رمضان کالم

آج جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ، ناروے میں پہلا اور دوسرا روزہ ہے ۔ یہاں بھی مُفتی پوپلزئی کے پیروکاروں نے ایک دن پہلے روزہ رکھا اور کچھ پاکستانی مزاج مُنیبی  مسلمانوں کا پہلا روزہ رہا ۔ رمضان کی آمد پر ناروے کی وزیر اعظم  محترمہ ایرنا سولبرگ  کی رمضان  کی مبارک باد نیک خواہشات کے ساتھ  فیس بُک پر موصول ہوئی تو  دل کو تسلی ہوئی کہ اس دیارِ غیر میں ، جسے ہم اپنا قرار دے چکے ہیں ،  سبھی نارویجین مسلمانوں پر امن کا سایہ ء خُدا ئے ذوالجلال ہے۔ اور ہم یہاں پاکستان ، بنگلہ دیش  اوربھارت  کے مُسلمانوں سے زیادہ محفوظ ہیں ۔

رمضان کے اس پہلے دن لاہور سے آنے والی خبروں نے ملول کردیا  ۔ لاہور میں میرے محلے گوالمنڈی میں   ایک مالکِ مکان کا نوجوان بیٹا اپنے کرایہ دار کے  وحشیانہ تشدد کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ کرایہ دار کا الزام یہ تھا کہ اُس کے موٹر سائیکل کی ٹینکی سے پٹرول چوری کیا گیا  ہے اور یہ واردات مالکِ مکان کے بیٹے نے کی ہے ۔ چنانچہ تو تو میں میں ہوئی ہوگی  ، کچھ گالیاں بھی یقیناً چلی ہوں گی اور اُس کے بعد وہی ہوا جو  نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ مالکِ مکان کا بیٹا چوری کے پٹرول کی آگ  میں جل کر موت سے ہمکنار ہوا اور کرایہ دار جیل یاترا پر چلا گیا ۔ لاہور میں رمضان کی اس " بوہنی" پر میرا تو ڈوب مرنے کو جی چاہا ، اور میں جی مسوس کر رہ گیا ۔

گوالمنڈی کے ساتھ بہت سی یادیں عود کر آئیں ۔ اس محلے میں بڑے بڑے ادیبوں کا ٹھکانہ تھا ۔ خواجہ پرویز ، نواز ، شیخ حسام الدین کے بیٹے شیخ ریاض  کا گھر تھا اور میرے لیجنڈ ادیب دوست مستنصر حیسن تارڑ  کے والد چودھری رحمت خان تارڑ کی  پھولوں اور پھلوں  کے بیجوں کی دُکان تھی ، جس میں گدی پر  اکثر و بیشتر مستنصر بیٹھتے تھے اور صبح کو دودھ سبزی کی خریداری کے درمیان ایک پیالی ادبی چائے ہو جاتی یا کسی سفر نامے کے کسی کردار پر بات ہو جاتی تھی ۔ اور آج وہی خوبصورت محلہ مجھے مقتل لگا مگر انا للہ و انا الیہ راجعون کہنے سے زیادہ کی ایک پردیسی میں تاب نہیں ۔ اللہ مقتول کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور  اُس کے ماں باپ اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔ مگر  نہ جانے کیوں  اچانک مجھ سے شعر کی دیوی نے سرگوشی کی ہے :
ہر شخص کو ہر شخص سے خطرہ ہے میری جان
اب گھر میں بھی اک ذاتی محافظ ہے ضروری
کب ،  کون  ، کسے ماردے ،  از راہِ تفنن
بن قتل کیے  ، زندگی لگتی ہے ادھوری

اب ایسے افسردہ ماحول میں رمضان مبارک کی ٹریفک تو  معطل ہو ہی جایا کرتی ہے  لیکن سب کی نہیں کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے جب ایک ہی گلی کے ایک گھر سے میت اُٹھتی ہے تو  اُسی گلی  کی دوسری نُکر پر شادی کی شہنائی بجتی ہے ۔ یہ سب کچھ مشیت کے کھاتے میں ڈال کر  عام  مسلمانوں سے میری  توقع ہے کہ وہ اس مہینے  بھر میں  تربیتِ نفس کرکے  حسبِ مقدور صبر سیکھ لیں تاکہ  آئندہ  ایسی معمولی باتوں پر قتل سر زد نہ ہو  سکیں ۔

ابھی میں اس خبر کی ہلاکت آفرینی سے نہیں نکلا تھا کہ ایک سیاسی بم پھٹا اور پیپلز پارٹی  کی بنیادیں ہل گئیں۔ پرچہ لگا کہ حضرت قبلہ آصف علی زرداری اعلیٰ اللہ مقامہ ، انتہائی رازداری سے پاکستان کو  بے آسرا اور سندھ کو یتیم چھوڑ کر  دوبئی تشریف لے گئے ہیں  ۔ چلو زردار ی کم سندھ پاک ۔ اور  اُن کے ساتھ روٹی کپڑے مکان کی سیاست از سرِ نو   خود ساختہ جلا وطنی میں چلی گئی ہے۔  موصوف  پنجاب کو پنجابیوں کے رحم و کرم پر  چھوڑ گئے ہیں ۔ آخر زرداری صاحب کرتے بھی کیا ۔ اب حالات ایسے نہیں رہے کہ پیپلز پارٹی کو بلاول زارداری، اپنی ماں اور نانا کے  کے نام پر چلا کر پنجاب کو فتح کر سکیں ۔  زرداری صاحب کے بس کی  تو یہ بات  ہے  ہی نہیں  ۔ سو سیاست کی بجائے اب سحری افطاری کی بات ہونی چاہیے ۔

مفتیوں ، دانشوروں ، اینکروں ، اداکاروں اور جُگت بازوں سے رمضان کے فضائل سُنے جائیں اور  اسی تناظر میں میرا بھی  جی چاہا ہے کہ اپنا مونہہ مذہب کی طرف موڑ لوں اور مہینہ بھر کے لیے ہی سہی  ، مبلغ کالم  نویس بن کر  سیاست کے بجائے مذہب کروں  لیکن کیا مجھے اس کی اجازت ہوگی۔  میں  بالکل ایسے ہی  کرنا  چاہتا ہوں جیسے  بہت سے  وہ حفاظ کرتے ہیں جو نمازِ تراویح میں ایک مہینہ قرآن سناتے ہیں اور باقی گیارہ مہینے رمضان کا انتظار  کرتے ہیں۔ میں بھی اس ایک مہینے میں  ڈاکٹر شاہد مسعود ، انیق احمد اور  ٹی وی کے تمام اینکروں کی  طرح وعظ و نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔ مگر صرف خود کو کیوں کہ  خود نصیحتی میں فضیلت ہے  اور خود کو تبلیغ کرکے آدمی مطمئن رہتا ہے کہ اب وہ اپنا پیش رو ،  اما م  ، مصلح اور  استاد خود ہے۔ اور جس نے اس ایک مہیںے میں تبلیغ  اور تربیتِ نفس سے خود کو بدل لیا اُس نے ہر سیاسی لیڈر سے بڑا کام کیا اور وہ معاشرے میں تبدیلی لے آیا  ۔

سو پہلے روزے کا پیغام میں نے خود کو یہ دیا ہے کہ :
کہ جب تک فرد تبدیل نہیں ہوگا ، قوم تبدیل نہیں ہو سکے گی اور رمضان میں افطاری  کی کھجوروں اور سموسوں  سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔
 

loading...