پارلیمانی گیسٹاپو

یہ کوئی چنگیز خان کے حملے کے بعد کا منظر نامہ نہیں ہے ۔ یہ اکسویں صدی میں ایک مہذب جمہوری ملک کی سیاسی تاریخ ہے:
گلی گلی بوری بند لاشیں ، سرِ راہ ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان ، سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور اہلِ قلم کا اچانک غائب ہوجانا اور پھر اچانک کسی دن مسخ شدہ لاش کا برآمد ہونا،  ایک ایسے ملک کا روز مرہ ہے جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے۔ جہاں سیاسی جماعتیں  اسمبلیوں میں مچھلی مارکیٹوں کا سا سماں پیش کرتی ہیں  اور ایک دوسری کے خلاف دشمنوں کی طرح محاذ آرائی کرتی ہیں۔ جہاں دہشت گردی کو مذہبی جہاد کے نام پر کھلی چھٹی ہے ۔ اُف ، یہ سارا بیان کتنا تکلیف دہ ہے ۔ ان خُوں آشام واقعات و حالات کو سپردِ قلم کرتے ہوئے مجھے شرم آ رہی ہے کہ کیا مہذب جمہوری ریاستیں ایسی ہوتی ہیں ۔

ایسی بحرانی اور بلائے ناگہانی جیسی وارداتوں کا الزام کسی غیبی ہاتھ پر یا کسی بیرونی طاقت پر لگانا کتنا آسان ہے ۔ جی ہاں ،  بہت ہی آسان ہے مگر اس  الزام تراشی میں ایک عذر بیانی  یہ بھی شامل ہوتی ہے کہ  الزام لگانے والا بطور فریق خود اپنی نا اہلی کا اعلان بھی  کر رہا ہوتا ہے کہ وہ حالات پر قابو پانے میں ناکام ہو گیا ہے ۔  لیکن اس کے باوجود ہمارے پاس بہت سے عذر بہانے ایسے ہیں جنہیں ہم لوہے پر لکیر سمجھتے ہیں یعنی: یہود و ہنود کی سازش ، امریکہ کی مسلمان دشمن پالیسی ، روسی الحاد، بھارت کی معاندانہ اور پاکستان دشمن حکمتِ عملی ۔ جی ہاں ان سارے الزامات میں دم ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنا اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

حال ہی میں چند اہلِ قلم جنہیں بلاگر کہا جا رہا ہے، اغوا کر لیے گئے ہیں، اُٹھوا لیے گئے ہیں یا اُنہیں غائب کردیا گیا ہے۔ اُن میں ایک شاعر پروفیسر سلمان حیدر ہیں جو گم شدہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان گم شدگان کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا اور پروفیسر سلمان حیدر کے نام سے میں پہلی بار اسی گم شدگی کے بعد آشنا ہوا کہ وہ شاعر بھی تھے۔ پاکستان کی بیس کروڑ کی آبادی میں  لگ بھگ  تین کروڑ شاعر تو ضرور ہوں گے کیونکہ پانچ دریاؤں کی سرزمین محبت  ، شاعری اور رومانی داستانوں کی وادی ہے ۔  لیکن ان مغوی پروفیسر پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ  وہ " روشنی" اور " بھینسہ" کے نام سے کچھ ویب سائیٹس چلاتے تھے ، جن میں قابلِ اعتراض مواد شائع ہوتا تھا۔ اور یہ کہ پروفیسر سلمان حیدر توہینِ رسالت کے جُرم میں بھی ماخوذ ہیں ۔

دروغ بر گردنِ راوی ، میں نے کبھی ان دونوں متذکرہ ویب سائیٹوں کو نہیں دیکھا ، البتہ گاہے گاہے روشنی سے اخذ شدہ ٹُکڑے فیس بُک پر دیکھنے میں آئے ہیں مگر ان پر بلاسفیمی کا  شبہ کبھی نہیں ہوا ۔ یہ سب ظن، قیاس ، اندازے اور گمان کی باتیں ہیں کہ ایک شخص کو جو اغوا ہوچکا ہے،  سوشل میڈیا ٹرائل کے ذریعے عدم موجودگی میں سنگین الزامات کا سامنا ہے ۔ ایسے الزامات جو قابلِ گردن زدنی قرا پا سکتے ہیں ۔ اس سلسے میں کوئی عدالتی کیس اب تک سامنے نہیں آیا  مگر بھانت بھانت کے لوگ  نہایت سنگین الزامات کے کاغذی جہاز بنا بنا کر اُڑا رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اصل حقیقت کیا ہے کیونکہ ان الزامات کا کوئی دستاویزی ثبوت دستیاب نہیں ہے ۔ سلمان حیدر کی  چند ایک نظمیں جو دیکھنے کو ملی ہیں ، وہ اقبال کے شکوہ جواب شکوہ کے مقابلے میں بہت معمولی ہیں ۔ اُن نظموں کی بنیاد پر بلاس فیمی کا کیس نہیں بنتا ۔

کسی بھی  کردار کے حامل شہری کا کسی مہذب ریاست سے غائب کر دیا جانا  یا ہوجانا ملک کے پورے حفاظتی نظام کے لیے نہ صرف  ایک چیلنج ہے  بلکہ اُس کی کارکردگی اور استعدادِ کار پر ایک سوالیہ نشان ہے، کہ ان اداروں کے ہوتے ہوئے ملک کے شہری غائب کیوں ہو جاتے ہیں ؟ اور غائب ہو کر وہ کہاں جاتے ہیں۔ اور پھر سلیم شہزاد کے عبرتناک انجام کی طرح ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوتی ہے اور اغوا کی کہانی ختم ۔
اس ساری صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟
اس سوال کا جواب ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سیاسی انتظامی ڈھانچہ  ۔ لیکن ٹھہریے ! مجھے کچھ اور بھی یاد آرہا ہے۔ میرے ذہن کے اُفق پر اچانک گیسٹاپو کا گڑا مُردہ  اُکھڑ کر سامنے آ گیا ہے ۔ گیسٹاپو جرمنی کی خُفیہ پولیس تھی جسے ہرمن گوئرنگ نے 1933 میں انتظامیہ اور  عدلیہ کو ملا کر ایک سفاک طاقت کے طور پر منظم کیا تھا ۔
جی ،  اس تنظیم کا  کلیدی نقطہ اور خدو خال   انتظامیہ اور عدلیہ کا اتصال و ادغام ہے ۔ یہ گیسٹاپو طریقہ ء واردات جسٹس منیر کی عدلیہ فروشی سے شروع ہوتا ہے۔ اجمالی طور پر عرض کروں کہ جب انیس سو چون میں گورنر جنرل ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی ختم کر کے کابینہ توڑ دی تو اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے  وفاق کے خلاف فیڈرل کورٹ میں  درخواست دائر کی۔  مگر فیڈرل کورٹ کے بنچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس منیر کر رہے تھے اور بنچ کے ممبران میں جسٹس  محمد شریف ، جسٹس ایس اے رحمان، جسٹس ایس ایم اکرم اور جسٹس اے آر کار نیلیئس شامل تھے، فیصلہ گورنر جنرل کے حق میں دیا اور جمہوریت کی لٹیا ڈبو دی ۔ اور پھر چار سالوں میں پاکستان ایوب خان کی مارشل لا  کا شکار بنا جس میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی۔ اگر تلا سازش کیس شروع ہوا اور ججوں کو اپنے جوتے چھوڑ کر ننگے پاؤں بھاگ کر مغربی پاکستان واپس آنا پڑا ۔ اس کیس میں بھی جمہوریت کے خلاف عدلیہ کو ہی استعمال کیا گیا  تھا ۔ اس سے اگلے مارشل لا میں جنرل محمد ضیا الحق نے نظریہ پاکستان کی جگہ نظریہ ضرورت کے تحت اسلامی ریاست کی بنا ڈالی  اور پھر یہ انتظامیہ عدلیہ ملی بھگت کی داستان پرویز مشرف اور چودھری افتخار کے معرکے میں ایک نیا موڑ لیتی دکھائی دی ہے۔

یہ گیسٹاپو کہانی پاکستان میں انتظامیہ عدلیہ گٹھ جوڑ کی پالیسی کا مونہہ بولتا ثبوت ہے  کہ  اس ملک میں شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے مگر کوئی سوموٹو اقدام نہیں ہوتا ۔ جس عدلیہ کو ایک جج کے گھر میں کام کرنے والی کم سن بچی پر ہونے والا ظلم دکھائی دے جاتا ہے، اُسے ایک یونی ورسٹی پروفیسر کے غائب ہوجانے کی خبر کیوں دکھائی نہیں دی ؟ 

کوئی نہیں جانتا کہ سلمان حیدر اور باقی دو تین  بلاگر کس کی تحویل میں ہیں؟ اگر وہ مجرم ہیں تو اُنہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔ غائب کرنا چہ معنی دارد ۔  مگر ڈر اس بات کا ہے کہیں اُن کا نام بھی حسن ناصر اور سلیم شہزاد کی طرح خون سے ہی لکھا جا چکا ہو: 
وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے
 

loading...