ہمارا پُرانا پاکستان

کل پی ٹی آئی کا پھر جلسہ تھا ۔ عمران خان نے کل پھر  وہی پُرانی تقریر کی  کہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے بغیر تبدیلی نہیں آ سکتی ۔  کل پھر پی ٹی آئی کے جلسے میں نوجوانوں کے درمیان  تصادم ہوا ، خواتین شرکا پر آوازے کسنے کی تاریخ دوہرائی گئی  اور  پولیس کو اجتماع پر دست اندازی کا بہانہ ملا ۔ کل پھر پُرانے پاکستان میں اُس نئے پاکستان کی باتیں ہوئیں جس کے آثار دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہے ۔

ہم یہ باتیں پچھلے ستر برس سے مسلسل کر رہے ہیں  اور پُرانے پاکستان کو مزید پُرانا بنا رہے ہیں ۔ ہم نئی چیزوں کو پرانا بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں ۔ ہم پرانا پُل بناتے ہیں جو افتتاح سے پہلے ہی شہید ہوجاتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ ہم پُرانے گورنر لگاتے ہیں جو لگتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں  اور پھر گورنری کی مسند سے اُٹھ کر قبرستان کی آبادی میں اضافہ کر دیتے ہیں ۔  ہم اداروں کے لیے بسیں منگواتے ہیں جو  کھڑے کھڑے زنگ خوردہ ہو کر  بے کار ہو جاتی ہیں ۔ ہم ہسپتالوں کے لیے طبی آلات اور برقی مشینیں خریدتے ہیں  جو دیکھتے ہی دیکھتے عمر رسیدہ اور بوڑھی ہو جاتی ہیں  اور پاکستان کے پُرانے پن کی گواہی دیتی رہتی ہیں ۔ ہم فنی اور اخلاقی  طور پر نا پُختہ جعلی ٹھیکیداروں سے  پُرانی سڑکیں بنواتے ہیں جو گنتی کے  چند دنوں میں جگہ جگہ سے چٹخنے اور اُدھڑنے لگتی ہیں ۔ ہم منصوبے بناتے ہیں اور اس منصوبہ سازی پر اربوں روپوں  کی لاگت کے حسابات تیار کرتے ہیں  لیکن یہ منصوبے کاغذوں میں پڑے پڑے پرانے ہو جاتے ہیں ۔ ہم سکول بنواتے ہیں  جو اساتذہ اور طلباء کا بوجھ سہار ہی نہیں سکتے اور  خانہ پُری کے لیے سکولوں میں مویشی ، گدھے اور کُتے داخل کرنے پڑتے ہیں ۔

یہ ہے پُرانے پاکستان کی پُرانی سیاست کا پرانا کلچر  جس کے پُرانے پن سے کرپشن کا تعفن اُٹھتا اور ذہنوں کو بیمار کرتا چلا جاتا ہے ، جس کی باز گشت عدالتوں کے ایوانوں سے اُٹھتی سنائی دیتی رہتی ہے اور اب بھی دے رہی ہے ۔ وکیل حضرات جھوٹ کی قے کرتے ہیں جس کی بدبو سے  سماج کے نتھنے جلنے لگتے ہیں، کیونکہ وکیل اب قانون کے بجائے لا قانونیت کے وکیل ہیں اور اُنہوں نے عدالتوں  کے احاطوں میں گولیاں چلا کر شبرات منانے کی روایت آغاز کر دی ہے ۔ اُن کی بندوقوں سے نکلتے  شعلوں  اور چھروں کی بوچھاڑوں سے پرانا پاکستان مزید پرانا ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

پرانی ریلوے لائنوں پر پرانے پھاٹک  راتوں کو ریلوں کے وفاقی وزیر  کی انتظامی بے بضاعتی کا  نوحہ گاتے ہیں  اور اُن کی نوحہ خوانی میں پچھلے برسوں کے دوران ان خُونی ریلوے پھاٹکوں پر موت کا شکار افراد کے لواحقین اور پسمانگان کی آہ و بکا بھی شامل ہو جاتی ہے۔ گزشتہ ایک برس کے اعداد و شمار کے مطابق پھاٹک گردی کا شکار ہونے والوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ہے ۔ اور یہ نوحے اور بین پرانے پاکستان کو مزید پرانا کیے دے رہے ہیں ۔
نہ جانے یہ پرانے لوگ کس مونہہ سے نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں؟

پہلی بار نئے پاکستان کا نام سقوط مشرقی پاکستان کے بعد سنائی دیا تھا  اور بھٹو نے ایک نئے پاکستان کی تعمیر کی بات کی تھی۔ نوے ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کروایا تھا اور شملہ معاہدے طے ہوا تھا  ۔ میں نے اُس نئے پاکستان کے تصور پر " نیا پاکستان" کے عنوان سے ایک کتابچہ قلمبند کیا جس کا دیباچہ ظہیر کاشمیری نے لکھا تھا لیکن اس کتابچے کو  لاہور کے ایک پبلشر  کی مصلحت کھا گئی ۔ اب نہ مسودے کی نقل میرے پاس ہے نہ پبلشر کا اتا پتہ  ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتابچے کا مسودہ دیمک کی خوراک بن گیا ہو۔ 

اس ساری پرانی تاریخ کا دل چسپ پہلو یہ ہے کہ یہ تاریخ صرف ستر برس کی ہے۔ ستر برس میں ایک نسل ٹھکانے لگ جاتی ہے ۔  جس نسل نے پاکستان بنایا تھا وہ اب نہیں رہی ۔  اب ایک نئی نسل ہے جس کو ورثے میں ملا پاکستان نصف سے بھی کم ہے ۔  اتنا کم کہ علاقائی زبانوں ، ثقافتوں ، روایتوں اور صوبائی اختلافات کی آب و ہوا میں اُس کی اصل صورت نظر ہی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں جانتا کہ موجودہ جغرافیائی اور ارضی حقیقتوں میں الجھے اور مذہب کی فرقہ وارانہ تقسیم کی آگ میں جلتے پاکستانی معاشرے میں نئے  نظریہ ء پاکستان کی  اساس اور بنیاد کیا ہوگی ؟

کیا موجودہ پاکستان جو پرانا پاکستان ہے ، الطاف بھائی لندن والے کی پانچویں قومیت کی ضربِ متحدہ  کا متحمل ہو سکے گا ؟
کیا پاکستان کھپے کا نعرہ پاکستان کی ضعیف معاشرت کومضبوطی سے تھام کر قومی وحدت سے ہمکنار کر سکے گا؟
ویسے آپس کی بات ہے ، مجھے آج تک پتہ  ہی نہیں چلا کہ پاکستان کھپے کا مطلب کیا ہے ؟
شاید پاکستان کی ستر برس کی تاریخ میں مجھ سا دوسرا بے خبر آدمی موجود نہیں ہے ۔ 
 

loading...