غیر موثر اداروں کا نوحہ

موجودہ پاکستان غیر موثر اور کرپٹ اداروں پر مشتمل ایک پینل ہے جو پچھلے ستر سال میں بطور قوم اپنی ساکھ نہیں بنا سکا ۔ یہ بات لکھتے ہوئے میں عجیب ذہنی اذیت سے گزر رہا ہوں مگر کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ کرپشن اور نا اہلیت کے اس اندھیرے میں کوئی تو ماچس رگڑے اور تیلی جلائے ۔ میں جانتا ہوں کہ میری اس تیلی جلانے کا کوئی نوٹس تک نہ لے گا ۔ اور جس معاشرے میں کسی بات یا معاملے کو دفن کرنے کے لیے مٹّی پاؤ کا فارمولا موجود ہو وہاں نوٹس لینے کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے ۔

مگر کیوں؟ ایسا کیوں ہے ؟
شاید یہ اس لیے ہے کہ غیر موثر ادارے مُردہ ادارے ہوتے ہیں جن کا واحد استعمال یہ ہوتا ہے کہ ان اداروں میں کام کرنے والے عملے کے لیے روٹی ، کپڑے اور مکان کا بندبست ہوتا رہے ۔ ان اداروں کی موجودگی معاشرے میں تکلف محض ہوتی ہے ، کیونکہ یہ ادارے اِمپوٹینٹ  ہوتے ہیں اور حسبِ ضرورت کارکردگی نہیں دکھا سکتے ۔ امپوٹینٹ کا اصل اردو متبادل خصی ہے جس کا استعمال ناگوار لگتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے بلی کی نجاست کی طرح ہیں جو نہ لیپنے کی ہے اور نہ پوتنے کی ۔ یہ ادارے خانہ پُری کے لیے منصوبے بناتے ہیں مگر ان کی صلاحیت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہدف پورے نہیں کرسکتے ۔
اس  ملک کے چار بڑے ادارے ہیں جو اس ملک کے بیس کروڑ عوام کو عذاب میں مبتلا کیے ہوئے ہیں ۔ اور وہ ادارے ہیں مذہب ، فوج ، سیاست اور عدلیہ ۔ ان اداروں نے اپنے پبلسٹی کے شعبوں کے ذریعے اپنا ایک امیج تعمیر کر رکھا ہے جس کی عملی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جب میں عمل کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب حاصل شدہ نتیجہ ہے کہ ان اداروں نے اپنی کارکردگی کے ذریعے ملک کے عام آدمی کو کچھ دیا یا صرف اپنی بقا کی جنگ میں ہی مبتلا رہے ہیں ۔

ان اداروں میں کام کرنے والوں کے لیے یہ ادارے وہ مرغیاں ہیں جو ہر روز سونے کا انڈا دیتی ہیں مگر عام آدمی کے لیے یہ مسائل اور مصائب تقسیم کرنے والے ڈپو ہیں ۔ آج میں جس ادارے کو موضوعِ بحث بنانا چاہتا ہوں وہ ہے مذہب جس کے دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ علما ، فقہا اور شیوخ کا ہے جو مسجد ، مکتب اور دار الافتا ٗ میں مذہب کی توجیہ اور تشریح کرتے ہیں اور دوسرا حصہ عوام کے فنون کے شعبوں پر مشتمل جو تہذیبی ، ادبی اور ثقافتی اقدار کو رواج دیتے ہیں ۔ ان دونوں شعبوں کا کام شہری کے فکری مزاج اور روحانی تشخص کی تعمیر ہے ۔ یعنی ان کا کام عام آدمی کی فکری اور روحانی تربیت کرکے اُسے قانون کا پابند شہری بنانا ہے تاکہ ملک میں کرپشن کی روایت کا رُخ موڑ کر ایک مثبت تہذیبی روایت کو رواج دیا جائے ۔

لیکن کیا یہ ادارہ ستر برس میں اپنا ہدف پورا کرسکا ہے؟ کیا یہ مسجدیں اور مدرسے عام آدمی کو خلقِ عظم کا سبق دے کر اُسے صادق اور امین بنا سکے ہیں اور عام پاکستانی کو تخلیقی صلاحیتوں سے لیس کرکے ، ایک ایسا معاشرہ وجود میں لا سکے ہیں جو محبت ، حکمت ، صداقت ، اخوت اور خلق کی اعلی قدروں سے مالا مال ہو اور قیامِ پاکستان کے وقت اس خطے کے مسلمانوں کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ان کی کوئی عملی صورت بھی ممکن ہو پائی ہے یا نہیں ۔ لیکن ان اداروں کی مہربانی سے جو ملکی وسائل کے ساتھ ساتھ غیر ملکی قرضوں سے چلتے ہیں ، پاکستان ایک خطرناک معاشرہ بن چکا ہے جہاں لوگوں کو جان و مال کی حفاظت کی ضمانت نہیں ملتی ۔ جہاں کروڑوں بچے تعلیمی سہولت سے محروم ہیں ۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو بدن کی روحانی غذا ہے ۔ مذہب نے اس کو فرض قرار دیا ہے لیکن یہ اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے تو وہ کس طرح کے شہری بنیں گے اور کون سا اسلام سیکھیں گے ۔

اس ضمن میں شیخ سعدی نے ایک بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ :
بے علم نتواں خُدا را شناخت
کہ بے علم آدمی تو خُدا کو بھی نہیں پہچان سکتا ۔ جو خُدا کو نہیں پہچان سکتا ، اُس مسلمان کے مذہبی عقائد کی حیثیت کیا اور نوعیت کیا ہوگی مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی معاشرے کے ناخداؤں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ محض تکلف کے طور پر کہہ دیتے ہیں کہ حکمرانوں نے نوٹس لے لیا ہے ۔ یہ نوٹس لینا شلغموں سے مٹی جھاڑنے کا سا ایک ٹونہ ہے ، ایک منتر ہے جس کو پڑھ کر لوگوں کی آ نکھوں میں دھول جھونک دی جاتی ہے کہ اب حکمران اس مسئلے کو حل کریں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔

اس صورتِ حال میں مذہبی اکابرین اور انٹیلیجینشا Intelligentsia دونوں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے مال بنانے میں لگے ہیں ۔ خاص طور پر انٹیلی جینشیا جو لفافوں ، عہدوں ، تمغوں اور تحفوں کی رشوت کے عوض کرپشن کے دفاع میں مصروف ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ادبی اور ثقافتی ادارے جنہیں دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف لڑنا تھا وہ ان دونوں لعنتوں کے فروغ میں منہمک ہیں ۔ اور عام پاکستانی کے موقف کو ترجیح دینے اور اس کے مسائل کے حل پر زور دینے کے بجائے کرپٹ اور مراعات یافتہ طبقوں کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ انسانی زندگی کی جو ناقدری اسلام اور روشن خیالی کے پرچموں تلے پاکستان میں ہو رہی ہے ، اُس کی مثال ہمیشہ ان زوال پذیر معاشروں کی کہانیوں میں ملتی ہے ، جو بالآخر معدوم ہو گئے ۔ ممکن ہے جھوٹی امید کے پیغمبروں کو میری یہ بات بری لگے مگر یاد دلاتا چلوں کہ اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایسی ہی بات کہی تھی اور وہ یہ تھی :
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو !
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

پاکستان کے معاشرے میں علمی شعبے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس پر جعلسازوں کا قبضہ ہے۔ ہر طرف جعلی عامل ، جعلی پیر ، جعلی حلالہ فقیہہ ، جعلی مفتی ، اور جعلی مذہبی دانشور ہیں جو خود کو ابنِ رشد ، ابنِ خلدون اور امام غزالی سے کم نہیں سمجھتے مگر جن کا کام انسانی جانوں سے کھیلنا ہے ۔ حال ہی میں پیر عبدالوحید کی کہانی سامنے آئی ہے ، جو اپنے مریدوں کو ، بلا تخصیص تذکیر و تانیث ، برہنہ کرکے کوڑوں سے مارتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ ان کے گناہ جھاڑ رہا ہے ۔ اس کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ان سب کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے گویا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ری ان کارنیشن ہے ۔ اس کہانی پر بہت سوں کو یقین ہے کہ بیس آدمیوں کا قاتل یہ پیر فرستادہ ء خُدا ہے ۔ یہ اس تصویر کا ایک رُخ ہے جب کہ دوسری طرف میڈیا اور شعبہ ابلاغ جعلی ادیبوں ، شاعروں ، دانشور کہلانے والے جاہلوں ، زبان خراب کرنے والے اینکروں ، دوسروں کی تحریریں چرا کر اپنے نام سے چھاپنے والے ، دوسروں سے معاوضے کے عوض لکھوا کر شاعر اور ادیب بننے والوں کا ایک لشکر ہے جس میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب بیس کروڑ مسلمانوں کے ملک میں ہر شخص شاعر ہوگا ، دیوان لکھے گا اور غالب و میر کا ہم پلہ کہلائے گا ۔

اس صورتِ حال کو دیکھ کر کون کہے گا کہ پاکستان ترقی نہیں کر رہا ۔ اگر بچے کو دودھ نہیں ملتا تو اسے کسی جدید امرتا پریتم کی نظم سنا دو۔ لوگوں کو پینے کاپانی نہیں ملتا تو انہیں کسی شاعر کی بارش پر لکھی ہوئی نظم سنوا دو ، کسی فاقہ زدہ کا پیٹ بھرنے کے لیے اُسے کسی پنجابی شاعر کی پکائی ہوئی شعری دال سے نہلا دو ، کوئی روٹی مانگے تو اسے روغنی نان پر لکھا کسی کشمیری شاعر کا شعر سنا دو ، کیونکہ اس عہد میں لفظ روٹی ہی روٹی ہے اور پانی کا لفظ مونہہ سے نکالو تو چناب چل کر آپ کے گھر آ جائے گا ۔
اسے کہتے ہیں ترقی ۔

loading...