بارود اور کرکٹ

یہ انسانی رشتوں کی موت کا نوحہ ہے ۔ یہ ہماری نفسا نفسی اور بے حسی کا منظر نامہ ہے کہ ایک ہی گلی کے ایک گھر میں جنازہ پڑا ہوتا ہے اور دوسرے گھر میں شادی کی ڈھولک بج رہی ہوتی ہے ۔ یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہماری زندگیوں کے تمام شعبوں میں مختلف انداز میں اپنے پر پُرزے نکالتی دکھائی دیتی ہے ۔

مجھے یاد ہے کہ جب سلمان رُشدی کی کتاب پر توہینِ رسالت ﷺ کے ضمن میں احتجاجی ہنگامے آغاز ہوئے تو میں نے ایک مذہبی کارکن سے پوچھا کہ آپ کو رسالتمآب ﷺ کی شان میں گستاخی کا کتنا دکھ ہوا ہے ؟ کیا آپ نے اس دکھ میں کھانا پینا چھوڑ دیا ہے یا بیوی کے ساتھ سونا ترک کر دیا ہے ؟ آپ تقریر کے دوران جذباتی ہوتے ہیں اور تقریر ختم ہوتے ہی آپ کی چلبلاہٹ واپس لوٹ آتی ہے اور آپ کی گفتگو میں ملال کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔ یہ سارا غم و غصّہ مجھے جزوی اور نمائشی لگتا ہے ۔ یہ تو منقسم شخصیت کا عکس ہے ۔ میری بات سُن کر وہ چراغ پا ہوگئے اور مجھ پر چلانے لگے یہاں تک کہ میرے ملعون ہونے کا فتویٰ جاری کردیا ۔ وہ تو خُدا کا شکر کہ اُن کے فون کی گھنٹی چہچہا اُٹھی اور اُن کی طبعِ ناساز اچانک شکر خند ہو گئی ۔ وہ مجھے اور اور میری گستاخی کو یکسر بھول گئے :
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

ہم تب بھی ویسے ہی تھے اور اب بھی ایسے ہی ہیں ۔ ہم لوگوں کو لاشوں پر سیاست کرنے کے طعنے دیتے ہیں لیکن خود دھماکوں ، لاشوں اور اجتماعی جنازوں کے چالیسویں کا بھی انتظار نہیں کرتے اور کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا کرکے لوگوں کی توجہ دوسری طرف پھیرنے میں یوں منہمک ہو جاتے ہیں ، گویا ہمیں نہ تو لاہور کے خود کُش دھماکوں کا دکھ ہے اور نہ سیہون شریف کی دھمال میں لہو کی خوفناک ہولی پر ہی کوئی افسوس ہے ۔ ہم قوم کو کرکٹ کی افیون کھلا کر سلا دینا چاہتے ہیں تاکہ لوگ وہ سب کچھ بھول جائیں جو ایک مہذب اور ذمہ دار قوم کو ہر گز ، ہر گز بھولنا نہیں چاہیئے ۔
کیا لاہور میں کرکٹ کا میلہ لگانے والوں کو اندازہ ہے کہ گذشتہ دو دھماکوں میں جن کے پیارے لقمہ ء اجل بن گئے ، وہ کرکٹ کے ان ہنگاموں پر کس ردِ عمل میں ہوں گے ؟

مجھے یہ بات دوہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ میچ کس کشیدگی کی فضا میں پولیس اور فوج کے کڑے پہرے میں معقد ہو رہے ہیں ، مگر وفاق اور پنجاب کے حکمران اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ایک سیاسی گروہ کی رائے میں حکمران اس میچ سے مخصوص نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی رائے کو پیتل کے دو بٹنوں کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتیں ۔ سیاست دان اور دانش ور ایک دوسرے کی نظر میں پاگل ، بے ایمان اور وطن دشمن ہیں ۔ لا حول ولا قوۃ۔

راقم الحروف تو پاکستانی معاشرت کا راندہ ء شہریت غریب الوطن ہے ، جسے پاکستان میں اپنے جیسے کروڑوں لوگوں کا دکھ ستاتا ہے جو اپنے وطن میں ہی جلا وطن ہیں اور خطِ غُربت سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ مجے اُن کی حالت دیکھ کر بے بسی کے وہ آنسو یاد آ جاتے ہیں جو میں نے سقوطِ ڈھاکہ پر بہائے تھے ۔ مجھے فوجی آمریتوں سے لاکھ اختلاف سہی مگر پاکستان میں مارشل لاؤں کے مداحوں اور پرستاروں کی بھی کمی نہیں جو نظریہ ء ضرورت کو نظریہ ء پاکستان پر ترجیح دینے میں ذرا سی تاخیر بھی نہیں کرتے ۔ اور وہ جو مذہب کے نام پر عام آدمی کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں اور جنہوں نے دہشت گردی کی کھیتیوں میں ، شریعت کے نام پر اپنی کج فہمی کی کھاد ڈالی ہے ، اُنہوں نے تو ملک کو مقتل بنا کر رکھ دیا ہے ۔

پاکستان کی سات دہائیوں کی تاریخ میں حکمرانوں کے ہاتھوں عوام کا کتنا بھلا ہوا ، بجلی اور پانی کا فقدان اُس کا گواہ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ اعدادو شمار کی کلاشنکوفوں سے بڑے بڑے معرکے سر ہوئے ہیں مگر دہشت گردی کا میدانِ جنگ شہادت دے رہا ہے کہ حکمران تو ہر دور میں اپنے اللو تللوں سے عیش و عشرت کی دوبئی میں رنگ رلیاں مناتے رہے مگر عام آدمی کا سکھ ، چین اور معیارِ زندگی موت کے گھاٹ اُتر گیا ہے ۔ قوم کا بال بال بین الاقوامی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ حال ہی میں میڈیا میں جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق ہر پاکستانی ایک لاکھ سولہ ہزار روپوں کا مقروض ہے ۔ ایسے میں ایک شرعی سوال چُٹکی لیتا ہے کہ کوئی بھی مقروض ، موت کی صورت میں ، قرض کی ادائیگی کے بغیر قبر میں اُتارا نہیں جا سکتا ۔ اور وہ لوگ جو خود کُش دھماکوں میں لقمہ ٗ اجل بنے ، سرحدوں پر شہید ہوئے یا پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے گئے ، سب کے سب قومی مقروض تھے۔ مگر اُن کی میتیں غیر شرعی طور پر دفن کر دی گئیں ۔ مگر کیا کیا جائے کہ اس زمانے میں کفر کا شیر اور شریعت کی بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں اور جائز و ناجائز کی تمیز تک باقی نہیں رہی ۔ رہے نام اللہ کا !
 

loading...