جدید سیاسی فنون

جدید سیاسی فنون میں جو فن پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ہے اپنے سیاسی حریف کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر بیان کی توپوں سے داغ دینا ۔ ہمارے یہاں تو عدالتوں میں بھی یہ بات معزز وکیلوں کی زبان سے کہلوائی جا چکی ہے کہ اسمبلی میں کی گئی حکمرانوں کی تقریروں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جن کو الفاظ ادا کرتے ہیں بلکہ لفظوں کا چولا اُتار کر بات کو دیکھا جائے تو وہ کچھ اور نکلتی ہے ۔

ابھی آج ہی نون لیگ کے رشتہ دار وزیر جناب عابد شیر علی نے فرمایا کہ چند ہفتے بعد عمران خان کو سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا  ۔ اس پر یار لوگوں کا ماتھا ٹھنکا اور لب طنزیہ تبسم  کے پیرائے میں ہلے  کہ کیا اسی طرح گھنسیٹا جائے گا جس طرح خادمِ اعلی و اولیٰ پنجاب شریف نے حضرت آصف علی زرداری کو گھسیٹا تھا ؟ دروغ بر گردنِ شیخ رشید ، وہ تو ایک سیاسی مذاق تھا ۔ لیکن شیخ رشید کے بارے میں عابد شیر علی کا تازہ ترین انکشاف یہ ہے کہ شیخ رشید کی لال حولی عوام کی ہے اور وہ اُن سے لے کر عوام کے حوالے کی جائے گی کیونکہ شیخ موصوف عوام کے مال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ضرور ہوں گے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ کو تیسری بار برسرِ اقتدار آ کر پتہ چلا ہے کہ لال حویلی عوام کا مال ہے ۔

تیسرا الزام عابد شیر علی نے یہ لگایا ہے کہ شاہ محمود قریشی درگاہ کے گدی نشین ہیں اور کالے دھن کو سفید کرتے ہیں ۔ ماشا اللہ ۔ اگر ایسا ہے تو ان تینوں حضرات کر تقریروں سے ہلاک کرنے کے بجائے سچ مُچ کے عملی اقدامات سے کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے۔ مگر لگتا ہے کہ سب کچھ " زرداری گھسیٹ " بن کر رہ جائے گا ۔  کوئی مانے یہ نہ مانے ، ایک بے حد سنگین معاملہ ہے کہ زرداری کو گھسیٹنے والا بیان خادمِ اعلیٰ کے تعاقب میں ہے اور چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اپنا وعدہ پورا کرو۔ مگر شاید  وہ ساری جوئیں مر چکی ہیں جو کانوں پر رینگا کرتی تھیں ۔ شاید ملکی آئین کے غیر تحریری حصے  میں لکھا ہے کہ  جھوٹ بول کر لوگوں کو خوش کرو اُن سے جھوٹ بول کر ووٹت لو اور پھر اس مینڈیٹ کے بل پر اپنی من مانی کرتے رہو ۔

ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کو قانون سازی کا چسکا ہے ۔ آج مولانا فضل الرحمان نے وکلا کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے مگر مولانا !  قانون پر عمل درآمد کرنے والے لوگ آپ کہاں سے لائیں گے کیونکہ حکمران تو اس ملک میں جب تک بر سرِ اقتدار ہوں ، ماورائے قانون ہوتے ہیں اور آپ تو ہر دور میں حکومت میں رہے ہیں۔ یہ قانون سازی کی بات اب ستر برس کے بعد اچھی نہیں لگتی کیونکہ اب سیاسی بیانوں پر اعتبار نہیں رہا ۔ سیاسی بیان اسمبلی میں ہوں یا وکلاء  کنوینشن میں  محض زبانی تکلف ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ جو ملک اسلامی قانون  کے  عملی نفاذ کے بغیر ستر برس تک اسلامی رہا ہے وہ آئندہ ستر برس تک بھی رہ لے گا مگر کتابوں میں مدفون قانون پکار پکار کر کہیں گے  کہ مولانا فضل الرحمان اسلامی قانون کے چمپیئن تھے ۔

ہمارے یہاں حکمرانوں کی لکھوائی ہوئی کتابیں ہمارا بڑا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ان میں پہلی کتاب ایوب خان نے " فرینڈز ناٹ ماسٹرز" کے نام سے الطاف گوہر سے لکھوائی تھی ۔ دوسری کتاب جنرل پرویز مشرف نے ہمایوں گوہر سے لکھوائی اور اب وزیرِ اعظم کی کتاب کا چرچا ہے کہ اسے پاکستان کی ساری لائبریریوں کی زینت بنایا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو پتہ چلے کہ کس طرح ایک نیک دل ، عادل اور غریب پرور وزیرِ اعظم کو پانامہ کی دلدل میں پھینکنے کی سازش کی گئی تھی ۔ اس سے پہلے ایک خاتون دانشور نے عہدِ حاضر کے عمر فاروق کے نام سے جناب شہباز شریف کا قصیدہ لکھا مگر یہ کتاب مصلحت کی نذر ہوگئی ، کیونکہ تعریف میں غلو بہت زیادہ تھا۔ مگر آج سے ستر برس بعد یہ کتاب شریف خاندان کے باقیات میں تبرک کے طور پر شریف میوزیم میں رکھی جائے گی ۔

یہ کتابیں زبانی جھوٹ کے بجائے تحریری جھوٹ کی ذیل میں آتی ہیں اور کاغذ میں لپٹے ہوئے  یہ جھوٹ زبانی جھوٹ کی نسبت قابلِ اعتبار ہوتے ہیں ۔ کتاب مہذب ثقافتوں کی گواہی ہوتی ہے ۔ کتابیں آسمانوں سے بھی اترتی ہیں مگر جب اُنہیں اعمال میں جگہ نہ ملے تو وہ آسمانوں کو واپس لوٹ جاتی ہیں ۔ لیکن بہت سی کتابیں زمین سے  اگتی ہیں مگر زمین سے اُگی بیشتر کتابیں زمین کے ضمیر کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ملکی آئین قانون کو چاٹ جاتا ہے ۔ آپ قانون پر قانون بناتے چلے جائیں مگر آپ کی اوقات وہی رہے گی جو قانون کے بغیر ہوتی ہے کیونکہ آپ قانون پر عمل درآمد سے محروم ہیں ۔

میں یہ سطریں لکھتے ہوئے شدید انتظار کے کرب سے دوچار ہوں اور اُس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب چند ہفتوں کے بعد عمران خان کو لوگ سڑکوں پر گھسیٹیں گے ، جب لال حویلی شیخ رشید سے مونہہ کے نوالے کی  طرح چھین کر عوام کے حوالے کی جائے گی اور شاہ محمود قریشی کو درگاہ میں بیٹھ کر کالا دھن سفید کرنے کے جرم میں گرفتار کرکے سزا دی جائے گی ۔ اس دن میں ساری  نون لیگ کی  بشمول گلو بٹ  اسی طرح دعوت کروں گا جس طرح  سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی دعوت کی تھی ۔ آخر پیغمبروں کی سنت کو زندہ کرنا چیونٹیوں کا کام ہوتا ہے ۔  
 

loading...