یونی ورسٹی میں قتل

یہ پوسکے یعنی ایسٹر کے دن ہیں ۔ اہلِ کلیسا اپنی روایت کے مطابق  شہادتِ عیسیٰ علیہ السلام  کی یاد میں اپنی مذہبی رسوم ادا کر رہے ہیں ۔ کتابوں کی دکانوں اور لائبریریوں میں ایسٹر کے انڈوں  کے بارے میں کتابوں اور جرائم کی کہانیوں کا چرچا ہے ۔ ہمارے یہاں ناروے میں پوسکے کریم یعنی ایسٹر  کے دنوں میں جرائم کی کہانیوں  کا مطالعہ ایک روایت بن چکا ہے ۔ میں نے کبھی کسی نارویجن بھائی ، بہن یا دوست سے یہ نہیں پوچھا کہ ایسٹر اور جرم کا کیا تعلق ہے ، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے والوں  نے جو جرم کیا ، اُس کو پیشِ نظر رکھوں تو  ایسٹر کا تہوار مجھے جرائم کے خلاف احتجاج کا تہوار لگتا ہے ۔

نظریاتی شہیدوں اور مذہبی اکابرین کی یاد منانے کی روایت ہر مذہب ، ہر کلچر اور کم و بیش ہر معاشرت میں موجود ہے بلکہ کمیونزم جیسے مذہب سے عاری معاشرے میں کارل مارکس کو  باقاعدہ  یاد کیا جاتا ہے۔ جب کہ سقراط سے لے کر امام حسین  علیہ السلام  تک اور صوفیا میں منصور بن حلاج سے لے کر خواجہ شہاب الدین سہروردی تک  تاریخ کے سینوں میں محفوظ وہ ارفع اور اعلیٰ شخصیات ہیں ، جن کی یاد  باقاعدہ منائی جاتی ہے ۔

ایسٹر کے انہی دنوں میں ایک قتل مردان کی عبدالولی خان یونی ورسٹی میں ہوا ۔ عبدالولی خان سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کے بیٹے تھے ۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ  میں ان دونوں بزرگوں سے بارہا ملا ہوں  اور اُن سے بیسیوں باتیں رو برو کی ہیں ۔ برِ صغیر کی آزادی کی تحریک  باچہ خان یعنی عبد الغفار  خان کو سرحدی گاندھی کہہ کر بھی یاد  کرتی ہے کیونکہ وہ عدم تشدد کے پُر جوش  پیغمبر اور مبلغ تھے  ۔ ہمارے مولانا ظفر علی خان نے نے اپنے اخبار " زمیندار" میں اُن کی اور گاندھی جی کی مماثلت اس طرح بیان کی تھی:
گپو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں
گو مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں

چنانچہ اپنے عظیم باپ خان عبدالغفار خان  علیہ رحمت  کی طرح  خان عبدالولی خان بھی عدم تشدد اور  عالمی امن کے داعی تھے اور اُن کے نام سے منسوب یونی ورسٹی میں آزادیء اظہار کے ایک بے باک اور پرجوش کارکن  کو ، جس کا نام مشعل خان یا مشال خان ہے ، بڑی بے دردی اور سنگ دلی سے قتل کر دیا گیا  اور اُس قتل کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ اُس نے رسالتمآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔

اپنے ذاتی ، نظرایتی یا سیاسی مُخالفین کے قتل کے لیے اس قسم کا جواز ، الزام اور استدلال  محض ایک اتفاق ہی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سماجی رویہ بنتا جا رہا ہے جو ایک بے حد سنگین معاملہ ہے۔  اور اس سلسلے سے مسلمانوں کے طرزِ عمل پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے  اور اس قسم کے مواقع پر  یہ سوال یھی عود کر آتا ہے  کہ جب نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی بات کر بلا تحقیق بیان کرنا سب سے بڑا جھوٹ ہے تو پھر  بلاس فیمی کے ضمن میں تکیہ اسی قسم کی افواہوں پر ہی کیوں  کیا جاتا ہے جن کی تحقیق نہیں کی گئی ہوتی ہے ۔ اس قسم کا طرزِ عمل نبیء پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بجائے خود ایک گستاخی ہے ۔
لیکن ایک ایسی معاشرت میں جہاں سے عدم تشدد کی تحریک چلی ہو ، اور ایک ایسی یونی ورسٹی میں جو باچہ خان کے  نامور بیٹے کے نام سے منسوب ہو ، یہ قتل اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پختونخواہ کی نئی نسل اپنے بزرگوں کی روایات کو بھولتی  جا رہی ہے  اور اس نسل کے لیے بزرگوں کی اقدار ایک  سیاسی نعرے سے زیادہ نہیں  رہی ہیں  ۔ مجھے ذاتی طور پر یوں محسوس ہوا کہ مشال خان قتل نہیں ہوا بلکہ عبد الولی خان کی میت کو قبر سے نکال کر اُس کی بے حرمتی کی گئی ہے  اور اُس کے بعد اسے گولی مار دی گئی ہے یہ کہ کر  کہ :
خس کم جہاں پاک

اس بہیمانہ قتل میں یونی رسٹی کے مالزمین کے شریک ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں  اور ایک ویڈیو بھی دیکھی گئی ہے جس میں مشال خان نے کسی پشتو چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا  ۔ تعلیی اداروں میں اس قسم کی مذموم سیاست کا عمل دخل اس بات کا عندیہ ہے کہ  اب پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم  کوئی علمی مشغلہ  یا ہدایت نہیں بلکہ اس کے برعکس   ایک مذموم سازش کا مضمون ہے  جس کا مقصد نوجوان نسل کی برین وازشنگ کرکے اُسے   روبوٹ بنانا ہے  تاکہ وہ پسِ پردہ ہاتھوں کے مذموم مقاصد کو پورا کر سکے ۔
اس سے پہلے ہم پنجاب یونی ورسٹی اور کراچی یونی ورسٹی سے متعلق ایسے واقعات سے گزر چکے ہیں ، جن میں مسلح طالب علم یونیورسٹی سے گرفتار ہوئے اور جامعات کی شہرت کو نقصان پہنچا اور تعلیم گاہوں کا تقدس مجروح ہوا ۔

اس طرح کے ہنگاموں سے ہم سب اپنے زمانہ ء طالب علمی میں کسی نہ کسی طرح دوچار ہو چکے  ہیں لیکن اُن کہانیوں کو یہاں دوہرانے کا محل نہیں  اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب ہے۔ تاہم ایک بات جو میں یہاں کرنا چاہتا ہوں ، پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی ترجیحات ہیں  کہ وہ مشال خان کے قتل پر اُس کے اہلِ خانہ سے فوری طور پر راطبے میں آنے اور تعزیت کرنے کے بجائے لاہور میں اخبار نویس نذیر ناجی کے بسترِ علالت کے گرد اُن کے اخباری کالموں کی تعریف کرتے نظر آئے ۔ مجھے یہ دیکھ کر اچنبھا ہوا  اور بدمزگی کا احساس بھی اور میں سوچتا رہا  کہ آیا ہمارے سیاستدان عام آدمی کا دکھ جانتے بھی ہیں یا نہیں ؟
لگتا ہے عام آدمی سے  اُن کی ہمدردیاں کرسی سے مشروط ہیں ۔ واللہ علم
 

loading...