جنگ اور امن

یہ ہمارے لیو ٹالسٹائی کے ناول کا قصہ نہیں بلکہ زندگی کا قصہ ہے اور وہ یوں کہ زندگی ایک موقع ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا تھا :
مواقع سے فائدہ اُٹھانے میں تامل مت کرو کیونکہ مواقع کسی کے اختیار میں نہیں ہیں ۔
ہر چند کہ یہ بات الہامی لگتی ہے مگر سُخن گُسترانہ نقطہ یہ آن پڑتا ہے کہ آخر زندگی کے مواقع سے فائدہ کیسے اُٹھایا جائے ۔ یہی سوچتے سوچتے ہم زندگی گنوا بیٹھتے ہیں ۔ اس کیفیت کو بھانپ کر اُستاد دامن نے فرمایا تھا :
خون جگر دا تلی تے دھر کے تے
دھرتی پوچدے پوچدے گزر چلّے
ایتھے کیویں گزاریئے زندگی نوں
ایہی سوچدے سوچدے گزر چلے

اسی سوچ بچار میں زندگی گزر رہی تھی کہ 22 ستمبر کی صبح کو گارڈے مون ائر پورٹ جاتے ہوئے مجھ پر غشی طاری ہوئی ۔ شاید میں اپنے بدن سے نکل کر فضائے بسیط کی سیر کے لیے روانہ ہونے والا تھا کہ میرے جسم کے خاکی پنجرے کو گرفتار کر کے ایمبولنس میں ڈالا گیا اور بیرم ہسپتال میں لے جا کر مجھے بستر سے باندھ دیا گیا ۔ ڈرپ لگ گئی ۔ نتھنوں میں آکسیجن کی نالیاں داخل کر دی گئیں تاکہ سانس کی آمد و رفت کو سہارا ملے ۔ چوبیس گھنٹے اسی کیفیت میں گزر گئے ۔ اگلے دن میرے جسم سے بندھے تار اور نالیاں الگ کر کے مجھے بیرم ہسپتال سے درامن ہسپتال روانہ کر دیا گیا کیونکہ وہاں اپنے گھر کا نواحی ہسپتال اور قبرستان دونوں ایک ساتھ واقع ہیں ۔ درامن ہسپتال کی تیرہ منزلہ عمارت میں داخلے سے پہلے قبرستان پڑتا ہے اور پھر ہسپتال کا داخلی دروازہ ۔ اب یہ مریض کی صوابدید پر ہے کہ اُس کی ترجیحات کیا ہیں؟ ہسپتال یا قبرستان ۔

میں بستر میں پڑا غنودگی کے مزے لوٹ رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی ۔ ہیلو کے جواب میں برطانیہ میں مقیم ایک دوست کی آواز سنائی دی کہ تم ہسپتال میں کیا کر رہے ہو ؟
واقعی معقول سوال تھا ۔ لوگ ہسپتال کیوں جاتے ہیں ۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا اور کہا :
سرکار ! ہسپتال کے میڈیکل وارڈ کے انچاج ڈاکٹر کی شادی ہے ، مجھے سہرا پڑھنے اور بھنگڑا ناچنے کے لیے بلوایا ہے ۔ ممکن ہے مجھے شاید ہنی مون نامہ بھی لکھنا پڑے ، اس لیے کچھ دن یہیں قیام کا اذن ملا ہے ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت سے ہمارے میر تقی میر بھی دوچار ہوئے تو فرمایا :
ایک آپی ہوں ، میں بیمارِ جُدائی ، تِس پر
پوچھنے والے جُدی جان کو کھا جاتے ہیں

شاید میرے ساتھ بیتنے والا واقعہ میرے پورے آبائی معاشرے کا عارضہ ہے ، جس میں وہ مُبتلا ہے ۔ کیونکہ بیماری ایک جنگ ہے اور صحت مندی امن ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ برِ صغیر کا وجود ایک میدانِ جنگ بنا ہے جس میں جنگی جنونیوں کے لشکر ایک دوسرے کے سامنے نبرد آزما ہیں اور سرحدوں کے دونوں طرٖ ف کے ٹی وی اینکر اور نیوز کاسٹر ایک دوسرے کو للکار للکار کر اور اشتعال دلا دلا کر جنگ کے ماحول کو رقت آمیز بنا رہے ہیں ۔ کچھ نیوز کاسٹر لڑکیاں اور رپورٹر تو باقاعدہ بین کرنے والے انداز میں سوز خوانی کا سماں پیدا کردیتی ہیں ۔

اچانک فیس بُک کی ایک پوسٹ میری نظر سے گزری ۔ کوئی پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کا وزیرِ خارجہ کون ہے ؟
تو ایک کومنٹ آیا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کے لیے کسی وزیرِ خارجہ کے مرہونِ منّت نہیں ہیں ۔ ہمارا وزیرِ خارجہ جنرل راحیل شریف ہے ، ہمارا دوسرا وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارا وزیرِ خارجہ خود اللہ تعالیٰ ہے ۔ اسی توکل پر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھی ہے ۔ ہماری خارجہ پالیسی مشیّتِ ایزدی ہے ۔ خُدا ہماری خارجہ پالیسی اپنے فرشتوں کی مدد سے چلاتا ہے ۔

سویڈن سے سائیں سُچّا کی آواز سنائی دی کہ وزیرِ خارجہ کو ملک سے باہر جانا ہوتا ہے اور عالمی روابط کے مراحل اور معاملات طے کرنے ہوتے ہیں اور جس قسم کے پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں ، وہ ملک کے اندر تو چل جاتے ہیں مگر باہر نہیں ۔ یہ بھی ایک معقول دلیل ہے ۔ ہم نے پاکستان کے جو وزرائے خارجہ دیکھے ہیں اُن میں قائد اعظم کی کابینہ کے وزیر خار جہ سر محمد ظفر اللہ خان تھے ۔ کبھی منظور قادر تھے ۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو تھے ، صاحب زادہ یعقوب تھے ، اپنے شاہ محمود قریشی تھے ، حنا ربّانی کھر تھیں مگر اب تو عابد شیر علی اور دانیال عزیز کا زمانہ ہے جن کی خارجہ پالیسی پر مبنی بصیرت کے تذکرے جب علامہ پرویز رشید کی زبانی سننے کو ملتے ہیں تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں ۔

اب میں ذاتیات پر تبصرے کو طول نہیں دینا چاہتا لیکن صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ ہم جو ایک تجربہ کار جنگ باز قوم ہیں ، جس نے بھارت کے خلاف چار اور روس کے خلاف ایک ایسی طویل جنگ لڑی ہے جو اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ، کیا ہمارے لیڈر موجودہ پاک بھارت بحران پر قابو پا کر قوم کو امن کے راستے پر گامزن کر سکیں گے ؟

شریف برادران کے لوہے کے تلوں میں سے تو تیل نکلتا نظر نہیں آ رہا ۔ اس وقت حزبِ اختلاف کی ساری جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر اس صورتِ حال کا تدارک کریں اور قوم کو کسی نئے نفسیاتی صدمے سے دوچار نہ ہونے دیں، کیونکہ پاکستان کی پرانی نسل آج تک مشرقی پاکستان کے سقوط کے صدمے سے نہیں نکل سکی ۔

پاکستانی قوم بہت معصوم بھی ہے اور مظلوم بھی ۔ وہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نعرے پر دل و جان فرشِ راہ کرنے پر تیار ہو جاتی ہے ۔ اب اگر سیاستدانوں نے اس وقت اُن کی درست رہنمائی نہ کی تو کوئی بڑ ا المیہ بھی رونما ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا کا بے دلیل نعرہ نہیں چلے گا ۔ حکمرانوں کو کچھ کر کے دکھانا ہوگا ، ورنہ ۔ ۔ ۔
ہے ادب شرط مُنہ نہ کھلوائیں

loading...