کالم نگاری کی بیماری

تحریر اور ردِ تحریر ، ابلاغ اور ردِ ابلاغ اور مدح  و ذم ،  سب کے سب جدید معاشرتی اور  صحافتی لوازمات ہیں ۔ کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے ناگزیر ہیں  کیونکہ نقار خانے کے  طوطیوں  کا منصب یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے لہجے میں ٹیں ٹیں کرتے رہیں ۔

میڈیا ایک صحرا ہے جس میں صدا تو سب قلم بردار  لگاتے ہیں ، مگر کشکول سب  کا نہیں ، معدودے چند  کا ہی بھرتا ہے۔ اور یہ وہ گروہ ہے  جو سوشل سٹیٹس  سے مشرف ہے ۔ سوشل سٹیٹس کو آپ قارئین کی سہولت کے لیے لفافہ سٹیٹس بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مجھے لگا کہ کالم نگاری بھی شاعری کی طرح ایک بیماری ہے ۔ چنانچہ عرض کیا ہے:
قلم لہرا کے کالم لکھ رہا ہوں
تیری تعریف ، بالم لکھ رہا ہوں
پھپھولے دل کے مجھ کو پھوڑنے ہیں
گلوچم ، گالی گالم لکھ رہا ہوں

گالی گالم کوئی میری اختراع نہیں ، بلکہ یہ پاکستان ٹی وی کے ٹاک واک شو کے ماڈلوں کا عشوہء لسانیات ہے ۔ ان ٹاک واک شوز میں بڑے بڑے جغادری ماہرینِ اردو اور شین  قاف سے مسلح جنگجو  ، اردوئے معلّیٰ کی ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ اگر اُستاد داغ سُن پائیں تو  فرطِ حیرت و استعجاب سے انگشت بدنداں  رہ جائیں ۔ اردو ایک آزاد قوم کی زبان ہے لیکن قوم کی غالب اکثریت کے لیے یہ نہ صرف دوسری زبان ہے ، بلکہ ایک لحاظ سے اجنبی بھی ہے کہ اس قوم کے کروڑوں بچے تعلیمی سہولتوں سے محروم ہونے کی بنا پر  لسانی آزادی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے ۔ اس قوم کی بد نصیبی دیکھئے کہ ناخواندگی کی بنا پر ایک طرف تو عام پاکستانی آزادی کے حقیقی تصور کا فکری احاطہ نہیں کر سکتا اور دوسری طرف خواندہ لوگوں کی فکری و تہذیبی جہالت کے وار  بھی سہتا  ہے ۔

جی میرا مطلب سمجھے آپ ؟ میں عرض کر رہا ہوں کہ جب لوگ تعلیم سے محرومی کی اذیت سہ رہے ہوں تو وہ کیا جانیں کہ قانون یا آئین کیا ہوتا ہے اور جب وہ جانتے ہی نہیں تو  وہ اُس پر کیسے عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات قومی اسمبلی کے ممبروں کو معلوم ہے چنانچہ وہ بھی  قانون  سازی کے بجائے یا تو نئی گالیاں مرتب کرتے ہیں یا پرانی گالیوں کو نئے سیاق و سباق میں آزماتے ہیں  تو جوابِ آں غزل کے طور پر گالی کا وزن برابر کرنے کے لیے گھونسہ بطور قافیہ پیش کیا جاتا ہے :
فاعلاتن ، فاعلاتن ، فاعلات
ایک ٹھڈا ، ایک گھونسہ ، ایک لات

لیجیے پارلیمانی شعر ہو گیا  جو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے حوالے سے ہے ۔ فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ:
از کوزہ ہمیں بیروں تراود کہ در اوست
برتن سے باہر وہی کچھ نکلتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے ۔ مٹی کے لوگ مٹی کے برتن ہیں اور اُن کی آپس کی کھٹ پٹ ، تو تو ، میں میں اور آپس کی بد تمیزی کو مٹی کے برتنوں کا آپس میں ٹکرانا قرار دیا سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ باگ گھریلو جھگڑوں کے بارے میں جو میاں بیوی کے درمیان ہوتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں کہ جہاں دو برتن پڑے ہوں ، اُن میں سے  ایک کا دوسرے سے ٹکرا جانا تو بنتا ہے ۔ سو یہی قومی اسمبلی میں ہوا کہ پنجابی برتن سے غلیظ گالیاں نکلیں ، اور پشتون برتن سے گھونسہ اور پھر آن کی آن میں ماحول کشورِ حسین شادباد ہو گیا ۔

کیا ہی اچھی ترقی ہوئی ہے کہ گالی اب پولیس چوکی ، تھانے ، شہدوں کے کلب اور غنڈوں کے اکھاڑے سے  نکلتی ، فراٹے بھرتی سیدھے قومی اسمبلی پہنچ گئی ہے جہاں تمام قومیتیں اپنی اوقات کے مقام پر فائز ہو گئی ہیں ۔  یہ سب کچھ نیا نہیں بلکہ ایک عرصے سے شرم و حیا کا یہ شطرنج  کھیلا جاتا رہا ہے ۔ یہ واقعات و سانحات متذکرہ قومی اسمبلی کا انڈیکس ہیں ۔ یہ وہ آئینہ ہیں جس میں ہر ممبر اپنا عکس دیکھ سکتا ہے ۔
گالی شعلے کی لپک ہے ۔ اللہ نے اپنی کتاب میں ، جو اُم الکتاب کہلاتی ہے ، لکھ رکھا ہے کہ جنت میں گالی نہیں ہوگی ۔ اور جو یہاں اس جہان میں گالی دیتے ہیں وہ گالیاں اپنے نامہء اعمال میں اپنی فردِ دشنام ساتھ لے جائیں گے اور اپنی گالیوں کی زنجیریں پہنے چھن چھن کرتے رہیں گے اور نجات کا دروازہ نہیں کھول پائیں گے۔  وہ اس لیے کہ کتاب میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ:
فمن کان ھذہ اعمیٰ ، ھو فی الآخرۃ اعمیٰ
جو یہاں اندھے ہیں ، وہ  وہاں بھی اندھے اُٹھائے جائیں گے ۔ یعنی جو یہاں گالیوں کے اسیر ہیں وہ آخرت میں بھی گالی کی گلی میں ذلّت کی ٹھوکریں کھائیں گے ۔

و علیٰ ھذالقیاس ، کالم لکھے جاتے رہیں گے۔ لوگ اسے تفریح کے طور پر پڑھتے رہیں گے ۔ کبھی لمحہ بھر کے لیے کوئی بات اُن کے دل کو لگے گی ، وہ اسے ایک اچھا خیال سمجھ کر پسند کریں گے یا ممکن ہے کہ وہ آپ کے لکھے کو بکواس سمجھ کر ناک بھوں چڑھائیں گے اور پھراسے نظر انداز کر دیں ۔ مگر سیکھیں گے کچھ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے کتابِ الٰہی سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔ صرف اُس کی ناظرہ خواندگی کو عبادت سمجھ لیا ہے ۔ ایک درویش نے جو قصرِ عارفاں میں  مقیم تھا ، مجھے ایک بار بتایا کہ ناظرہ تلاوت سے ثواب تو ملتا ہے لیکن علم حاصل نہیں ہوتا  اور ہم ثواب کے طلبگار ہیں ، علم و عمل کے نہیں۔ حالانکہ ہم نے اقبال سے یہ بات سینکڑوں بار سنی ہے کہ :
عمل سے زندگی بنتی ہے ، جنّت بھی جہنم بھی
یہ خاکی ، اپنی فطرت میں ، نہ نوری ہے نہ ناری ہے

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے خاک اور نور سے دور دہشت گردی کی نار میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے اور عملِ صالحہ کی پابندی سے آزاد ہو گئے ہیں ۔
 آزادی زندہ باد!
 

loading...