سیکولر اور فلاحی ریاست کا ہوّا

پاکستان کا المیہ فی زمانہ یہ ہے کہ کرپشن اور بد عنوانی نے نہ صرف ہر شعبہ زندگی کا تیا پائچہ کرکے رکھ دیا ہے بلکہ خاندانی نظام کو بھی بُری طرح توڑ پھوڑ اور بھنبھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ایسی مثالیں اور واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ اولادیں ماں باپ کی دشمن بن گئی ہے اور سگے بہن بھائی یوسف کے بھائیوں کی سُنّت ادا کر رہے ہیں ۔

یہ ایک نفسا نفسی کی سی کیفیت ہے جس میں ہر شعبہ زندگی مبتلا ہے ۔ اور صحافت جیسی اعلیٰ معاشرتی خدمت ، جو عبادت ہے ، مفاد پرستی اور کرپشن کی زد میں ہے ۔ چند استثناؤں کے ساتھ بیشتر صحافی اپنے مالی مفاد اور مادی منفعت کے لیے سیاسی نظریات یا سماجی مظاہر کی توجیہ و تشریح اس انداز میں کرنے لگے ہیں کہ کسی طرح حکمرانوں کی اقتدار کی رسی کو دراز رکھا جا سکے اور بے چارہ عام پاکستانی جائے بھاڑ میں ۔

بھاڑ جہنم کا ایک عمومی مترادف ہے ۔ اس نظریاتی غتر بود سے اندازہ ہوتا ہے کہ مروجہ صحافتی اقدار کی اصطلاح میں جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ بر سرِ اقتدار لوگ حکومت کے پانچ سال کسی نہ کسی طرح پورے کریں خواہ اس دوران ملکی عوام پر کتنی ہی قیامتیں کیوں نہ گزر جائیں۔ البتہ حکمرانی کے گلدان کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ اس جمہوریت کی دھماچوکڑی میں “میاں صاحب جانڑ دیو ، ساڈی واری آنڑ دیو“  کی صدا پس منظر میں مسلسل گونجتی رہتی ہے ۔

کرپشن وہ بیماری ہے جس میں ما قبلِ تقسیم کا معاشرہ شدت سے مبتلا تھا ۔ قائد اعظم نے گیارہ اگست کی اپنی تقریر میں اس کی طرف بڑے واضح الفاظ میں اشارہ کیا تھا :
The second thing that occurs to me is this: One of the biggest curse India is suffering ... I do not say that other countries are free from it -- is bribery and corruption...that really is poison. We must put that down with iron hand and I hope you will take adequate measures as soon as it is possible for the Assembly to do so اور پھر اس تقریر کے بعد کیا ہوا ؟ کرپشن اور رشوت ستانی آہنی ہاتھوں سے بڑھائی جاتی رہی اور زہر معاشرے کی جڑوں تک پھیلتا چلا گیا ۔ اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ مردِ نا حق ضیا الحق نے فرمایا کہ رشوت تو گویا ایک سماجی رویہ بن گئی ہے ، اس لیے اس کا نام حقِ خدمت رکھ دیا جائے ۔ الا ماشا اللہ ۔
کچھ لوگوں پر سیکولر کی اصطلاح سُن کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ، حالانکہ اس کا سرچشمہ تعلیماتِ الٰہی ہیں ۔ ذرا سورہ ٗ بقر کی یہ آیات دیکھیے :
یقین جانو ، عربی نبی کو ماننے والے ہوں ، یا یہودی ، عیسائی ہوں یا صابی ، جو بھی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کا اجر اُس کے رب کے پاس ہے ۔ اور اُس کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں ہے ۔ البقر ۔ ۶۲ ۔ ( ترجمہ ابو الاعلیٰ مودودی)

چنانچہ اللہ پر ایمان لا کر ، نیک اعمال کر کے ، اپنے اعمال کی جواب دہی کے ساتھ ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب یا عقیدے سے منسلک ہو ، خُدا سے اجر پا سکتا ہے ۔ چنانچہ دین کا بنیادی فارمولا ایمان ، اعمال اور احتساب ہے اور جب اس کا اطلاق مسلمان ، یہودی ، عیسائی اور صابی پر یکساں ہوتا ہے تو سیکولریت کی بنیاد استوار ہوتی ہے ۔ یہی وہ سیکولر مفہوم ہے جسے قائد اعظم نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں دستور ساز اسمبلی کے سامنے یوں بیان کیا تھا :
Now I think we should keep this in front of us as our ideal and you will find that in the course of time Hindu would cease to be Hindu and Muslim would cease to be a muslim , not in the religious sense because that is the personal faith of individual , but in the political sense citizens of this state.
چنانچہ قائدِ اعظم کے نزدیک ہر پاکستانی خواہ وہ ہندو ہے یا سکھ ، عیسائی ہے یا پارسی سیاسی اصطلاح میں مسلمان ہے اور وہ برابر کے شہری حقوق کا حامل اور حق دار ہے ۔ چنانچہ 11 اگست ہی کو قائد اعظم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :
We are starting in the days where there is no discrimination , no distinction between one community and the other , no discrimination between one caste and creed and another. We are starting with the fundamental principle that we all are citizens, equal citizens of one state .

لیکن بد قسمتی سے مفاد پرست لالچی سیاست دانوں اور عسکری طالع آزماؤں نے نہ تو خدا اور رسول ﷺ کی صدقِ دل سے اطاعت کی اور نہ ہی قائدِ اعظم کی تعلمات کو درخورِ اعتنا سمجھا بلکہ اُنہوں نے انتہائی بے رحمی سے پاکستان کی ریاست کو فرقہ فرقہ کر کے مارا ، ملک کو دو لخت کرنے کی بنییاد فراہم کی اور اپنی غلط اور نا عاقبت اندیشانہ حکمتِ عملی سے کی ، جس نے سماجی ڈھانچے کے پرزے اڑا کر ایک قوم کو بھیڑ اور بھان متی کے کنبے میں تبدیل کر دیا ۔

ایسے میں کس کو یاد ہے کہ خطبہ حجتہ الوداع میں دین کی تکمیل کے اعلان کے ساتھ آقا اور غلام کی جو تمیز ختم کی گئی اور اخوت و سماجی انصاف کا جو فرمان جاری کیا گیا تھا ، اُس کو کس طرح پاکستانیت کی بنیاد بنانا ہے ۔ ایسے میں کچھ لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ قائد اعظم نے فلاحی ریاست کی بات کب کی تھی ؟
جی نہیں کی تھی ، مگر انہوں نے جس سماجی انصاف کا خاکہ وضع کیا تھا وہ ایک فلاحی ریاست کا خاکہ ہی تھا جس پر کئی تحقیقی مقالے رقم کیے جا چکے ہیں۔ اورآنکھوں والوں کو پاکستانیت کی آرکائیوز میں محفوظ پڑے مل جاتے ہیں ۔ یہ وہی تصور ہے جس کی بنیاد رب کا وہ وعدہ ہے کہ وہ سب کا روزی رساں ہے مگر بہت سے مردے زندوں کا رزق کھا جانے کے بعد نہایت بے شرمی سے اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ادارہ رسالت ﷺ سے جاری ہونے والے فرمان میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا تھا کہ جو خود کھاؤ وہی اپنے غلام کو کھلاؤ ، جو خود پہنو ویسا ہی اپنے غلام کو پہناؤ ، جس کا اس عہد میں مطلب یہ ہوگا کہ حکمران کا جو معیارِ زندگی ہے اسی کے حساب سے ایک اوسط درجے کا معیارِ زندگی عوام کا بھی ہو ۔

جہاں تک سرمایہ داری کا تعلق ہے ، اُس کے بارے میں سورۃ الہمزہ کے بعد امیر المومنین علی ابن طالب کرم اللہ وجہ کا یہ قول ہی کافی ہے کہ جہاں وافر دولت دیکھو ، سمجھ لو کہ کسی کا حق غصب ہوا ہے ۔
جب وافر دولت کی بات ہو تو مجھے مولانا بھاشانی مرحوم یاد آ جاتے ہیں ، موچی دروازہ لاہور میں ایک تقریر میں فرمایا :
خنزیر گورا ہو یا کالا حرام ہے اور سرمایہ پرست پنجاب کا ہو یا بنگال کا خنزیر برابر ہے، حرام ہے ۔ وما علینا البلاغ ،

loading...