جمہوری آمریّت

فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا تھا ، جس میں ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے صدارتی انتخاب ہوتا تھا  ۔ یہ الیکٹورل کالج بنیادی جمہوریت کے ان ارکان پر مشتمل ہوتا تھا جنہیں پنچایت ، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر عام ووٹر چنتا تھا ۔ ان لوگوں تک حکومتی  رسائی نسبتاً  سہل تھی ۔ ان بی ڈی ممبروں کو خریدنا  بھی آسان تھا اور  متاثر کرنا بھی ۔ چنانچہ جمہوریت کے نام پر فردِ واحد کی حکمرانی کا یہ کامیاب ترین نسخہ تھا کہ جمہوریت کا  سانپ بھی مر جائے اور آمریت کی لاٹھی بھی نہ ٹُوٹے ۔ یہ نظام بالواسطہ جمہوریت کا نظام کہلاتا تھا لیکن اسی نظام میں اگر تلا سازش کیس  چلا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی کیونکہ یہ نظام جمہوریت کے نام پر بد ترین شخصی آمریت کا نظام تھا ۔  اور بالآخر یہ اپنی موت مرگیا ۔

موجودہ ھکمران بھی کم و بیش اُسی نظام کے مطابق کام کر رہے ہیں مگر ان کا طریقِ کار دوسرا ہے ۔ شخصی آمریت کے اس نظام میں جو کرپشن ، منی لانڈرنگ ، اقربا پروی اور غلام نوازی کے چار ستونوں پر کھڑا ہے،  دھاندلی کا  بنیادی نظام ہے ۔ اس نام نہاد جمہوری نظام کے تحت معاشرے کے ادارہ جاتی کل پرزوں کو خریدا جاتا ہے اور  پھر اُن خریدے ہوئے لوگوں کو  اداروں کو مسلط کر دیا جاتا ہے ، جو ہر جائز اور ناجائز طریقے سے حکومتِ وقت کو  زرخرید  مینڈیٹ کے ذریعے برسرِ اقتدار رکھتے ہیں ۔ اس نظام میں اسمبلیوں کے ممبران کو بی ڈی ممبران کی طرح خرید کر  استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور  اس طرح مینڈیٹ کا ڈھنڈورا پیٹ کر جمہوریت کی بقا کے نام پر ایک ظالمانہ نظام کو عوام پر مسلط رکھا جا تا ہے اور رکھا جا رہا ہے ۔ اس سسٹم کی بقا کے لیے  نہ صرف میڈیا کو بلکہ تعلیمی ، تدریسی ، ثقافتی ، ادبی اور لٹریری اداروں کو بھی  استعمال کیا جارہا ہے تاکہ  وہ اس سسٹم کی بقا کو اپنی بقا کی ضمانت تصور کریں ۔ ادبی اور ثقافتی  میلے ، کتابی شو اور قومی مشاعرے لکھنے والوں کو اس طرح باندھ کر رکھتے ہیں کہ اُنہیں  پانامہ کے  پنڈال میں جھانکنے تک کی فرصت نہیں ملتی ۔ اس عہد میں ادیب اور شاعر جتنا عام آدمی کے دکھ سے بیگانہ ہے ، کبھی نہ ہوا تھا ۔ آج کے بیشتر قلم کار ، صحافی اور ادیب سرکاری کیمپ میں بیٹھے کسی نہ کسی  تمغے یا صدارتی ایوارڈ کے منتظر ہیں کہ کب اور کس طرح اُن کی پذیرائی ہو اور وہ  اپنی پانچوں گھی میں ڈبو کو اپنا سر  زرِ نقد کی کڑاہی میں دے سکیں ۔

یہ ایک بے حد المناک صورتِ حال ہے جس میں قومی وحدت کے  پُرزے  گلی کوچوں اور شہر کے چوراہوں میں سرِ عام  اُڑ رہے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ عام آدمی کی زندگی بے حد اجیرن ہو کر رہ گئی  ہے ۔ سڑکوں پر سفر محفوظ نہیں ۔ ہسپتالوں میں برقت طبی امداد ملنا مشکل ہے ۔ انصاف اتنے مہنگے داموں بکتا ہے کہ  عام آدمی کی تو قوتِ خرید جواب دے جاتی ہے۔  جبکہ انصاف کا گلا کاٹنے والوں کی چاندی ہے ۔ اسلام کے نام پر ہر طرح کی تشدد پسندی مباح ہے ۔  تعلیمی اداروں میں تعلیم جنسِ تجارت ہے اور تعلیم کے نام پر والدین کی جیبیں خالی کرنے کا کام جاری ہے ۔ ایک عجیب معاشرتی بحران ہے جسے کوئی نام دینا مشکل ہے، سوائے اس کے کہ یہ نظام کھاتے پیتے طبقے کی جمہوریت ہے جو دھونس اور دھاندلی سے چلتی ہے اور جس کے پاس یہ دونوں ہتھیار ہیں اس کے پاس پاکستان میں زندہ رہنے کا لائسنس ہے ۔  ورنہ جہنم میں جاؤ ، یونی ورسٹی ہاسٹل میں قتل ہو جاؤ یا داعش میں بھرتی ہوکر خاندان کی ناک کٹوا دو ۔

میں نہیں جانتا کہ ہم سمندر پاکستانیوں  کو ایسے  حالات میں ان حکمرانوں سے کس طرح کا تعلق استوار کرنا چاہئے۔ لیکن  ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم وطن کی محبت میں اندھے ہیں اور اگر کوئی راجہ رینٹل قسم کی  کُرپٹ شخصیت ہمارے پرددیسی گھر میں آ جائے تو ہم اس کے سارے جرائم فراموش کرکے اُس کے آگے پیچھے ہوتے اور اُس کے ساتھ سیلفیاں بنواتے نہیں تھکتے ۔  یہ سب دیکھ کر  یوں لگتا ہے  گویا ہم اُس کی کرپشن سے عشق میں مبتلا ہیں ۔ چنانچہ ہمارے وہاں کی زر پرستی کی صورتِ حال نے دولت کو  خدا سے بھی بڑے منصب پر  فائز کردیا ہے ۔ اور معاشرے میں  کچھ ایسی منفی اقدار کا بول بالا ہے کہ  جس کے پاس دولت ہے اُس کے پاس دین ہے ، ایمان ہے ، عزت ہے ، شہرت ہے اور جس کے پاس نہیں ہے ، اُس کے پاس زندہ رہنے کا استحقاق  تک نہیں ہے ۔

ایوب خان کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان  پر گنتی کے چند گھرانے ہیں جو ملک کے بیشتر وسائل پر قابض ہیں جو اب کم ہو  کر پنجاب کے دو بھائیوں کے ایک ہی گھرانے میں سمٹ آئے ہیں ۔ اب ایک ہی بادشاہ کا نام چلتا ہے جس کے پاس پاکستان کی ساری زمین کی شاملات ہیں اب وہ جس کے نام چاہے الاٹ کرے اور جسے چاہے جاگیر عطا کرے ۔ یہ الگ بات کہ اس عہد کی جاگیریں پرانے زمانے کے مربعوں والی جاگیریں نہیں بلکہ ڈیزل پمپوں کے کارٹل سے لے کر شوگر ملوں تک اور  شاپنگ پلازوں سے لے کر سکولوں اور کالجوں بلکہ مدرسوں تک ، حتیٰ کہ  بیرونی ممالک میں املاک تک قسم قسم کی جاگیریں شامل ہیں۔ لیکن بادشاہی کا انداز تاجرانہ ہے ۔  اس تاجرانہ شاہی کے خلاف دو قسم کی مخالفانہ تحریکیں چل رہی ہیں جن میں ایک تو ان سیاسی حریفوں کی ہے جو اسی تاجر شاہی کے  ہم پلہ حریف ہیں اور اپنی حریفانہ کشمکش میں حکمرانوں کو گرا کر تخت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف چند سر پھرے ہیں جو نظام کو تو بدلنا چاہتے ہیں مگر تبدیلی کا آغاز خود سے کرکے خود کو بدلنا نہیں چاہتے اور در پردہ ان کے عزائم بھی وہی لگتے ہیں جو سب سیاسی  حریفوں کے ہوتے ہیں ۔ یعنی:
خرتید سکتے ہیں دنیا میں عشرتِ پرویز
خُدا کی دین ہے سرمایہ ء غمِ فرہاد
 

loading...