بیمار معاشرت کا مداوا

سات سمندر پار بیٹھے ،  پاکستانی ٹیلی ویژن دیکھنا ، پاکستان کی طرف کھلنے والی کھڑکی  میں سے اپنے گھر کے آنگن میں جھانکنا ہے ۔ اور جھانکنے والا ہر روز موت کے مناظر دیکھتا ہے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو شیخ محمد اسلام نے اپنی کتاب " موت کا منظر مع مرنے کے بعد" میں نہیں لکھے ہوں گے ۔ یہ مناظر ناانصافی، جبر اور تشدد کے مناظر ہیں ۔ یہ ایک بیمار معاشرت کے مناظر ہیں ۔ آؤ ہم سب اس بات کو مان لیں کہ ہمارا معاشرہ بیمار ہے ۔ خُدا لگتی کہیں تو ملکِ خُداداد دماغی امراض کا ہسپتال ہے جو جسمانی اور روحانی روگوں کا اذیّت خانہ بنا ہوا ہے ۔

آج صبح دم ایک ٹرک ڈرائیور کی کارکردگی دیکھی کہ  وہ کم سن بچوں کو کُچل رہا ہے ۔ پھر ایک بس فُٹ پاتھ پر چلتے بچوں پر چڑھ دوڑی اور پھر ہجوم مشتعل ہو گیا اور بس کو آگ لگا دی گئی ۔ جلتی ہوئی بس کے ساتھ پاکستانی مسلمانوں کا وہ صبر و تحمل بھی جل رہا تھا جو اُنہیں مسجدوں کے بلا شرکتِ غیرے مالکوں نے سکھایا تھا ۔ اور کل رات کی وہ کہانی جس میں تین نوجوان موٹر سائیکل سواری کے نشے میں مست نہر میں جا کودے ، جن میں سے دو تو بازیاب ہوگئے مگر تیسرا  تادمِ تحریر نہر میں سے نہیں نکالا جا سکا ۔ پھر ٹریفک پولیس نے ایک نوجوان کو رُکنے کا اشارہ کیا ، جب وہ نہیں رُکا تو اُسے گولی مار دی گئی ۔ ایک نوجوان کو مجرم کے شُبے کا لباس پہنا کر مارا گیا۔ وہ رینجزرز کالج کا سالِ دوم  کا طالب علم نکلا ۔ ایک اور کہانی کے مطابق ایک پیر زادے نے انکم ٹیکس انسپکٹر کے منصب کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر حکمرانوں کی سُنّت میں جی بھر کے کرپشن کی ، پکڑا گیا  مگر اُس کے پہنچے ہوئے باپ نے اُسے قلم کی نوک میں پرو کر بچا لیا اور کرپشن انسپکٹر بحال ہوگیا ۔

سوال یہ ہے کہ جب ایک مسلمان معاشرے میں روزِ حساب پر یقین ، ایمانِ مُفصل  کا حصہ ہے جو " بعثِ بعدالموت" کے استعارے میں پوشیدہ ہے۔ مگر لوگ ایمان کو نظر انداز کر کے کُرپشن کی راہ پر کیوں  چل نکلتے ہیں اور ساتھ ہی نیکی اور  دیانت داری کا وعظ بھی جاری رکھتے ہیں ۔  مگر کیوں ؟ اس لیے کہ زبانی وعظ ایمان نہیں زبانی فریب کاری ہے جس میں لوگ مبتلا ہیں اور یہ روحانی اور نفسیاتی بیماری ہے ۔

مرحوم جنرل امیر عبداللہ خان نیازی ایک کہانی سنایا کرتے تھے ، جس کا عنوان تھا ، " مکّے سے کبھی خیر کی خبر نہیں آتی" ۔ وہ کہانی اس وقت دوہرانا موجودہ صورتِ حال پر ایک ستم ظریفانہ تبصرہ ہوگا مگر:
بنتی کہاں ہے حرفِ کرپشن کہے بغیر
چنانچہ ایسی صورت میں مرشد جلال الدین رومی سے رجوع ہوا تو اُنہوں نے فرمایا :
دستِ ہر نا اہل بیمارت کُند
سوئے مادر آ کہ تیمارت کُند
ہر نا اہل کے ہاتھ نے تجھے بیمار کر دیا ہے ۔ تو اپنی ماں کی طرف واپس آ کہ تیری تیمارداری کرے ۔ کون سی ماں ؟ ہم سب کی ماں ، مادرِ فطرت ۔

ادارہ ء رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی موجود ہے کہ ہر بچہ دین فطرت کے مطابق جنم لیتا ہے ۔ چنانچہ ہم سب اپنی ماں فطرت کے بیٹے ہیں ۔ فطرت ہمیں چاند کی گود میں پالتی ہے ، سورج ہماری کفالت کرتا ہے، ہوائیں ہمیں جھولا جھلاتی ہیں اور سمندر  ہمیں  شبنم کے فیڈر سے  غذا بہم پہنچاتا ہے ۔ فطرت اپنے تمام  بچوں کو اُن اصولوں کی تعلیم دیتی ہے، جس کے مطابق اُس کا اپنا وجود قائم ہے  ۔ وہ اصول انسانی معاشرے میں آئین اور قانون بن کر نافذ ہوتے ہیں ۔

پہلا قانون جو آدم اور اُس کی بیوی حوا کو دیا گیا ، یہ تھا:
لا تقرب حذہ الشجرۃ ، فتکونا من الظالمین ۔
اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے ۔ واضح کیا گیا کہ قانون شکنی ظلم ہے جو ہم روز روا رکھتے ہیں ۔ کہا گیا کہ زندگی کے باغ میں رہو مگر قانون شکنی نہ کرو ۔ وہ کون سا درخت تھا ، اُس کا نام جاننا ضروری نہیں مگر قانون کا جاننا ضروری ہے کہ جن باتوں کی اجازت نہیں وہ نہ کی جائیں ورنہ ظلم سرزد ہوگا ۔ اور ظالم کے مقدر میں صلے کے طور پر سزا لکھ دی گئی ہے ۔ بہت کڑی سزا ۔

کیسی سزا" کون سی سزا؟
سزا یہ ملتی ہے کہ قانون شکن کو انسانی منصب سے محروم کردیا جاتا ہے اور اُسے جانوروں کی اقلایم میں اتار دیا جاتا ہے ۔ اس بات کا ثبوت سبت والوں کے قصے میں مرقوم ہے کہ انہیں کہا گیا تھا سبت کے روز مچھلیاں نہ پکڑیں ۔ یہ قانوناً ممنوع ہے مگر اںہوں نے  قانون توڑا اور سزا میں اُنہیں انساانی مسند سے اُتار کر بندر کے بدن میں قید کردیا گیا ۔ اب یہ عین ممکن ہے کہ اُن کی صورتیں انسانوں جیسی ہی رہی ہوں کیونکہ رومی کی تحقیق کے مطابق :
چوں بسے ابلیس آدم روئے ہست
یعنی بہت سے شیطانوں نے انسانوں کے چہرے پہن رکھے ہیں ۔

اسی طرح قاانون شکن انسانوں نے، جو بندر بنا دیے گئے ہیں، انسانی بستیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اورکُرپشن، دہشت گردی ، نا انصافی ، انسان دشمنی ، لوٹ مار اور لالچ میں مبتلا ہیں ۔ اوروہ انسان نما ہیں مگر انسان نہیں اور ان کی بیمار معاشرتوں کو سدھانا کسی پیغمبر کا کام ہے مگر اب پیغمبر نہیں آیا کرتے ۔ البتہ شاعر آتے ہیں اور کہتے ہیں :
اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں
اس قوم پر خُدا نے اُتارا نہیں ہمیں
یہ تو سراج الدیں طفر کا بیان تھا مگر  انور شعور نے کچھ اور ہی کہا :
پیمبروں کو اُتارا گیا تھا قوموں پر
خُدا نے مجھ  پہ مگر قوم کو اُتارا پے

الا ماشا اللہ ۔ مجھے اب  اجازت دیجیے ۔ میں علیل ہوں میری دوائی کا وقت ہو گیا ہے ۔

 

loading...