ایک اور یوٹوپیا

ہم ایک ایسے عہد میں زندگی کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے بھیجے گئے ہیں  جس میں نہ صرف پاکستان اور عالمِ اسلام  بلکہ پورے عالمِ انسانیت کا مستقبل داؤ پر لگا ہے ۔ ایک دو روز میں ٹرمپ جیسے سیاسی مسخرے اور ہیلری کلنٹن کے درمیان انتخابی معرکے کا فیصلہ ہونے والا ہے اور نئے چیلنجز سامنے آنے والے ہیں ۔ اس بار امریکی صدارتی انتخاب پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی لڑا جا رہا ہے جس میں ایک طرف مودی نواز امیدوار ہے اور دوسری طرف برائے نام پاکستان نواز مگر نہیں نواز شریف نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔  یہ ابتلاء کا دور ہے ۔ پاکستانی معاشرہ انتشار ، خلفشار اور  شکست و ریخت کا شکار ہے ۔

ایسے میں مجھے یہ بے حد ضروری لگنے لگا ہے کہ قرآنِ حکیم  کی حکمت و دانش جو اب تک صرف اولیائے کرام ، عارفانِ باللہ اور درویشانِ خُدا مست  کے توسل سے عامتہ المسلمین تک پہنچائی جاتی رہی ہے ، اب وہ جدید دور کے  مروجہ لسانی اسلوب ، اظہار کے نئے پیرایوں ، محاروں اور جدید لسانی فیشن کے مطابق پوری انسانی آبادی کے لیے عام کی جائے ۔
قرآن ،  بنی نوعِ انسان کا مشترکہ سرمایہ ہے ۔ وہ کسی ایک انسانی گروہ کی میراث اور اجارہ داری نہیں  لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اِس آسمانی خزانے پر تصرف اور اس کی تعلیم و تربیت کے اہل وہی لوگ ہیں  جو متقی ہیں ، سراپا عجز و انکسار ہیں اور نیک نیتی ، خلوص اور پوری لگن سے اس برتر علم کو اپنی زندگیوں میں برتتے ہیں ، ہر سانس کے ساتھ کتاب اللہ سے اپنے پاکیزہ رشتوں کو نبھاتے ہیں اور اپنے حُسنِ عمل سے یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ قرآن اُن کی زندگی کا ہادی اور رہنما ہے ۔ قرآن جو پرہیز گاروں اور متقیوں کو ہدایت دیتا ہے ۔

چنانچہ قرآن مجید کے ایک فرمانبردار قاری کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں  کہ یہ وقت اس علم کو عام کرنے اور تمام لوگوں کو اس کی عملی افادیت میں شریک کرنے کا ہے ۔  میں نے زندگی کی سات دہائیوں میں یہ دیکھا ہے کہ درسِ نظامی کی تعلیم دینے والے مدارس ، صدیوں تک اپنی تفسیری تدبیروں اور سکیموں کے ذریعے اہلِ منافقت کو راہِ راست پر لا کر ایسے مسلمانوں میں تبدیل نہیں کر سکے جن کے افعال اُن کے اقوال کے گواہ ہوں۔
میں ہر گز یہ نہیں کہ رہا کہ درسِ نظامی کے نصاب کی کُتب ناقص ہیں بلکہ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ مدارس کا طرزِ تعلیم امتدادِ زمانہ کے سب  ناقص ہو چکا ہے اور جدید عہد کے تعلیمی تقاضے پورے نہیں کر پا رہا ۔ یہ طریقِ تعلیم  روح کی پرورش و تزئین کے اسباق نہیں پڑھا سکا اور وہ اس لیے کہ اب وہ اساتذہ ہی باقی نہیں رہے جن کے بارے میں کہا جائے :
جلا سکتی ہے شمعِ کُشتہ کو موجِ نفس اُن کی
الٰہی ! کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں

یہی وجہ تھی کہ سن انیس سو اکہتر میں اسلامی بھائی چارے کا رشتہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو جوڑ کر نہ رکھ سکا  اور اور دونوں بھائیوں کے درمیان ، جن کا سفر مشترک تھا ، اسلام ایک وحدت کار عامل بن کر پاکستان کو  متحد ریاست کے طور پر دوام نہ دے سکا ۔ کیا ہم نے کبھی اس صورتِ حال سے کوئی سبق سیکھا؟ نہیں ۔  حالانکہ اس سچائی سے تمام اہلِ علم و عرفاں آگاہ ہیں کہ اسلام ایک برتر روحانی تہذیب و تمدن کا نقیب ہے لیکن مشرقی اور مغربی پاکستان میں  یہ روحانی تہذیب اپنا معجزہ نہ دکھا سکی  اور اس ملک کی عظیم روحانی روایات کا سنگم  بکھر کر رہ گیا ۔ 

اب قرآنِ کریم کے ماننے والوں کو از سرِ نو ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے ۔ وہ چیلنج یہ ہے کہ تمام آسمانی کتابوں کی تائید و تصدیق و توثیق کا جو  گُلِ نایاب غارِ حرا میں کھلا تھا ، اُس کی تعلیمات ایک بار پھر چار صوبوں اور آزاد کشمیر  میں وحدتِ ملت کے پیغامات کو نظر انداز ہوتا دیکھ رہی ہیں ۔  ہم پاکستانی اُن تعلیمات کو بروئے کار لا کر  کسی ایسے نظام کو مرتب کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں جو اقلیتوں سمیت تمام مذاہب کی اعلیٰ ترین صداقتوں کا نمائندہ ہو اور تمام کتابوں کے لیے ایک چھاتا صحیفہ بن کر اس زمین کے تمام ادیان کے درمیان میثاقِ محبت کو تازہ کرے  اور عالمی انسانی وحدت ، یگانگت اور باہمی ربط و ضبط کا سورج بن کر چار دانگِ عالم کو روشن کرے ۔

ذرا چشمِ تصور سے دیکھیے کہ عالمی وحدت ، یگانگت اور باہمی ربط و ضبط کا وہ سورج کیا ہے جو باطل کے اندھیروں کو مٹا کر انجمنِ مذاہبِ متحدہ کی بنیاد رکھ رہا ہے ۔  یہ وہ تنظیم  ہے جس کے قیام کے لیے پوری انسانی تاریخ  انتظار کی صدیاں شمار کرتی رہی ہے ۔ اور  اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جس میں یہ معجزہ رونما ہونے والا ہے اور خدائے ذو الجلال کے شکرانے کی حتمی ساعت قریب آ رہی ہے ۔
یہ ہے وہ نیا عالمی نظام ( نیو ورلڈ آرڈر ) جس نے خلقِ جدید کی تخلیق اور عالمی نظامِ انسانیت کے باب میں تادمِ آخرت ایک کرادار ادا کرنا ہے ۔

جب عالمِ اسلام قرآنِ حکیم کی حکمت مآبی سے مزین ہو گا تو اس زمین پر کھنچی ملکوں کی سرحدیں بے معنی ہو کر رہ جائیں گی ۔ اور اگر  اس وقت ہم کتابوں کی ماں قرآنِ حکیم کی حکمت مآبی کے اطاعت گزار بن کر  یک جا ، متحد اور متحرک ہو کر متقی نہ بنے تو خسارے کی وہ خوفناک آندھی چلے گی جو اسلامی نظریاتی کونسل ، وفاقی شریعت کورٹ اور  بھانت بھانت کے دارالعلوموں سمیت سارے اداروں کو جڑوں سے اکھاڑ کر  اُرا لے جائے گی۔ سب کچھ مسمار ہو جائے گا  ۔ اور  پھر  اس کے ملبے سے اسلام کا نیا جنم ہو گا اور خلقِ جدید ، خلقِ عظیم کے اخوت کے نظام کو نافذ کرے گی  اور وہ یقیناً ہم نہیں ہوں گے ، وہ ہماری نئی نسل ہو گی۔
 

loading...