جنازوں میں زندگی

ردِ عمل ظاہر کرنے اور کُڑھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں اور پھوڑنے کے لیے دل کے بہت سے پھپھولے ہیں  لیکن اس وقت آپا بانو قدسیہ کی رُخصتی رقم کرنے کا مرحلہ درپیش ہے  کہ وہ اپنے محبوب اشفاق احمد سے ملنے جا رہی ہیں ۔ اُنہیں ڈھنگ سے رُخصت کرنا اور اس رُخصتی کو ایک تقریب بنانا جو ان کے شایانِ شان ہو بہت ضروری ہے۔  کیوں کہ عدم صاحب فرما گئے ہیں:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

 تو واقعہ یہ ہے کہ  بانو قدسیہ مٹی کا لبادہ اُتار کر  روح کا پرندہ بنیں اور اُڑ گئیں  ۔ شرعی روایت کے مطابق  انا للہ و اِنا الیہ رجعون اور دعائے مغفرت کی گھڑی ہے ۔ لیکن موت ہمیشہ میرے لیے تغیّر کا استعارہ بن کر آتی ہے اور مجھے بہت سے عقدے حل کرنے کے لیے دے جاتی ہے ۔ لیکن میں بھی اپنے طور پر بہت چالاک ہوں اور موت کے معمے کی گتھیاں خود نہیں سلجھاتا بلکہ درویشوں اور عارفوں سے پوچھ کر  اُسے رقم کر دیتا ہوں ۔

میں نے ایک فقیر سے پوچھا  کہ موت کے بارے میں تمہارا  علم کیا کہتا ہے  تو اُس نے سر کو اوپر کی طرف اُٹھا یا، آنکھوں سے نکلتی شعاؤں   کو نیل گوں خلا  کی پہنائیوں کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ تم  اس وقت زمین پر ہو اور جب تمہاری روح پرواز کر جائے گی تو تم اُس بلندی پر فائز کیے جاؤ گے جسے آسمان کہتے ہیں اور جہاں کہکشاؤں اور نظامِ شمسی  کا کارخانہ چل رہا ہے ۔  بشرطیکہ ۔ ۔ ۔ ۔
شرط کیا ہے ؟
بشرطیکہ تم جیتے جی مِٹّی کے ساتھ مِٹّی نہ ہو جاؤ  بلکہ محبت کی کیمیا گری سے اپنی مٹّی کو سونا بنا لو ۔ تن کی مِٹّی کو سونا بنانا کیمیا گری ہے ۔

بانو قدسیہ اور اشفاق احمد ایک موزوں ترین  ازدواجی جوڑا تھے جو " طیب مردوں کے لیے طیب عورتوں " کی منفرد مثال  تھے ۔ اس طرح کے بہت سے جوڑے مجھے آج  بھی دکھائی دیتےہیں جو  کیمیا بالمثل کی شاندار مثالیں ہیں ۔ جن کی زندگیوں میں باہمی ربط و ضبط کا توازن حیران کُن ہوتا ہے ۔

اشفاق احمد اور بانو قدسیہ دونوں ادیب ، دونوں ہی مائل بہ تفلسف اور دونوں ہی تصوف آشنا تھے ۔ ان دونوں میاں بیوی نے تصوف کے قریے کا رُخ بہت بعد میں کیا  کیونکہ اُن سے پہلے پروفیسر صفدر میر، اکمل علیمی، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ،  قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی ،  شیخ رشید ( بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیرِ صحت )  اور حنیف رامے اُس فقیر کے حلقہ ء درس میں شامل ہو چکے تھے ، جو بابا نور والے کے نام سے منسوب تھے ۔ اُس حلقے کے ایک دیرینہ طالب علم کے طور پر میں نے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کو ان اسباق میں شامل ہوتے اور نا معلوم اور مخفی دنیا کے دروازے کھٹکھٹاتے اور تصوف کے بال کی کھال اُتارنے میں مگن دیکھا تھا ۔ اشفاق احمد اکثر یہ کرتے کہ وہ حضرت نور والے علیہ رحمت کی گفتگو سے چنیدہ جملے اپنے میڈیا پروگراموں میں شامل کر لیتے ۔ اُن کا مشہور جملہ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بابا جی ہی کے بیانوں کا اختتامیہ جملہ تھا ۔

بانو قدسیہ ایک بہت جہاں دیدہ ، حرف آشنا اور  معاملات کی تہ میں اُترنے والی ادیب تھیں ۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ  دونوں برابر کے افراد تھے کیونکہ روح تذکیر و تانیث سے ماورا اور بالا تر ہوتی ہے اور  جیسا کہ مولانا جلال الدین رومی فرما گئے ہیں :
لیک از تانیث جاں را باک نیست
روح را با مردو زن اشراک نیست
از مونث وز مذکر برتراست
ایں نہ از جان است کز خشک و تر است
(روح انسانی صیغہ ء تانیث کی زیر بار نہیں  ۔ روح کی مرد و عورت ہونے میں کوئی  شراکت نہیں ۔ وہ مونث اور مذکر سے بالا تر ہے ۔ روح کو خشکی اور تری سے شناخت نہیں کیا جا سکتا )

بانو قدسیہ کی روح کا پرندہ جن راستوں پر پرواز کرتا رہا ، وہ روایتی ادیبوں کے لیے اجنبی تھے ۔ بانو قدسیہ نے برِ صغیر کی مختلف فلسفیانہ ، دھارمک یعنی مذہبی  رویات اور ثقافتی دھاروں کو  ایک دوسرے سے ملا کر ایک ادبی کولاژ تیار کیا ، ایک گونہ گیسٹالٹ بنانے کا معرکہ سر انجام دیا، جس کا ایک شاہکار راجہ گدھ ہے اور دوسرا بابا صاحب جس میں اشفاق احمد کو تصویر کیا گیا ہے ۔ میں اس کتاب کو اشفاق صاحب کی فکری بایوگرافی کہہ سکتا ہوں ۔

بانو قدسیہ اُن لوگوں میں سے ہیں جو بُلھے شاہ کی طرح " گور پوے کوئی ہور" کی روایت سے منسلک ہیں ۔  یہ وہ لوگ ہیں جنہیں موت نہیں آتی۔ مجھے آج ٹی وی پر  مرحومہ  کے جنازے میں زندگی بٹتی دکھائی دی اور میں نے فراق صاحب کو یاد کیا:
کسی کی بزمِ طرب میں حیات بٹتی تھی
اُمیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی

میں بصد عجز و نیاز بانو قدسیہ مرحومہ کو آخری سلام پیش کرتا ہوں اور اُن سارے ڈراموں ، افسانوں اور ناولوں کے خزانے کے درمیان ، جو اُن کی تخلییق ہیں،  کھڑا ، خود کو امیر محسوس کر رہا ہوں کہ جانے والے اپنے پسماندگان کو کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز کر جاتے ہیں ۔
 

loading...