دلوں کو ملانے والی سڑکیں اور پُل

منم عثمان مروندی کہ یارِ شیخ منصورم
ملامت می کُند خلقے کہ من بر دار می رقصم
اور شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کی درگاہِ عالیہ قلندریہ پر سینکڑوں دھمالی لہو میں نہا گئے ۔ دار محبت پر رقص برپا ہو گیا اور ایسا رقص کہ رقاصوں کے پرزے اُڑ گئے ۔ اور پرزے کچھ ایسے اُڑے کہ پر لگا کر کچرا کُنڈی پر جا گرے ، جہاں آوارہ کُتّے ، جنگلی چوہے ، چیلیں اور گدھ اُن کی بوٹیاں چکھتے اور ضیافت اُڑاتے رہے ۔

ان جانوروں کو اس قسم کی غذا کی فراہمی پر شاہ مراد ، اُن کی کابینہ ، سندھ کی صوبائی اور ضلعی بیوروکریسی مبارک باد کی مستحق ہے ۔ اور شاہ مراد جیسے فرض شناس وزیرِ اعلیٰ کو خصوصی ہدیہ تبریک، جو میڈیا کی خبروں کے مطابق اپنے انتخابی حلقے سیہون میں مچی قیامت سے آنکھیں بند کرکے ، بڑے سائیں آصف علی زرداری کے سواگت کے لیے ہوائی اڈّے چلے گئے۔  وہ جانتے تھے کہ بڑے سائیں کی قدم بوسی ، لال شہباز قلندی کی درگاہ کی خبر گیری سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ قلندر کی درگاہ تو وہیں سیہون میں ہی رہے گی جبکہ سائیں زرداری اپنے گھر دوبئی سدھار جائیں گے ۔ سو شاہ مراد نے وہی کیا جو بادشاہ کیا کرتے ہیں ۔
ہمارے حکمران ہمیشہ سے ایسے ہی سنگدل اور سفاک ہیں مگر بیان جاری کرنے میں اُن کا کوئی ثانی نہیں ۔

عزیزم بلاول زرداری نے بھی دما دم مست قلندر کی ادائے دلبری کے ساتھ نعرہ لگایا ہے کہ سیہون دھماکے ذمہ داروں اور ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ اب کوئی اس برخوردار سے پوچھے کہ میاں صاحب زادے ! کہ آپ کے والدِ نامی و گرامی ، جو ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز رہے ، آپ کی یہ خواہش تو پوری نہ کر سکے کہ آپ کی والدہ ماجدہ اور اپنی بیوی کے قاتلوں کو اپنے دورِ اقتدار میں کیفرِ کردار تک پہنچا سکتے ۔ اس تناظر میں آپ کے اس بیان کو کیا اہمیت دی جا سکتی ہے ۔ آپ ان غریب دھمالیوں کے قاتلوں کو ، جو سیہون کی درگاہ میں لقمہ ء اجل بنے ، کیسے کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔ اور یہ بات بھی آپ کو فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ آپ کے سگے ماموں میر مرتضیٰ بھٹو کا لہو جس گردن پر ہے ، وہ بھی کیفرِ کردار تک نہیں پہنچی ۔ آخر پیپلز پارٹی کب تک ذوالفقار علی بھٹو کے خون کی کمائی کھاتی رہے گی ۔ لہو کی یہ سیاست ختم ہو چکی ۔ بھٹو پاکستانی عوام کا قائد تھا ، پیپلز پارٹی کے اقتدار کی لاٹری نہیں ۔ آج کا پنجاب بھٹو کو ڈھونڈتا ہے ، بھٹو کے سمدھی خاندان کو نہیں ۔

سیہون سے پہلے برپا ہونے والا لاہور دھماکہ ، سندھی حکمرانوں کی طرح ، پنجاب اور وفاق کے حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی کا بین ثبوت ہے ۔ حالات اور واقعات نے ثابت کیا ہے کہ پنجاب اُن سہولت کاروں کی جنت ہے ، جہاں وہ خود کُش بمبار تیار کرتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت لنڈا بازار کی وہ فیکٹری ہے ، جس کے ان دنوں میڈیا میں چرچے ہیں ۔

ہمارے عسکری اور سول حکمرانوں سے جو سب سے بڑی فاش بلکہ فحش غلطی سر زد ہوئی ، وہ مسلح تنظیموں کی تشکیل اور اور اُن کا اسلحے سے لیس کرنا تھا ۔ یہ بندروں کے ہاتھوں میں استرے دینے کا عمل تھا جس کی سزا یہ قوم کئی دہائیوں سے بھگت رہی ہے ۔ یہ تنظیمیں فرقہ وارانہ نفسیاتی شکنجے میں جکڑی ہوئی ہیں ۔ فرقہ واریت کسی بھی ملت کی وحدت کا جنازہ ہوتی ہے ۔ اگر حکمرانوں کو ملی وحدت کا ذرا سی بھی احساس ہوتا تو و ہ فرقوں کی پر امن بقائے باہمی کا قانون بنا کر سختی سے نافذ کرتے ، جس کے تحت کوئی فرقہ نہ تو کسی فرقے کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا اختیار رکھتا اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ کاروائیوں کا مجاز ہوتا ۔ لوگ چاہے جس فرقے سے بھی وابستہ ہوں ، وہ اُن کا روحانی اور جمہوری حق ہے لیکن اس جمہوری حق میں یہ شق شامل نہیں ہے کہ وہ اپنی فرقہ وارانہ سوچ کی بنا پر کسی دوسرے فرقوں کے جمہوری حقوق پر قدغن لگائیں ۔ بلکہ خود بھی جیئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں ۔ مگر حکمران چونکہ خود بھی فرقہ پرست ہوتے ہیں ، اس لیے وہ جبلی طور پر فرقہ پرستی میں مبتلا ہوتے ہیں اور فرقہ پرستی کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ حالانکہ فرقے کسی بھی مذہب کے مختلف سکولوں کی طرح ہوتے ہیں جن کو مکمل اور خود مختار دین کا درجہ دینا دینی صداقت سے انحراف اور بدعت ہے ۔

اسی لیے قرآن کریم نے لکم دینکم کی ہدایت میں جو معنی پنہاں ہیں ، اُس کی بنا پر فرقوں کے عقیدوں کے فرق کو وجہِ نزاع بنا کر ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے ۔ اس فرقہ وارانہ تقسیم نے ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہم ہر سطح پر تقسیم ہیں ۔ اور اس وقت جو تقسیم سب سے نمایاں ہے وہ لوٹنے والوں اور لُٹنے والوں کی تقسیم ہے ۔ اگرچہ یہ ایک ظالمانہ رائے ہے مگر دوقومی نظریے کی نئی تعبیر یہ ہے کہ پاکستان میں جو دو قومیں آباد ہیں اس میں ایک تو غریب اور مظلوم قوم ہے اور دوسری ظالم اور قومی وسائل پر قابض قوم ہے ۔

چوریاں ، ڈاکے ، سٹریٹ کرائم ۔ پولیس گردی ، پولیس پر جرائم پیشہ لو گوں کی چڑھائی ، میڈیا ہاؤسز کی ایک دوسرے پر دراز دستی ، اور سول عسکری تقسیم ہمارا روز مرہ ہیں ۔ اس تقسیم در تقسیم نے قومی وحدت کو نابود کر رکھا ہے ۔ مگر حکمرانوں کا بال بال پانامہ دفاعی سروس میں جکڑا ہوا ہے ۔ قوم مرے یا جیے اُن کی بلا سے ۔
یہ حکمران سڑکیں اور پل بنانے کے بڑے شوقین ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ :
نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا ، چاہ بنا ، مسجد و تالاب بنا

لیکن حکمرانوں کا اصل کام روحوں کے مابین پل تعمیر کرنا اور دلوں کو ملانے والی سڑکیں بنانا ہے ورنہ باہر بنی سڑکیں ملی وحدت کا مضحکہ اڑاتی رہیں گی ۔
اقبال سے بصد معذرت:
اندازِ بیاں گر چہ سیاسی نہیں میرا
شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں مری بات

loading...