کوڑا کرکٹ کے ایک سو ایک نام

آدم و حوّا زاد ایک سایئکو سومیٹک مخلوق ہے ۔  اس کا نفسی خلل ، ذہنی پریشر یا داخلی تصادم  اُس کے قویٰ اور ظاہر ی وجود پر اپنا اثر مرتب کرتا ہے  اور اُس کا گوشت پوست کا ڈھانچہ اُس کی باطنی کشمکش کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن نے واضح کیا کہ :
" یعرفون المجرمون بسیمٰھم  فیوخذ بالنواصی والاقدام " سورہ الرحمٰن ۔ آیت اکتالیس

مجرم اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور  اُنہیں پیشانی کے بال اور پیر پکڑ کر گھسیٹا جائے گا ۔
اس سے نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ باطن کی نجاست ظاہری جسم پر اُترتی ہے  جس سے چہرے کے خدو خال اپنی  حالتِ زار  سے جرم کی گواہی دیتے ہیں۔ اور بد اعمالیاں اپنے مونہہ سے بول کر  اندر کے آدمی کا ایڈریس ، سٹیٹس اور سٹیشن بتاتے ہیں ۔ صاحبِ اعمال خواہ کتنا ہی قیمتی امپورٹد سوٹ پہنے ہو  اور اعلیٰ کوالٹی کی ولائیتی خوشبو ہی لگائے ہو ، چہرا اُس کی عیاری اور مکاری کی چغلی کھاتا ہے۔

اس کیفیت کی ایک بڑی عمدہ مثال مجھے آسکر وائلڈ کے ناول " دی پکچر آف  ڈورین گرے " میں دکھائی دی ، جس میں ڈورین گرے کی پورٹریٹ اُس کی بد اعمالیوں کی وجہ سے پڑی پڑی ایک خوفناک عفریت کی تصویر میں بدل جاتی ہے ۔

اور اس اصول کا اطلاق صرف افراد پر ہی نہیں بلکہ پوری معاشرتی ہیئت پر یکساں طور پر  ہوتا ہے ۔ معاشرہ ان رنگ برنگے عیاروں ، مکاروں ، جعلسازوں اور منافقوں کی وجہ سے اپنی اجتماعی ہیئت میں دوزخ آثار بن جاتا ہے جہاں لوگ طرح طرح کے مصائب کا شکار ہو کر  انسانی منصب سے گر جاتے ہیں۔  اور یاجوج ماجوج معاشرے کی باگ ڈور سنبھال لیتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے معاشرتی حالات جیسے ہیں وہ بے حد تشویشناک ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے معاشرہ کسی عذاب میں مبتلا ہے ۔ ڈینگی مچھروں کا سُن کر  وہ سرسُریاں یاد آتی ہیں جن کا ذکر کتابِ الٰہی میں کیا گیا ہے ۔ پُرانے عارفوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب آگ ہے جو ان دنوں پاکستان کے  کئی شہروں میں بھڑکی ہے اور جس نے املاک اور سازوسامان کے علاوہ زندہ انسانوں کو بھی نہیں بخشا ۔ ملک کے طول و عرض میں جرائم کی ایسی ایسی خوفناک اور گھناؤنی  واداتیں روز مرہ مشغلہ بن گئی ہیں  کہ جن کو پڑھ  کر ، سُن کر  اور ٹی وی پر دیکھ کر عقل  انگشت بدنداں رہ جاتی ہے  

کیسا عجیب منظر نامہ ہے :

عورتیں ہسپتالوں سے بچے چرا کر بیچ دیتی ہیں ، دھوکہ دہی ، ٹیکس چوری ، ملاوٹ ، رشوت اور گراں فروشی کا بول بالا ہے ۔ کم عمر لڑکے کاروں کی بیٹریاں  نکال کر  بیچنے میں یدِ طولیٰ رکھنے  لگے ہیں ۔ نشہ آور ادویات تعلیم گاہوں میں بک رہی ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں  کے وارڈ غللاظت اور بد نظمی  کے ڈھیروں تلے دبے،  مریض مفت طبی امداد کی چکی میں اس طرح پیسے جا رہے ہیں کہ اُن کو  مفت سرکاری علاج پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی  مہنگا پڑتا ہے ۔ کئی مریض طبی اداروں کے دروازوں پر ایڑیاں رگڑ کر اتنی سہولت سے جان دے دیتے ہیں  کہ اُنہیں ہسپتال اور اُس کے عملے کا احسان  تک اُٹھانا نہیں پڑتا ۔۔

یہ سب ایک اسلامی ملک کا  منظر نامہ ہے جس کے عوام تو اذیت کی چکی میں پس رہے ہیں مگر اُس کے حکمرانوں کا اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی تعلق ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے جس کا  پردھان منتری پاکستانی وزیر اعظم کا خاندانی دوست ہے مگر دونوں ملکوں میں اینٹ کُتّے کا بیر ہے جو وزیر اعظم کی پردھان منتری سے ذاتی دوستی پر ایک تبرہ ہے ۔ دوسری طرف برادر ملک افغانستان ہے جس کی سرحدیں بند ہیں ۔ مشرق اور مغرب دونوں طرف کے راستے خراب تعلقات کی زد میں ہیں جو ملک کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا مونہہ بولتا ثبوت ہیں ۔

ملک کے سیاسی ڈھانچے میں اقربا پروری اور سفارش کا سکہ چلتا ہے اور حکمرانوں کی پالیسی اُس اندھے کی سی ہے جو ریوڑیاں بانٹے تو  بار بار اپنوں کو ہی دیتا ہے ۔  لیکن اس کے باوجود سیاست کے بازارِ مصر میں خریدے گئے ذہنی مریض جو دانشور کہلاتے ہیں ، اپنے آقا کے قصیدے لکھتے ہیں اور اپنے شاہ کے ہر مُخالف کی کردار کُشی کرتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ایک دل چسپ خبر دیکھنے کو ملی کہ جو لیگی گُلو بٹ عمران خان کو گندے انڈے اور ٹماٹر مارے گا ، جن پر " رو عمران رو " لکھا ہو گا ،  تمغے  کا مستحق ٹھہرے گا اور لاکھوں روپوں کو نقد انعام پائے گا ۔ یہ ہے وہ طرزِ سیاست جو دنیا کے اُس ملک کے سیاست دان روا رکھے ہوئے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ۔  یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ اس اُمت کا وقت پورا ہوگیا ۔ کیونکہ کتاب میں یہی لکھا ہے یعنی قانونِ قدرت یہی ہے کہ  کوئی اُمت نہ تو اپنے وقت سے پہلے مٹ سکتی ہے اور نہ وقت آ جانے پر باقی رہتی ہے ۔ تاریخ میں ایسی بہت سی قوموں کا  تذکرہ ہے جنہیں صفحہ ء ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا لیکن خدا کی زمین آباد رہتی ہے اور ناکارہ حکمرانوں کی جگہ ، نئے حکمران لائے جاتے ہیں جو اللہ کے بندوں کی جان و مال کی حفاظت کا فرض انجام دیتے ہیں ۔

کارنامے وہ ہوتے ہیں جو زبانِ حال سے خود بولتے ہیں نہ کہ حکمران گلی گلی جا کر لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ کیا اور اُنہوں نے وہ کیا ۔ جو کیا گیا ہے اور جو ہوا ہے وہ شوگر ملوں اور لندن کے فلیٹوں کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔  اور عوام کی حالتِ زار ، مہنگائی ، بیماریاں ، خود کُشیاں ، بد امنی اور دہشت گردی  وہ کھلی کتاب ہے جو حکمرانوں کی حکمرانی کا قصیدہ گا رہی ہے ۔
ظاہری کوڑا کرکٹ کی طرح یہ باطنی کوڑا کرکٹ ،  جس کے ایک سو ایک نام ہیں ، چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ملک کے   عام آدمی کی زندگی تو  دوزخ مثال ہے جب کہ حکمران اپنے اللوں تللوں میں مست ۔ لیکن  اُن کے قصیدہ خواں اُن کے جور و استبداد کو  اُن کی رحمدلی اور رعایا پروری کی داستان کی بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔
اِلا ماشا اللہ

 

loading...