مہاجر گلوبل موومنٹ ( ایم جی ایم)

جب تک کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ اصل میں کون ہے ، اُس کی اوقات ، اُس کی قدروقیمت ، اُس کی بساط اور اُس کا مبلغِ علم کیا ہے تب تک وہ ایک کثیر المقاصد ضمیر کی طرح ہے جس کی بازارِ سیاست میں خرید و فروخت ممکن ہے ۔  ایسا شخص اُس غلام کی طرح ہوتا ہے جو دنیا کی ہر منڈی میں برضا و رغبت بکنے کی کوالی فی کیشن کا حامل ہوتا ہے ۔

الطاف حسین ایم کیو ایم لندن والے ایک ایسی ہی کثیر الجہت شخصیت ہیں جو اپنی ماں کو دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے بھی باز نہیں آتے ۔ جی ہاں ، وطن کو ماں کہا گیا ہے ۔ مادرِ وطن ۔ بہت سی قومیں اپنے وطن کو اپنے آباؤاجداد کا وطن کہتی ہیں ۔ لیکن کوئی بھی شخص اپنے وطن کی مٹّی کو دشمن کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا ۔ لیکن پاکستان کو اپنا وطن تسلیم کر کے ، اُس کی مٹّی میں اپنی جڑیں گہری گاڑ کر ، اس مٹی میں اپنی دو نسلوں کو جنم دے کر اور پال پوس کر جب آپ اپنی ہجرت کی قیمت لگائیں تو اس طرزِ سیاست کو کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟

ہندوستان سے پاکستان کی ہجرت کے بارے میں میرا موقف یہ رہا ہے کہ ہم سب نے چودہ اگست 1947 کو ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی تھی خواہ ہم یوپی سے ہجرت کر کے آئے ، مشرقی پنجاب سے آئے یا بہار سے یا اپنے گھروں میں بیٹھے برطانوی ہند سے آزادی پا کر پاکستان میں پناہ گزین ہوئے، ایک ہی بات ہے ۔ ہماری یہ ہجرت غلامی کے خطے سے آزادی کی سرزمین کی طرف تھی ۔ اور اس ہجرت نے ہم سب کو مہاجر بنادیا ہے ۔ ہم نے خطا کی کالونی سے پاکیزگی کی سرزمین کی طرف اس آس پر رختِ سفر باندھا تھا تاکہ ہم ایک ایسی سرزمین کو آباد کریں گے جو کرپشن ، بد عنوانی اور جرائم سے پاک ہوگی ۔ ہجرت کے ضمن میں کوئی شخص صرف اس لیے افضل نہیں تھا کہ اُس نے دور سے ہجرت کی ہے یا قریب سے ۔ ہجرت ، ہجرت ہوتی ہے۔ اس میں فاصلے کی بنا پر درجہ بندی ممکن نہیں اور نہ ہی ہجرت کی قیمت لگائی جا سکتی ہے کیونکہ ہجرت اپنا صلہ اور انعام آپ ہوتی ہے ۔

لیکن ایک گروہ جب ہم مہاجر ، ہم مہاجر کی رٹ لگا کر خود کو دوسرے پاکستانیوں سے الگ ، ممتاز اور افضل قرار دینے کی کوشش کرے تو ایسا لگتا ہے جیسے کہ وہ گروہ اپنی ہجرت کی قیمت لگا رہا ہے ۔ اُس گروہ کے سرخیل نے برس ہا برس تک ہجرت کی سیاست کی اور ہر حکومت سے ہجرت کے نام پر اپنا بھتہ وصول کیا۔ لیکن اچانک کیا ہوا کہ وہ شخص پاکستان کے وجود سے نالاں ہو گیا اور اُس نے پاکستان کے خلاف دشنام طرازی شروع کر دی ۔ اُس نے اپنی ماں پاکستان کو جو جو نام دیے ، اُنہیں دوہرانا بہت تکلیف دہ مرحلہ ہوگا ۔ لیکن اُس ساری ناگفتہ بہ اور ناقابل اعادہِ پیان بازی کو ہذیان کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ اُس شخص کی تقریر کو ایک جملے میں یہ کہہ کر سمویا جا سکتا ہے کہ ایک شخص چوک میں کھڑا چیخ چیخ کر لوگوں کو بتارہا تھا کہ اُس کی ماں شریف عورت نہیں ہے ۔

میں نہیں جانتا کہ اس وقت پاکستان کن نادیدہ ہاتھوں میں ہے ۔ وہ ہاتھ پاکستان کے ہمدرد ہیں یا دشمن ، کیونکہ سرحدوں پر دن رات بھارت کی بندوقوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے اور مقبوضہ کشمیر سے نہتے شہریوں اور بچوں پر آتشیں ہتھیاروں کے اندھا دھند حملوں کی خبریں مسلسل آتی ہیں۔ یہ قصہ کوئی نیا نہیں ، پچھلے ستر سال سے یہ اذیت ناک کہانی جاری ہے ۔ لیکن سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں کے چار فوجی حکمران کشمیر کا تصفیہ کروانے میں ناکام رہے ہیں ۔ میں اس صورتِ حال پر اپنا تبصرہ لکھوں تو وہ یہ ہوگا کہ گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ پاکستان کے وجود کو تھامنے والے ہاتھوں کی غیر ذمہ داری ، نا اہلی اور نا لائقی کی تاریخ ہے ۔

مجھے پاکستان کو خیر باد کہے لگ بھگ چالیس برس ہونے کو ہیں مگر میرے پاؤں اب بھی اُسی مٹّی میں گڑے ہیں ۔ اس چالیس برس کے یورپ باس کے باوجود مجھے اصرار ہے کہ میں مہاجر ہوں ، کیونکہ مجھے اقوامِ متحدہ کے مہاجروں کے ہائی کمیشن نے سیاسی مہاجر ہونے کا سرٹیفکیٹ دے کر ناروے بھجوایا تھا ۔ میں اب پاکستانی نژاد نارویجین ہوں بلکہ نارویجین ہوں ، ایشیا نژاد پورپی ہوں ، گلوبل مہاجر ہوں اور گلوبل شہری ہوں کیونکہ ہجرت میرا ستارہ ہے ۔ ہجرت میرا مُقد ر ہے ۔ میرے اب و جد اس  سرزمین پر جنت سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ اور اب بھی میری روح ہر رات ہجرت کر کے باغِ جنّت کو واپس چلی جاتی ہے اور صبح دم واپس لوٹ آتی ہے ۔ ایک اعتبار سے ہجرت خُدا کا حکم ہے ۔ قل سیرو فی الارض کہ کر مجھے ہجرت کا اذن دیا گیا تھا ۔ زمین کے سارے میدان ، دریا ، پہاڑ ، وادیاں ، صحرا اور بر اعظم خُدا کے ہیں اور ان کو کسی طور بھی گالی دینا خُدا کو گالی دینا ہے لیکن جب آدمی نے اتنی پی رکھی ہو کہ وہ خود کو بھول جائے تو وہ خُدا کو بھی بھول جاتا ہے ۔

اگر پاکستان کو گالی دینا پڑھے لکھے ، تعلیم یافتہ ، مہذب اور مدبر مہاجر کا کلچر ہے تو میں خود کو اِس کلچر سے الگ رکھنا چاہوں گا ۔ میں مہاجر ہوں مگر تم میں سے نہیں ہوں ۔ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں کیونکہ وہ میری ماں ہے ۔ میں اُس کا سینہ چھلنی کرنے کے ارادے سے اسلحہ ذخیرہ نہیں کرتا ، مگر تم کرتے ہو ۔ اس لیے تم قابلِ مواخذہ ہو اور تمہارے ساتھ اُن پسِ پردہ قوتوں کا احتساب بھی لازم ہے جنہوں نے پاکستان کی آستینوں میں سانپ پالے اور ایسی تحریکوں اور تنظیموں کی پشت پناہی اور سرپرستی کی جو پاکستان کے وجود کو دھماکوں ، خود کُش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ سے چھلنی کرتی رہتی ہیں ۔

صاحبو ! ہجرت کے کئی پہلو اور جہتیں ہیں ۔ ہجرت افقی بھی ہے اور عمودی بھی ۔ ہجرت مثبت بھی ہے اور منفی بھی ۔ اپنے مفادات کے لیے جب ہم وفاداریاں ، پارٹیاں اور دوستیاں بدلتے ہیں ، نظریات بدلتے ہیں تو ہمارے یہ لچھن بھی ہماری ہجرت کے ہی شیڈ ہوتے ہیں ۔ ہاں ہم سب مہاجر ہیں مگر ہم جن گھروں میں رہتے ہیں یا جن گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں ، اُنہیں گالی نہیں دیتے ۔ گالی شرفِ انسانیت کی نفی ہے ۔ قرآن میں لکھا ہے کہ جنّت میں گالی سنائی نہیں دے گی ۔ گالی دوزخ کی آواز ہے ۔ گالی کا وجود ، گالی بکنے والے کو انسانی منصب سے محروم کر دیتا ہے ۔

ہم نے تو افقی ہجرت بھی کی ہے ۔ ہمارا حوصلہ دیکھیے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے عشق میں لسانی ہجرت کی اور اپنی مادرری زبان پنجابی کو ایک طرٖف رکھ کر ، تقریباً ترک کرکے اردو کو اپنے بیان کا زیور بنایا ، کشت اردو کی خونِ جگر سے آبیاری کی ۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے ہم پنجاب چھوڑ کر لکھنؤ اور دلّی کے ہو رہے ہوں اور امروہے کی گلیوں میں جون ایلیا کے ساتھ مصحفی کی غزلیں گا رہے ہوں ۔

مجھے قسم ہے پاکستان کے بیس کروڑ مسلمانوں اور پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کے ناموس کی کہ ہجرت ہمارا مقدر ہے اور ہم سب مہاجر ہیں ۔ ہم سب پاکستان ہیں ۔ ہماری سیاسی جماعت اور ہماری قومی تحریک کا نام ہے مہاجر گلوبل موومنٹ جس کا دفتر ہر پاکستانی کے دل میں ہے ۔ ہم مہاجر کے نام پر تقسیم ہونے کو ہر گز تیار نہیں ۔ کیونکہ ہماری آ پس کی محبت ، رواداری اور باہمی عزت و احترام ہمارا ملی سرمایہ ہے ۔

loading...