خطروں کے کھلاڑی

خُود کُش دھماکے دوزخ کا عذاب ہیں اور خود کُش جیکٹیں ، گندھک کے وہ کُرتے ہیں ، جن کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے کہ وہ گناہگاروں کا لباس ہیں مگر تعجب تو اس بات کا ہے کہ ہم ، جنہیں ناظرہ کے ثواب پر لگادیا گیا ہے ، اسلام کی حقیقی تفہیم اور طرزِ زندگی سے عملاً محروم ہو گئے ہیں ۔ گزشتہ رات جن لوگوں نے مانچسٹر کے ایک کنسرٹ میں دھماکہ کرکے بائیس افراد کو ہلاک اور بیسیوں کو زخمی کردیا ہے ، اسلام کی کیا خدمت کی ہے ۔

یہی کہ اسلام کے خلاف غیض آلود نگاہوں کے قہر کا گراف مزید اونچا ہوگیا ہے اور اسلام کے بنیادی فلسفے کی امن پسندی پر مزید کئی سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں ۔ آخر اُن آدم زادوں کا قصور کیا تھا جن کے کانوں میں موسیقی کے سُروں کے ساتھ گولیوں ، چیخوں ، آہوں اور کراہوں کی مکروہ آوازوں کا سیسہ اُنڈیلا گیا ۔
ایسے لوگوں کا شمار رحمت للعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں کیسے ہو سکتا ہے جبکہ یہ لوگ نہ صرف حُرمتِ حرا اور مُدنیتِ مدینہ کے بد ترین دشمن ہیں بلکہ دنیا بھر میں مُسلمانوں کے بچوں کو دہشت گردی کے جہنم میں جھونک رہے ہیں ۔

مگر تعجب ، اچنبھے اور تاسف کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے حق میں دلیلیں بھی موجود ہیں کہ دہشت گردی امریکہ اور اُس کے حلیفوں کی اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی کا منطقی ردِ عمل ہے ۔ چلیے اِس دلیل کو مان لیتے ہیں مگر جو لوگ ان جنگوں میں دونوں طرف سے ہلاک ہو رہے ہیں اور جنہوں نے ملکی اور قومی سطحوں پر یہ لڑائیاں لڑی ہیں وہ نہ امریکی تھے نہ یورپی بلکہ مسلمان تھے ۔ جی ہاں ، مجھے معلوم ہے کہ آپ، نیٹو کا طمانچہ میرے گال پر ماریں گے مگر مسلمان ملکوں کی آپس کی دشمنی کا ذمہ دار کون ہے ۔ اشرف غنی اور نواز شریف ایک دوسرے کے خلاف سرحدی اور چھاپہ مار کاروائیاں کیوں کرتے ہیں ۔ کیا یہ دونوں لیڈر اور سربراہانِ مملکت اخُوت ، بھائی چارے اور درگزر کے اسلامی تصورات سے نا آشنا ہیں۔ اسلام تو مسلمان بناتا ہے ، افغان یا پاکستانی نہیں مگر لگتا ہے یہ لوگ اخوت تو درکنار پڑوسیوں کے حقوق سے بھی نا آشنا ہیں ۔ کیا ان دونوں کے اسلام الگ الگ ہیں ۔ یعنی کیا افغان اسلام اور پنجابی اسلام الگ الگ اور متصادم تصورات ہیں۔

کیا ریاض کے اکیاسی سالہ سعودی بادشاہ سلمان کو ایران سے براہِ راست بات چیت کا ڈھنگ نہیں آتا کہ وہ دنیا بھر کی فو جیں کرائے پر لے کر ایک نئی جنگِ قادسیہ لڑنا چاہتے ہیں۔ کیا ان کی سیاسی و عسکری تربیت میں صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا پر امن نصاب شامل نہیں ہے۔  کیا یہ اب تک خطبہ ء حجتہ الوداع کے پیغام کے مفہوم کو سمجھ نہیں پائے  کہ عرب و عجم کی تمیز غیر اسلامی ہے بلکہ فسادِ آدمیت ہے ۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ من حیث الاُمت ہم نے اسلام کی تعلیمات کو عملاً یک سر پسِ پُشت ڈال رکھا ہے مگر اپنے ذاتی سیاسی و حکومتی مفادات کے لیے اسلام کو ایک استحصالی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ ہماری ان کوتاہ اندیشیوں کا حاصل یہ ہے کہ ہمارے بچے ۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی نئی نسلیں ، نئی دنیا کے مسلمان دہشت گردی کے میدان میں خطروں کے کھلاڑی بن کر رہ گئے ہیں ۔ اُن کا مقدر ہر لمحہ خطرات میں گھرے رہنا اور خوف و دہشت کی فضا میں دُبک کر سسکنا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ اُس کا موسیقی کا کنسرٹ سُننے کے لیے لیا گیا ٹکٹ موت کا گیٹ پاس بن سکتا ہے یا اُس کا فضائی سفر حرام موت کے دروازے کھول سکتا ہے ۔

بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ کہ مسلمانوں کے مابین سارے دینی رشتے خوف اور دہشت کی موت مر چکے ہیں ۔ شہروں میں ہر طرف شکوک و شبہات کی آندھیاں چل رہی ہیں ۔ ہر داڑھی والا شخص ، ہر کلین شیو یا بے ریش مسلمان کو شک و شبے کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہر داڑھی والے پر القاعدہ یا داعش کے رُکن ہونے کا شُبہ ہوتا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ لاہور کی کسی یونی ورسٹی یا کراچی کی کسی تعلیم گاہ میں جو پروفیسر ریاضی پڑھا رہا ہے ، اصل میں کون ہے ۔ اُس کی نظریاتی وابستگیاں اور رابطے کہاں کہاں ہیں اور اُس کے ڈانڈے کس کالعدم تنظیم سے ملتے ہیں ۔ اور یہ ہے کہ وہ اصل میں ہے کون ۔

معاشرے میں دوطرفہ باہمی اعتماد کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ڈان لیکس سے پیدا شدہ صورتِ حال گواہ ہے کہ ملکی قومی ادارے بھی ایک دوسرے سے بد ظن ہیں ۔ اور یہ ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے جانے کس کے اشارے پر اور کیا کیا کام کرتے ہیں ۔ پی آئی اے کو انسانی سمگلنگ کے علاوہ منشیات کی ٹریفک میں کس گاڈ فادر نے پھنسایا ہے۔ ادارے تو ادارے ، اب تو معاشرے میں لوگوں کے درمیان دوطرفہ اور باہمی اعتماد تک ناپید ہو کر رہ گیا ہے جس نے ہر شخص کو انفرادی طور پر عدم تحفظ سے دو چار کر رکھا ہے ۔
خُدا جانے دہہشت گردی کا جو طوفان نیویارک کے جڑواں ٹاوروں کی تباہی سے شروع ہوا تھا ، اپنی تباہی تقسیم کرتا کہاں جا کر رُکے گا ۔ اس طوفان سے نہ مسجدیں محفوظ ہیں ، نہ صوفیوں کی درگاہیں ، نہ گوردوارے نہ گرجے ، نہ سکول ، نہ کالج اور نہ ہی یونورسٹیاں ، نہ مسلح پولیس اور نہ ہی رینجرز ۔ اور یہ سب کچھ وہ لوگ کر رہے ہیں جو خُدا کی رضا کے طالب ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ راستہ صرف ایک ہی جگہ لے جاتا ہے جس کا نام ہے جہنم ۔

تعجب تو یہ ہے کہ دہشت گردی کی اس جلتی پر طرح طرح سے تیل ڈالا جا رہا ہے اور ان تیلوں میں سب سے کارگر ہے بلاس فیمی آئل ۔  اس طرزِ فکر نے شہروں کو مقتل اور ملکوں کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے مگر قاتل اپنی جگہ مطمئن ہیں کہ وہ خُدا کی رضا کے لیے خون بہا رہے ہیں ۔ اور علما میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو جہالت کے اس اندھیرے میں روشنی کر سکے کیونکہ تقریروں اور وعظوں سے روشنی ممکن ہی نہیں اور وہ اس لیے کہ فیضانِ نظر موجود نہیں ہے:
وہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

دور دور تک کوئی عارف ہے نہ مجدد ، نہ عالم نہ دانشور ، نہ فقیہہ اور نہ ہی کوئی سیاسی رہنما ۔ اور وہ اس لیے کہ ہم نے خُدا کو چھوڑ اپنی انا کو خُدا بنا لیا ہے اور اپنی پوجا میں لگے ہیں اور کوئی ایسا نہیں جس سے مسلمانوں کا دکھ بیان کیا جا سکے :
اے بادِ صبا ! کملی والے سے جا کہیو ، پیغام میرا
قبضے سے اُمت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی

loading...