گری اور لوڈ شیڈنگ کی کربلا میں زندہ ہے ۔

ملکی قیادت مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے مارے لوگوں کی چیخ و پکار سے بے نیاز  پانامہ سرکس میں شیروں کا رقص دکھا رہی ہے ۔ وزیر اعظم کے بیٹے جے آئی ٹی میں  پیش ہو کر غریب قوم کے سر پر احسان کر رہے ہیں ۔  انتہائی  سخت سیکورٹی میں  جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت  میں ان ہیروز   کی  لال قالین پر  آمد روفت جاری رہتی ہے  ، اکیڈمی کے  ااندر تفتیش ہورہی ہوتی ہے اور باہر  نون لیگ کے ترجمانوں ، دیوانوں اور شریف خاندان کے پرستاروں  کی فوج ظفر موج  ، عدالت کو مسلسل دھمکیوں  ، دھونس اور  عوام کی عدالت کا ہوا دکھا کر مرعوب کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے ۔ یہ روز کا تماشہ ہے جو سرکاری عمارتوں  کے دروازوں ، احاطوں اور جوڈیشل اکیڈمی کے دالان میں لگا رہتا ہے ۔ اب اُن ترجمانوں ، شریف نوازوں اور نون لیگی متوالوں  میں دانیال ، طلال ، رانا ثنا ، خواجہ سعد رفیق ، حنیف عباسی اور مریم اورنگ زیب کے علاوہ ایک صاحب  بھی ہیں ، جن کا نام غالباً  آصف کرمانی بتایا جاتا ہے اور جن کے چہرے میں  ایوب خان کے زمانے کے ایک وفاقی وزیر  سید احمد سعید کرمانی کا  مہاندرا جھلکتا ہے ، نہال ہاشمی کے لب و لہجے میں  سپریم کورٹ کو  عوامی عدالت میں جانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ۔

احمد سعید کرمانی کے بارے میں استاد دامن کا ایک شعر ایک زمانے میں زباں زدِ عام تھا ۔ فرماتے ہیں :
احمد سعید کرمانی ، یٰسین وٹّو
صدر ایوب دیاں وٹوانیاں نیں
اور کہیں آغا شورش کاشمیری نے بھی ایک پوپٹ فلیتے کو آگ لگا کر یوں پھینکا تھا:
یادِ ایامِ عشرتِ فانی
سید احمد سعید کرمانی

نون لیگ کے ان سارے  ترجمانوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان سب کی "میں " یکساں ہے ۔ لگتا ہے ہر ترجمان یا تو  نواز شریف کی اداکاری کر رہا ہے  یا پھر با امرِ مجبوری   حسن اور حسین شریفین کے سرپرست کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ اس روسٹرم بازی میں  ناگہاں ایک من موہنی سی گڑیا ، جو اپنا نام مائزہ حمید بتاتی ہے ، مریم نواز کی جگہ پُر کرتی ہے اور ترجمانوں کی  "میں "  میں ایک اور میں کا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنی ساری  انفرادی میں ملا کر ایک ہم بناتے ہیں جو  جمع متکلم میں  عدلیہ کو آنکھیں دکھاتی رہتی ہے اور سیاسی مخالفین کے لتے لیتی اور  مخالف لیڈروں کو گالیاں دیتی رہتی ہے اور یہ سب کچھ غالباً احترامِ رمضان کا  شاندار اظہار ہے ۔ الا ماشا اللہ ۔

سیاست دانوں کے  اس احتجاجی میلے  میں ملکی  قانون جوڈیشل اکیڈمی کے احاطے میں کھڑا بغلیں جھانکتا ہے اور خود سے پوچھتا رہتا ہے کہ وہ ہے بھی کہ نہیں ۔ کیونکہ اس شو کے  اصل ہیرو تو حسن اور حسین شریفین ہیں جن کے مداح نون لیگ کے گلو بٹ بریگیڈ کے جنگجو  ہیں ، جو اُن کو حوصلہ دینے ،  اُن کی ہمت بندھانے اور اُن کے وی آئی پی ہونے کے احساسِ تکبر  کو برقرار رکھنے  اُن  کے ارد گرد کھڑے کورنش بجا لاتے رہتے ہیں ۔ اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ لاقانونیت کے داؤ پیچ ہیں اور لا قانونیت وہ بدبختی اور لعنت ہے جو افراد اور اقوام سے انسانی منصب چھین کر اسے جاوروں کے جنگل  کی طرف ہانک دیتی ہے ۔

یہ سارا سیاسی منظر نامہ  کیا ہے ۔ کرپشن اور بیڈ گورننس کے زنداں کی کہانی جس میں ایک قوم ستر برس سے قید ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اُسے اس عذاب سے رہائی کب ملے گی ۔
 

loading...