موت کے سوداگر

تین روز پہلے  ویژن فورم کے سربراہ قبلہ ارشد بٹ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اوسلو میں مشال خان کے قتل پر مجلسِ عزا ہوگی ۔ اور کل یارِ ہم مشرب  حضرت نثار بھگت نے فون پر اس کی تفصیل بتائی ۔ یعنی جو قتل مردان کی عبد الولی خان یونی ورسٹی میں ہوا ہے اُس کا سوگ چار دانگِ عالم میں ہو رہا ہے ۔ سو جن دوستوں نے اس سفاکانہ قتل کی مذمت کا بیڑا اُٹھایا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ صرف پاکستانی معاشرہ ہی نہیں  ، پورا عالمِ اسلام قتل و غارت گری اور  سفاکی و بربریت کے دوزخ میں جل رہا ہے ۔

خُدا جانے یہ لوگ یاجوج ماجوج کے لشکری ہیں یا موت کے ٹڈی دل جو ہر طرف گلیوں ، بازاروں ، مسجدوں ، سکولوں ، یونی ورسٹیوں ، درگاہوں اور بس سٹاپوں پر موت کا راشن تقسیم کرتے پھرتے ہیں ۔ پیکِ اجل کے یہ کارندے جو قابیل کے دین پر ہیں ، خُدا کی رضا اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے نام پر  خود بھی مرتے ہیں، دوسروں کو بھی مارتے ہیں ۔ نہ جیتے ہیں نہ جینے دیتے ہیں اور تعجب اور حیرت اس بات پر ہے کہ اس کارِ بد میں علم و عرفان کے علمبردار اور عدل کے فرمانروا بھی دانستہ شریک ہیں ۔

اس عہد میں ایک عجیب مذہبی فلسفہ وجود میں لایا گیا ہے کہ آپ اگر بطور مسلمان  اپنی زندگی قرآن و سُنت کے مطابق بسر نہیں بھی کرتے تو کوئی بات نہیں ، بس ناموسِ رسالت کے تحفظ کے نام پر ایک قتل آپ کو نہ صرف بعدِ مرگ شاندار مقبرہ فراہم کر سکتا ہے بلکہ آپ ایک مکتبِ فکر بن کر لوگوں کی دینی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ آپ کا مزار مرجع ء خلائق بن سکتا ہے  اور آپ  مانگنے والوں کی مرادیں بھی پوری کر سکتے ہیں۔

چنانچہ گمراہ  لوگ جنّت اور ستر حوروں کی آس لگائے توہینِ رسالت کے کسی شکار کو ڈھونڈتے ہیں اور  شارٹ کٹ سے  قتل کے عوض جنت کا ٹکٹ خرید کر سوئے منزل روانہ ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کمیونی کیشن کے جدید آلات بڑا کام دیتے ہیں ، جن کے ذریعے  آپ  اپنے سیاسی یا نجی مخالفین کو سوشل میڈیا پر بنائے گئے جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے پھانس کر  سزائے موت کا امیدوار بنا سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہجوم کی نفسیات بڑی کار آمد ہے کہ کُتے کے باؤلے ہونے کا شور مچا کر لٹھ برداروں کا جمِ غفیر جمع کرو اور چٹ مقدمہ پٹ فیصلہ کے اصول کے تحت اپنے شکار کو باؤلے کُتے کی طرح مروا دو اور مذہبی دیوانوں کی فہرست میں شامل ہو جاؤ ۔

اس سلسلے میں سمجھنے کی اولیں بات یہ ہے کہ کیا کسی مذہب کی ، خُدا تعالیٰ کی یا کسی پیغمبر کی توہین ہو سکتی ہے۔ کیا سورج کی طرف مونہہ کر کے تھوکنے سے لعابِ دہن سورج پر پڑتا ہے یا اپنے مونہہ پر۔ دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبرِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی حُرمت کا محافظ خودد اللہ ہے  اور جس کا محافظ خود اللہ ہو اس ذاتِ والا صفات کی شان میں گستاخی ہو  ہی نہیں سکتی  ۔
اور پھر یہ لوگ ہوتے کون ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے توہین جمع کرتے پھرتے ہیں۔ یہ تو بجائے خود ایک انتہائی اہانت آمیز طرزِ عمل ہے کہ کوئی شخص سچ مُچ یہ باور کرے کہ کسی بزرگ و برتر ہستی کی تضحیک ہوئی ہے ۔  اُس شخص کے قلب و ذہن میں جو سمجھتا ہے کہ توہین ہوئی ہے خود خپثِ باطن میں مبتلا ہے  اور اُس کے مونہہ میں خاک۔

لیکن اس رویے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ مرض کی طرح  ہمارے پرائمری سکولوں سے لے کر کالجوں تک اور کھیلوں کے کلبوں سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی یونیورسٹیوں تک ہر جگہ  سرایت کر گیا ہے اور بچوں کو مذہب کی تضحیک ، توہین اور بے حرمتی کے عوض قتل کی باقاعدہ تعلیم دی جا رہی ہے  ۔ بچوں کے ذہنوں کو آلودہ کیا جا رہا ہے اور یہ دنیا کے ہر اُس خطے میں ہو رہا ہے جہاں مسلمان پناہ گزیں ہیں ۔ گزشتہ دنوں برطانیہ ، سویڈن اور پیرس میں ہونے والے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ قتل کے نت نئے ہتھیار ایجاد ہو رہے ہیں ۔ خود کش بمباری کے بعد چلتی ہوئی بسوں اور ٹرکوں سے ہجوم کے اجتماعی قتل کا نسخہ دریافت ہوا ہے اور اگر  جوابِ آں غزل کے طور پر یہ  اُلٹے بانس بریلی کو چل پڑے تو اس قسم کے واقعات میں ہم آپ بھی اس پاگل پن کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ 

اوسلو کے نواح میں اوٹ اویا میں ہونے والے واقعے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح کا کوئی سانحہ ہم پر بھی گزر جائے ۔ آخر  ہم اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے ۔ مسلمان معاشرے کا ہر بچہ ، خواہ محمود ہو یا ایاز ، یکساں مرتبے کا حامل ہے اور انسانی جان کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ایسے رویوں کا قلع قمع کیا جائے جو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو خونخوار عفریتوں میں تبدیل کر رہے ہیں ۔  یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ایم بی ایس ایس کی دوسرے سال کی طالبہ نورین لغاری اپنے گھر سے بھاگ کر لاہور میں ایسٹر کے موقعہ پر خود کُش بمبار بننے کے لیے نکلتی ہے  تاکہ وہ گرجے میں جمع عیسائیوں کو زندہ جلا دے ۔ اُس لڑکی کے گھر سے فرار کے ڈانڈے داعش سے ملتے ہیں اور اُس کے بارے میں یہ افواہیں بھی سُننے میں آتی  رہی ہیں کہ وہ شام کا سفر بھی کر آئی تھی۔ جب کہ بعد میں اس کی تردید ہو جاتی ہے ۔

یہ ایک بے حد خطرناک صورتِ حال ہے جس کا تدارک ضروری ہے اور اگر ہم نے من حیث الاُمت اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کیا تو قاتل آکاش بیل کی طرح پھل پھول اور پھیل کر پورے مسلمان معاشرے کو لپیٹ میں لے کر سب  کا لہو پی جائیں گے۔ اور  یہ وہ قیامت ہوگی جس کا آغاز ہو چکا ہے ۔ مشال خان کی موت اس بات کا اشارہ ہے کہ معاشرے کا  دشمن  پاگل پن کا عفریت آزاد ہو کر گلی کوچوں میں ننگا ناچ رہا ہے اور ہم سیاست کے نشے میں چور اقتدار شکار کرتے پھرتے ہیں ۔ 
 

loading...