پانامہ ری پبلک

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ریاست تھی ۔ اس کے دو بازو تھے ۔ مشرقی اور مغربی ۔ یہ دنیا کا واحد ملک تھا جو جوڑا بن کر جنما اور قائم ہوا تھا ۔ مگر یہ ہنسوں کا ایک جوڑا تھا جس کے مقدر میں بچھڑنا لکھا تھا ۔ سو وہ بچھڑ گیا ۔ جس دن یہ جُدائی واقع ہوئی اُس دن میں ، لاہور کی گلیوں میں اور بہت سے دوستوں کے ساتھ باہیں سر پر رکھ کر رویا تھا ۔ بلیک آٗوٹ کے اندھیرے میں مال اور انارکلی کے سنگم سے کسی نے درد بھری ٓآواز میں تان اُڑائی:
دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گیو رے
گجب ہویو راما جُلم ہویورے

اور اب یہ دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پانامہ ری پبلک ہے ۔ جی ، لیکن میں نے با نانہ نہیں کہا کیونکہ مجھے یہ تک معلوم کہ نومبر کا مہینہ کیلوں کی پیداوار کے لیے موزوں ہے بھی یا نہیں ۔ مگر کیلے چونکہ ناروے کی دیسی اور پردیسی مارکیٹوں میں بڑی وافر مقدار میں دستیاب ہیں ، اس لیے با نانہ ری پبلک کو کیلوں کی افراط کے حوالے سے شناخت کرنا سیاسی بد دیانتی ہو گی ۔ لیکن اس دور میں بانانہ ریاستوں کے علاوہ بھی ریاستیں وجود میں آ گئی ہیں مثلاً دھرنا ریاست اور پانامہ ریاست ۔ علمائے صحافت کا کہنا ہے کہ دھرنا اور پانامہ ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں ۔ یعنی جب تک پانامہ ہے تب تک دھرنے کوئی روک نہیں سکتا ۔ پانامہ ایک سنڈروم ہے ۔ معاشرے کو لاحق بیماری کی علامات کا کچا چٹھہ ہے ۔ جس طرح پانامہ سنڈروم کے کئی پہلو اور مدارج ہیں ، اُسی طرح دھرنا سنڈروم کی بھی کم و بیش ویسی ہی کیفیات ہیں ۔ پانامہ سنڈروم میں منی لانڈرنگ ، آف شور کمپنیاں ، لندن فلیٹس اور وزیر اعظم کی اولاد کے بیرونِ ملک کاروبار اور بیٹی کے وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات کا ذکر آتا ہے تو دھرنا سنڈروم میں کنٹینر کے خُطبات ، تبدیلی آ گئی ہے کا گیت سنگیت ، دمادم مست قلندر کی قوالی ، کلوز ڈاؤن ، آنسو گیس ، پولیس تشدد اور الزامات کی دو طرفہ گو لہ باری شامل ہیں۔ اور ساری بات یہاں پر ختم ہوتی ہے کہ :
اگر میں نے کی ہے منی لانڈرنگ
تو، تُونے بھی کی ہے منی لانڈرنگ
اگر میں ہوں ڈاکو ، تو تُو بھی ہے چور
کہ دونوں نے کی ایک سی ماڈلنگ
چلو آؤ کرتے ہیں ہم مُک مُکا
بجاتے ہیں مل کر نیا جلترنگ

اور سمجھو کہ تبدیلی آ گئی ہے ، اور اس سے بڑی تبدیلی کیا ہو سکتی ہے کہ دو سیاسی مُخالفین کے درمیان مُک مکا ہو جائے ۔
میرے مونہہ میں خاک اگر میں کہوں کہ پاکستان کا نیا نام پانامہ ری پبلک ہے ۔ یہ سٹیٹ سیکرٹ ہے ۔ ایسی باتیں افشا کرنے والوں کو پرویز رشید صاحب کی وزارت کے جنازے سے سبق سکیھنا چاہیے ۔ اسے سب پاکستان ہی کہتے ہیں کیونکہ زمین کے اس ٹُکڑے پر پاکستان کا سائن بورڈ لگا ہے جس پر قائد اعظم کی تصویر بھی لگی ہے، جس کے اردگرد کھوٹے سکوں کی جھنکار سنائی دیتی ہے ۔ کھوٹے سکّے بڑے کام کی چیز ہیں ۔ وہ ہر زمانے میں ہر بازار میں چلتے ہیں۔ اور اِن کے عوض ہر چیز خریدی جا سکتی ہے : قلم سے لے کر زبان تک ، داڑھی سے لے کر بندوق تک اور خطیب سے لے کر دانشور تک ایک ہی بھاؤ بکتے ہیں ۔

اس خرید و فروخت کو اسلامی نظریاتی کونسل یا وفاقی شریعت کورٹ نے کبھی حرام قرار نہیں دیا ۔ اور جب چھینا جھپٹی اور لوٹ مار کی روایت سے اہلِ شریعت چشم پوشی کریں تو سمجھو تبدیلی آ گئی ہے ۔ تب قرآن و سنت بھی اس تبدیلی کا راستہ نہیں روک سکتے ۔ تب ریاست میں ویسا ہی انصاف ہوتا ہے جیسا مُلا نصرالدین نے اکشیہیر کے قاضی کے ساتھ کیا تھا ۔
مُلا کا بیان ہے کہ وہ ایک رات قونیہ کے سفر سے واپس لوٹے تو اکشیہیر کے مضافات میں واقع درختوں کے ذخیرے میں اُنہیں کوئی لاش پڑی دکھائی دی ۔ قریب گئے تو لاش کو خراٹے لیٹے پایا اور اس کے نتھنوں سے الکوحل برس رہی تھی ۔ مُلا نے غور سے شرابی کا چہرا دیکھا تو انگشت بدنداں رہ گئے ۔ ہائیں ، یہ تو قاضی  شہر ہیں ۔ چیف جسٹس صاحب جن کا جُبہ ایک طرف پڑا ہوا سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا اور پگڑی خود ہی اُچھل کر ایک طرف اوندھی پڑی تھی ۔ یعنی مالِ غنیمت ۔ چنانچہ ملا نے پگڑی اٹھائی اور جبہ سمیٹا اور گھر چلے گئے ۔ صبحِ کاذب کے وقت قاضی جی کو ہوش آیا تو گھر کر بھاگے اور اس حال میں کہ نہ سر پر پگڑی اور نہ تن پر جُبّہ ۔
طوہاً و کرہاً یا جیسے تیسے نئی پگڑی اور نئے جُبّے میں عدالت پہنچے اور اپنے پیش کار سے کہا کہ اُن کی پگڑی اور جُبہ چوری ہو گئے ہیں ۔ پیش کار نے بتایا کہ لوگوں نے دیکھا ہے کہ ملا نصرالدین عدالتی جُبے میں ملبوس پگڑی پہنے شہر میں گشت کر رہے ہیں ۔ قاضی نے حُکم دیا کہ ملا نصرالدین کو حاضر کیا جائے ۔
مُلا نصر الدین قاضی کے جبے اور پگڑی میں پیش ہوئے تو قاضی صاحب نے پوچھا ، مُلا جی ! یہ جُبہ اور پگڑی کس کی ہے ؟
مُلا نے جان کی امان مانگ کر عرض کی کہ جناب میں اُسی کو ڈھونڈ رہا ہوں ، جس کی یہ پگڑی اور جُبہ ہے ۔ سرکار جس شہر میں آپ جیسا پابندِ شریعت اور عادل قاضی ہو ، وہاں ایک عدل کُش ، شریعت شکن ، بد کار نشے میں دھت درختوں تلے پڑا تھا۔ اسے نہ تن بدن کا ہوش نہ کپڑوں کا ۔ میں نے اس خیال سے کہ کہیں یہ قیمتی پوشاک چوری نہ ہو جائے ، ساتھ لے آیا اور اب میں اُسی کو ڈھونڈ رہا ہوں تاکہ اُس کی امانت اُس کے سپرد کر سکوں ۔

قاضی صاحب نے ملا کا بیان سُنا اور اپنی پگڑی اور جُبہ ملا کی تحویل میں ہی رہنے دیا ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو بات پانامہ لیکس میں چھپ جاتی  اور جو ہوتا وہ سب کو معلوم ہے ۔ یہ مُک مکا تھا یا نہیں تھا مگر ملا نے قاضی پر یہ راز منکشف کر دیا کہ وہ جانتا ہے کہ عدل کی میزان کتنے پانی میں ہے ۔ اور یہ کہ اب تبدیلی آ جانی چاہیے ورنہ ۔ ۔ ۔ قاضی استعفیٰ دے ۔
لیکن کسی ایک وزیرِ اعظم یا اکشیہیر کے قاضی کے استعفے سے کیا ہوگا ۔ یہاں تو ہر وزیر اکشیہیر کا قاضی ہے اور مُلا نصر الدین ابھی تک کوئی نہیں ۔ تادمِ تحریر کوئی نہیں ۔
 آ

loading...