اَلحاد کا کفن

بیس کروڑ غریب مسلمانوں کے ملک پاکستان پر قیامت کی گھڑی ہے ۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر شورش برپا ہے۔ اور مشرقی سرحد پر بھارت نے آج چودہ نومبر کی صبح کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائر کھولا اور پاکستان کے لگ بھگ نصف درجن فوجی جوان شہید کر دیے ۔
اِنّا للہ و انا الیہ راجعون ۔ خدا رحمت کُند ایں عاشقانِ پاک طینت را

یہ تو سرحدوں کی صورتِ حال ہے لیکن مُلک کے اندر بھی بکرے کی ماں خیر نہیں منا پا رہی ۔ شہادت اور قربانی کے خطابیے نے ہمیں اس قدر متاثر کیا ہے کہ ہماری نفسیاتی کایا کلپ ہو گئی ہے اور ہم قربانی کے بکرے بننے کو عین سعادت سمجھنے لگے ہیں ۔ چنانچہ بلوچستان میں شاہ نورانی خانقاہ میں جو قیامتِ صغریٰ برپا ہوئی وہ ہمارے سیاستدانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کے فقدان اور اور ہماری سول اور عسکری انتظامیہ کی لا پرواہی اور نا عاقبت اندیشی  کا چیختا چنگھاڑتا ثبوت ہیں ۔  یہ ملک دشمن ، تخریبی اور دہشت گردانہ کاروائیاں باقاعدہ منظم اور ادارہ جاتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی پاکستان دشمن ادارہ خفیہ ہاتھ کے طور پر کام کر رہا ہے اور خود کُش بمباروں کو ہدف دے کر اُن سے مذموم اور انسانیت سوز کاروائیاں کرواتا ہے ۔

یہ کیفیت اپنی جگہ تشویش ناک ہے مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے عام آدمی کی بھی مت ماری گئی ہے ۔ جس کی دو بڑی ہی بھیانک مثالیں حال ہی میں دیکھنے میں آئی ہیں ۔ ایک واقعہ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے سیالکوٹ میں رونما ہوا ہے جس میں ایک بٹ بدمعاش نے خواجہ سراؤں کو محض اس لیے مار پیٹ کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے  بٹ بدمعاش کی اجازت کے بغیر  ناچ گانے کا کوئی پروگرام  ترتیب دے لیا تھا ۔ حیرت ہے کہ ایک شہر کے اندر کتنی حکمران قوتیں ہیں جو شہر کو چلاتی ہیں اور معاشرتی نظام  کی دیکھ بھال کرتی ہیں ۔
کیا یہ صورتِ حال  شہر کی پولیس کی رٹ کے لیے چیلنج نہیں ہے؟

اب ایک اور واقعے پر نظر ڈالیے :  گجرات کے ایک گاؤں میں پنچایت کے حکم پر  ایک شادی شادہ لڑکی کی آبرو ریزی کی گئی  ۔ اس خاتون کا خاوند کہیں کسی گلف سٹیٹ میں روزگار کے لیے گیا ہوا ہے  ۔ لڑکی آبرو ریزی کے بعد حاملہ ہوئی تو اس نے اس خوف سے کہ شوہر کو کیا مونہہ دکھائے گی ، خود کُشی کر لی ۔
آخر یہ جانوروں کا معاشرہ کیسے وجود میں آ گیا ہے ؟ اور اُس اُمت کے ساتھ جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعویدار ہے ، یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ؟
کیا اِسلامی نظریاتی کونسل کے  صاحبِ فراست مومنین یہ سب کچھ دیکھ نہیں رہے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ اور اُس کا تنظیمی منظر نامہ کچھ ایسا ہے کہ یہان قانون کے بجائے پیسہ چلتا ہے ۔ قانون ہمارا  وہ ہاتھی ہے جس کے دکھانے کے دانت ہی ہمارے لیے کھانے والے دانتوں کے متبادل ہیں ۔ چنانچہ وہ سیاسی سیانے جن کے گھر دانے ہیں، اپنی من مانی کرتے ہیں اور یہی اس بدقسمت قوم کا المیہ ہے کہ وہ جہالت ، سریع الاعتقادی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے زہر سے ہلاک ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ اور اُس پر طرہ یہ کہ اُن میڈیا مداریوں اور نیم دانشوروں کی کمی نہیں جو ٹی وی  ٹاک شوز میں ان اسلام کے غداروں اور انسانیت کے مکروہ ترین دشمنوں کو " اللہ فضل کرے گا " کے خطابیے کا فائدہ دے کر بری کردیتے ہیں ۔
اس صورتِ حال میں نظریہ  پاکستان پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ، اور قائد اعظم  کے مزار سے آہیں اور سسکیاں اُٹھتی ہیں  ، جو پانامہ لیکس کے شور میں کسی کو سنائی نہیں دیتیں ۔
یہ نظریہ پاکستان موجودہ قومی اور سیاسی تناظر میں ہے کیا ؟

میری منکسرانہ رائے یہ ہے کہ اب بہت ہو چکا ۔ ہمیں اب  نظریاتی جمع تفریق کے شطرنج کی بساط لپیٹ دینی چاہیے اور پاکستان کے امن ، ترقی اور خوشحالی کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ پاکستان کے اُس محروم طبقے کی طرف دھیان دینا چاہیے جن کا نام ہی پاکستان ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں  جنہوں نے ایک نئے وطن کے لیے نظریاتی سفر کیا لیکن انہیں کبھی روٹی ، کپڑے اور مکان کے نعرے پر ٹرخایا گیا  اور کبھی جمہوریت کا باجا بجا کر اُن کو بہلایا گیا۔ مگر نہ جمہوریت آئی نہ روٹی کپڑا اور مکان ہی سب کا مقدر بن سکا۔ البتہ حکمرانوں نے اپنے لیے اور اپنوں کے لیے  روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی ۔ تقسیم کے بعد سے لے کر تا دمِ تحریر  لاہور سے اسلام آباد تک ، رائیونڈ سے جدہ تک ،  کراچی سے دوبئی تک اور لندن سے نیویارک تک ، سب بر اعظموں میں  گھٹنوں تک دولت کی ریل پیل میں افراطِ زر کا جشن بر پا ہے  ۔ یہ دنیا کی واحد مملکت ہے جس کے سیاسی قائدین اور حکمرانوں نے مذہبی جنّت کے نام پر ایک انسانی گروہ کو گمراہ کیا ، فریب دیا ، ان کا استحصال کیا  اور اپنے اللوں تللوں کے ذریعے ، دولت کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو دھو کر نہال ہوتے رہے ہیں مگر ان کا جی پھر بھی نہیں بھرا ۔

کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ ایک طرف دولتِ دنیا ہے اور ایک طرف دولتِ دل ۔ دولتِ دنیا ایک نہ ایک دن لُٹ جاتی ہے اور کسی خوبصورت لڑکی کے خفیہ پرس  میں دوبئی چلی جاتی ہے ۔اسی لیے پرانے فلسفی اور صوفی دولتِ دنیا کو مایا یعنی فریب کا جال کہتے تھے ۔ یہ دنیوی مال و متاع ، دولت کم اور ذلت زیادہ ہے ۔ اصل دولت بندے کو  اپنے اندر تلاش کرنی ہوتی ہے ۔ ایک بار مل جائے تو کبھی نہیں لُٹتی ۔ اور یہ دولتِ دل ہی اصل امیری ہے جب کہ  یہ آف شور کمپنیاں اور منی لانڈرنگ کا جال حرص و ہوس کے سوا کچھ نہیں ۔ جس کو دولتِ دل مل گئی اُسے عمر بھر کا اطمینان مل گیا ورنہ دنیا داری کا الحاد کفن بن جاتا ہے ۔  
  
 

loading...