دہشت گردی کا قہقہہ

ہیں در پئے غارت گری مذہب کے جُنونی
ٹیکساس سے تا خاکِ کینیڈا و واشنگٹن
اور وہ آگ جس نے افغانستان کو تاراج کیا ، عراق کے پُرزے اُڑائے ، لیبیا کو برباد کیا اور پاکستان کے گلی کوچوں میں پچھلی تین دہائیوں سے وحشت و بربریت کا خونیں کھیل کھیلتی رہی ہے ، اب وہ  اپنے اصلی مرکز کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ امرکہ کا گدھا دوبارہ امریکہ رسید ہو رہا ہے اور وہ اس لیے کہ ہر شے کو بالآخر اپنے اصل ہی طرف لوٹنا ہوتا ہے ۔

حال ہی میں ٹیکساس میں ایک مسجد نذرِ آتش کر دی گئی ۔ کینیڈا کی ایک مسجد میں نمازیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ یہ کیا ہو رہا ہے اور جو ہو رہا ہے وہ تہذیبِ نوی کے موجدوں کے گھر میں ہورہا ہے جو انسانی حقوق کی پامالی  کا رونا  روتے نہیں تھکتے ۔

ان حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ امریکہ کا صدارتی طرزِ حکومت  عالمی معاشی منڈی کی منصوبہ ساز مشینری ہے  جس کے پاس ایک طرف دنیا کے خطرناک ترین جنگی ہتھیار ہیں   جو  امریکہ کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کرتےہیں اور اُن سے بھی زیادہ خطرناک اُس کے اقتصادی اختیارات ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے مغربی حلیفوں کی مدد سے چھوٹی قوموں کو پابندیوں کے سفاکانہ حربوں سے غُربت ، بد حالی اور پسماندگی کی مار مارتا ہے ۔

پچھلی صدی میں متعدد معاشرتوں کو تہ و بالا کرنے کے بعد اب وہ شام  کے در پے ہے جہاں اُس کی بنائی ہوئی داعش کے ہاتھوں شامی عوام سسک سسک کر مر رہے ہیں ۔ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے وہ اتنی خوفناک حکمتِ عملی اختیار کرتا  ہے جس کا براہِ راست نشانہ پسماندہ ملکوں کے غریب عوام بنتے ہیں ۔ وہ اُس کی سفاکیوں اور درندگیوں کے وار سہ سہ کر گمراہ ہو جاتے ہیں  اور وہ داعش جیسی عوام دشمن اور اسلام شکن تنظیموں میں شمولیت میں اپنی عافیت جانتے ہیں ۔

داعش نوعیت اور مزاج کے اعتبار سے کرائے کے سپاہیوں پر مشتمل فوج ہے جس کی فنڈنگ نہ جانے کن کن ذرائع سے ہوتی ہے اور یہ رقم انسانی فلاح اور تعمیر کے بجائے تخریب اور تباہی پر اُٹھ رہی ہے ۔
حال ہی میں کنیڈا اور امریکہ کی معاشرتوں نے جو خونخوار چہرا دکھایا ہے، وہ نائین الیون کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی یاد تازہ کرتا ہےاور باور کرواتا ہے  کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم لازمی اور  دائمی ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ امریکہ میں صدارت کے منصب پر ایک ایسا شخص فائز ہوگیا ہے جو نہ جانے کتنے ہی متضاد اور باہم متصادم شخصیات کا مجموعہ ہے ۔ کبھی کبھی اُس کی حرکات دیکھ کر اور اُس کے اعلانات سن کر اُس کے بد روح ہونے کا گمان گزرتا ہے کہ وہ چنگیر یا ہٹلر کی ری انکارنیشن ہے ۔  یہ سوچ کر میرا دل کانپ جاتا ہے کہ آئندہ دو چار برسوں میں غریب مسلمانوں پر نہ جانے کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔

اور حال ہی میں پاکستانی حکمرانوں اور اُن کی پسِ پردہ قوتوں  کی حکمتِ عملی میں جو  ناگہانی تبدیلی آئی ہے ، اُس کے تحت جماعت الدعوۃ کے امیرِ دہشت و تخریب حافظ سعید کو  نظر بند کر دیا گیا ہے اور یہ اقدام کسی امریکی ہدایت نامے کا اطلاق لگتا ہے۔

ہمارے ہاں ایسٹیبلشمنٹ نے جو مسلح حربی  تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں وہ سب امریکہ اور اُس کے مغربی حلیفوں  کے سیاسی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے آلات ہیں۔  لیکن پاکستان میں وسیع پیمانے پر عوام کی نئی نسل کو مسلح کرکے فوجی تربیت دینے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی گھروں کے برآمدوں میں رکھے گملوں میں بھی اُگنے لگی ہے ۔ ایک سادہ مزاج دہقانی معاشرہ وحشی اور بے لگام بنا دیا گیا ہے ۔ روز مرہ ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں انسان نما درندوں  کی شہوت رانیوں کا شکار ہیں ۔ جائداد پر  ناجائز قبضے کے لیے زندہ انسانوں کو نذرِ آتش کرنے کی روایت چل نکلی ہے  اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ میڈیا کے مداریوں نے لفظوں ، محاوروں ، کہاوتوں اور  فکری تصورات کا مفہوم ہی بدل دیا ہے ۔  اب قوم کا لفظ حکمرانوں ، حزبِ اختلاف ، ملک کے مراعات یافتہ طبقوں اور  نوکر شاہی کے لیے بولا جاتا ہے ، عام لوگوں کے لیے نہیں ۔ عام لوگ تو صاحب لوگوں  کے بنگلوں کے  لانوں اور سرکاری پارکوں  کی وہ گھاس ہیں جو پاؤں تلے روندنے کے لیے ہے  اور  صاحب لوگوں کے گھوڑوں کا چارہ ہوتی ہے۔

ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ اعلیٰ انسانی اور اخلاقی قدروں کا ڈھول مسلسل بج رہا ہے ۔ فصاحت و بلاغت کے دریا بہائے جا رہے ہیں  ۔ منافقت کے بیانیئے کی جگالی جاری ہے ۔ بھاری بھرکم اصطلاحات کے پتھر لُڑھکائے جا رہے ہیں  اور عام آدمی کی  زندگی ان پتھروں نے روند اور مسل ڈالی ہے  جب کہ پس منظر میں دہشت گردی کے تورا بورا سے دو قومی نظریے کے قہقہے سنائی دے رہے ہیں :
قوم کیا چیز ہے  ؟ قوموں کی امامت کیا ہے ؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام
 

loading...