تاریخ مُخاطب ہے !

مذہب کے نام پر مُلک بنانا اور پھر اُس میں مذہب کو مسخ کرکے اُس کے گوناگُوں بلکہ " ون سونّے "  ایڈیشن تیار کرکے رائج کرنا اور خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قتل کو روا سمجھنا بہت مشکل کام ہیں لیکن ہم نے اُنہیں بہت آسانی سے کر دکھایا ہے ۔ ہتھیلی پر سرسوں جمائی ہے اور گنجے سروں پر گندم کاشت کی ہے ۔ ہیں ناں ہم اس عہد کے معجز نُما لوگ ؟

ہم سے پہلے کوئی اُمّت ایسی  نہیں گزری جو ہم جیسی  با صلاحیت ، اہل اور مذہب پرست ہو  کیونکہ ہم نے خُدا اور دولت کا فرق ہی مٹا دیا ہے اور اب ہر بڑے گھر سے جو نکلتا ہے وہ قارون ہی نکلتا ہے۔ اور سیاست  کا پہاڑ کھودو تو ہر بل سے فرعون ہی نکلتا ہے ۔ اب اس بات کو ستر برس ہو گئے ہیں ۔ اور ستر برس کی یہ قوم نو زائیدہ ہے ۔ دودھ پیتی بچی ہے ، خوابوں کے جھنجھنوں سے کھیلتی ہے اور کُرپشن کے پوتڑوں میں پیشاب کر دیتی ہے ۔

مگر کوئی کرائے کا دانشور ، خفیہ ہاتھوں کا پلا صحافی یا ٹی وی کا لفافہ بوائے یہ کہنے کی  مجال نہیں رکھتا کہ مسلمانوں کی تاریخ تو جزیرہ نمائے عرب میں غارِ حرا سے شروع ہوتی ہے جو کم و بیش پندرہ صدیاں پرانی ہے اور برِ کوچک میں یہ محمد بن قاسم کی آمد سے اور پھر خاندانِ غلاماں سے شروع ہوئی اور مسلمانوں نے اس خطّے میں صدیوں حکومت کی ۔   مگر ہم بے چارے اب تک نوزائیدہ ہیں ۔  بالکل ایسے جیسے اسلام چودہ اگست انیس سو سنتالیس کو وحی ہوا ہو ۔

اور اپنی نو زائیدگی کا یہ اعلان حکمران ، سیاستدان ، علماء ، عسکری فرشتے ، ایجنسیاں اور اُن کے میاں مٹھو اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی نالائقی پر پردہ ڈال سکیں اور اپنی نا اہلی  کی دانشورانہ تاویل پیش کر سکیں ۔  اگر برصغیر کی تاریخ انگریز سے آزادی کے بعد سے شروع ہوتی ہے تو بھارت اور پاکستان ہم عمر ہیں اور دونوں قومیں دودھ پیتی بچیاں ہیں  اور ستر  سال میں جا کر اس قابل ہوگئی ہیں کہ ایک دوسری کا مونہہ نوچ سکیں ، ایک دوسرے کے بال کھینچ سکیں اور  ہاتھا پائی کرتی رہیں۔  لیکن یہ سب  آدمی کی حد تک  ہے ۔ تاہم سٹیٹ کرافٹ میں ذاتی دوستیاں اپنی جگہ معتبر ہیں ۔ صاحب لوگوں کے کُتے ایک ساتھ گولف کے میدان میں گیندیں مونہہ میں لے کر خوش فعلیاں کرتے ہیں ۔ چنانچہ مودی جب چاہے اپنا برقی گھوڑا دوڑاتا رائے ونڈ کی گلیوں میں رقص کرے یا جندل نام کا تاجر  قیصرِ  رائے ونڈ کا مہمان بن کر اُن کے سرکاری ڈرائنگ روم میں بریانیاں چرتا پھرے مگر عام پاکستانی اور بھارتی دشمن ہیں ۔ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں جو ہر روز دن میں کئی بار نفرت کے پھپھولے پھوڑتے ہیں اور کافر کافر کافر کی تسبیح پڑھ کر سرحد کی جانب مونہہ کر کے پھونکتے ہیں لیکن یہ روم کا شریف ہو یا پاکستان کا نیرو جلتی ہوئی لاشوں اور بہتے ہوئے خون پر بانسری بجانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا  اور اُس کی سرحد پار دوستیوں پر بھی کوئی قدغن نہیں ۔

سوال یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف آباد مسلمان ، ہندو، بدھ ، جینی ، سکھ اور عیسائی کب تک اس دشمنی کی چکی میں پستے رہیں گے ۔ کب تک وہ غربت اور نفرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
اسلام تو نوعیت اور ماہیت کے اعتبار سے ایک گلوبل مذہب ہے جو تمام مذاہب کے احترام کا سبق دیتا ہے اور "  کان الناس اُمتہ واحدہ "  کہ کر سب کو انسانیت کی لڑی میں پروتا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تفسیری بد بختی  سے قرآن کو اقوامِ عالم میں متنازعہ بنا  رکھا ہے ۔ ہم نے اپنی اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ بہت ہی درناک باب ہے ۔ جب مستقبل کا مورخ پاکستان کی تاریخ مرتب کرے گا تو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرے گا  جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر مذہب کو  نابود کرتی رہی تھی ۔  وہ مسلمان کہلواتی تھی لیکن جس نے کبھی ایمان کی بنیادی تعریف کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھا تھا اور یہ تک نہیں جانتی تھی کہ ایمان مفصل میں جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے وہ  اُس میں من حیث الاُمت  موجود ہیں بھی یا نہیں ۔ اس مذہبی عہد نامے میں تو جو لکھا ہے وہ یہ ہے:
" میں ایمان لایا اللہ پر اور اُس کے فرشتوں پر ، اُس کی تمام کتابوں پر ، اُس کے سارے رسولوں پر ، روزِ حساب پر ، اچھی اور بُری تقدیر پر  جو اللہ کی طرف سے اور حیات بعد موت پر "

لیکن اللہ اور اس کے فرشتوں کا تو ہمیں پتہ نہیں کیونکہ ہم میں سے نہ کسی نے اللہ کو دیکھا ہے اور نہ فرشتوں کو ، مگر ہم یہ مانتے ضرور ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ دو فرشتے ہیں جو کراماً کاتبین کہلاتے ہیں اور ہمارے سارے کرتوتوں کا روزنامچہ تیار کرتے ہیں۔ اور ہم اُن کی موجودگی میں کرپشن کرتے ہیں ، رشوت اور ملاوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں اور اللہ کا قانون توڑتے ہیں اور یہ روز ہوتا ہے۔ اور ہمیں بالکل بھی شرم نہیں آتی ۔ اب رہ گیا دوسرے رسولوں اور دوسری کتابوں پر ایمان تو وہ ہمارے بس کا نہیں کیونکہ ہم اپنی کتاب بھی ناظرہ پڑھتے ہیں اور ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اور نہ ہی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے ہیں کیونکہ اُن کو جاننا عمل میں ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے اور جہاں تک دوسرے پیغمبروں کو ماننے کا معاملہ ہے تو اس کی گواہی اقلیتوں سے ہمارا سلوک دیتی ہے  کہ ہم اُنہیں مانتے ہیں یا اُن کی تضحیک کرتے ہیں ۔۔

اور یہ ہے ہماری ستر سالہ تاریخ جو ہم سے ہر وقت مخاطب رہتی ہے ۔ اور سوال کرتی ہے کہ جن لوگوں کو دین کے نام پر لا کر یہاں آباد کیا گیا اُن کے ساتھ حکمرانوں ، سیاستدانوں ، جرنیلوں ا، علماء اور دانشوروں نے مل کر کیا سلوک کیا ؟
کیا ا یسی ہی ہوتی ہیں  مذہب کی علم بردار قومیں؟
 

loading...