اصحابِ کہف کے ہمراہ ایک روحانی پریڈ

مانچسٹر کی شام ۔۔۔۔ ریستوران
ہے صنم پر گُمانِ ساغرِ مَے
خیمہ ء میزبان میں اس وقت
میں سعادت سعید سے مل کر
جامِ صحت بلند کرتا ہوں
کوئے تاریخ کا مسافر ہوں

بابِ ٹائم مشین میں ناگاہ
عہدِ رفتہ کی اک حویلی میں
بج رہا ہے پُرانا نقارہ

میں کہاں آ گیا ؟ یہ لوئر مال
اور میرا عزیز ناصر باغ
جس کے سب بے وفا درختوں نے
میری صحبت کا بوجھ اُتار دیا

اور پھر آج اس خرابے میں
دیکھتا ہوں کہ کوئی خواب نہیں
آج لاہور مجھ پہ اُترا ہے
آج لاہور کا جواب نہیں
اُسی لاہور کے گلستاں میں
یہ سعادت سعید ، دانشور
مال کے شب نواز سے پتھ پر
مجھ سے دھیما کلام کرتا ہے
اور سُخن بے نیام کرتا ہے
لمبی لمبی وہ داستاں جیسی
کجلی بن کی غزل ادا نظمیں
ایک ترتیب سے اُترتی ہیں
اور قلم بانسری کے لہجے میں
چھیڑ دیتا ہے راگ رومی کا
کیا کہا ، بانسری نے سُنتے ہو؟
وہ جُدائی کے بین کرتی ہے
کیوں مجھے کاٹ کر یہاں لائے ؟
کیوں مجھے گلستانِ فاطمہ سے
تم نے جبراً دیا ہے یورپ باس
میں تو بھاٹی تھا اور لوہاری
میں دھنی رام روڈ سے نکلی
ایک بے نام اور پتلی گلی
نیلے گنبد کے وسط میں آباد
وہ فریش ٹی سٹال یاد ہے کیا
جس میں ، دوپہر کی قیامت میں
چائے پینا بھی اک ریاضت تھی
میں کہ اِک نغمہ ء محبّت تھی
شہر یاروں کی نفرتوں نے مجھے
میرے گھر میں مجھے اُجاڑ دیا
مجھ کو بے دیس کر کے مار دیا

شب کے پچھلے پہر کا وہ لاہور
مال کے کہکشاؤں سے فُٹ پاتھ
جن پہ تارے خرام کرتے تھے
یاد ہے مجھ کو وہ بنات النعش
جس کے جھرمٹ میں گنگناتا ہوا
اک ستارا تھا کاظمی ناصر
دوسرا شب شناس زاہد ڈار
تیسر ا ، اک سلیم واحد تھا
چوتھا اور پانچواں چھٹا تارا
جالب و ساغر و منیر و سہیل
روز اپنی چمک بدلتا تھا
شاعری کے نگار خانے میں
گلِ نا یافتہ مہکتا تھا
ہائے وہ قافلہ محبّت کا
جس کا تکیہ تھا پاک ٹی ہاؤس
اور اربابِ ذوق کا حلقہ
زادہ ء بزمِ داستاں گویاں
جس میں وہ صبح شام کرتا تھا
گاہ قصدِ طعام کرتا تھا
چائے کی پیالیوں میں اُٹھتے تھے
جانے کتنے ہی شعر کے طوفان
بحث و تمحیث کے پٹاخوں سے
برپا رہتا تھا میلہ ٗ شبرات

ہاں سعادت سیعد سے پوچھو !
کیا تھا آوازہ ء عزیز الحق
ایک درویش انقلابی کے
تھے انالحق کے اپنے دیپ کئی
روشنی جن سے چھنتی رہتی تھی
عشق کی بات بنتی رہتی تھی

خواب سازانِ امنِ عالم کی
زندگی بزمِ خوش نوائی تھی
اور اُن خواب ساز لوگوں میں
چند تخریب آشنا بھی تھے
جن کو تعمیر کے تفلسف سے
رتّی بھر اتفاق تھا ہی نہیں
اور یہ اتفاق کے اصنام
جب بھی بھاری تھے اب بھی بھاری ہیں
اُس زمانے سے تادمِ تحریر
میرے اعصاب پر وہ طاری ہیں
اِس لیے میں نے شہر چھوڑ دیا
اور میثاقِ عشق توڑ دیا
اب میں اصحابِ کہف کے ہمراہ
اپنے دل کی گپھا میں رہتا ہوں
جس کے دیوار و در پہ چاروں طرف
میرے یاروں کے نام لکھے ہیں
جن میں اک نام ہے جدید سُخن
جو سعادت بھی ہے سعید بھی ہے
مشتمل نو حروف پر ہے یہ نام
اور اصحابِ کہف کی تعداد
نو ہے یا کم ، مجھے نہیں معلوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ مہینے مانچسٹر کے صنم ریستوران میں پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید کے ساتھ ایک شاندار کا اہتمام کیا گیا ۔ تقریب کی صدارت میں نے کی ۔ یہ نظم میرا صدارتی خطبہ ہے جو میں نے تقریب میں پڑھا ۔

loading...