حجاب اور اسلام

ایک بار مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم سے اسلام میں داڑھی کی حیثیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنہوں نے بہت معنی خیز جواب دیا کہ اسلام میں داڑھی ہے مگر داڑھی میں اسلام نہیں ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ داڑھی کو آج کل مردوں کا حجاب قرار دیا جا رہا ہے اور اُنہیں اپنے سروں کو پگڑی ، ٹوپی یا عربی طرز کے رومال سے ڈھانپنے کے شرعی احکامات جاری ہو رہے ہیں جب کہ لڑکیوں اور اُن کی ماؤں کو حجاب پہننے کی جبری تلقین جا رہی ہے اور اُنہیں حجاب پوشی میں اسلام تلاش کرنے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے ۔

میں نے مانچسٹر میں اپنے دو ہفتوں کے قیام کے دوران دیکھا کہ حجاب اب برطانیہ کے گلی کوچوں میں بہت عام ہو گیا ہے اور حجاب کو اسلامی کلچر کی لازمی علامت قرار دیا جا رہا ہے ۔ چنانچہ داڑھی ، پگڑی اور حجاب کی فراوانی اب ناروے کے سیاسی حلقوں میں بھی زیرِ بحث ہے جس میں ہمارے کارل ای ہاگن صاحب بھی شامل ہو گئے ہیں ۔ اُنہوں نے فرمایا ہے کہ ناروے میں پرورش پانے والی مسلمان بچیوں کے بالغ ہونے تک اُن پر حجاب مسلط نہ کیا جائے اور اُنہیں بلوغت کی عمر میں پہنچنے پر خود یہ فیصلہ کرنے کا استحقاق دیا جائے کہ وہ حجاب پہننا چاہتی ہیں یا نہیں ۔

حجاب اِن دنوں اسلامی فیشن کے طور پر بہت پاپولر ہے ، اور اُس کے نت نئے ڈیزائن مارکیٹ میں آ رہے ہیں ۔ حجاب انڈسٹری اپنے مستعد سیلز مینوں کی حجاب فروشی کی مہارت اور اہلِ تبلیغ کی مدد سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور اب پرانا شٹل کاک برقعہ قصّہ پارینہ بن چکا ہے جب کہ دو لخت کالا برقعہ بھی فیشن میں نہیں رہا ۔ کمرشل ازم کے اس دور میں جو حیران کُن تبدیلیاں رونما رہی ہیں اُن کا سب سے تاریک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ مذہبی نظریات بھی کمرشلائز ہو کر فرقہ واریت کی انڈسٹری کی سب سے مقبول پیداوار بن گئے ہیں ۔ چنانچہ دیو بندی بمقابلہ بریلوی اور شیعہ بمقابلہ سُنّی ، اپنے اپنے اختلافی کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدانِ شریعت میں آمنے سامنے ہیں تاہم حجاب کے معاملے میں سب کا اتفاق ہے ۔

حجاب مذہب میں ایک بہت اہم علامت ہے ۔ حجاب کی بات ہو تو چوتھے راشد خلیفہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ العلم حجاب الاکبر یعنی علم سب سے بڑا حجاب ہے ، جس کا مطلب میں یہ سمجھا ہوں کہ جب علم حجاب ہے تو بے علمی بے حجابی ہے ، اور بے علم ننگا ہے ۔ چنانچہ علم کے حجاب سے صرفِ نظر کر کے کپڑے کے حجاب کو فوقیت دی جا رہی ہے جب کہ علم کے بغیر کپڑے کا حجاب کوئی دینی علامت نہیں ہو سکتی ۔ لیکن ہمارے یہاں عجیب روایت یہ رہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واضح حُکم کے باوجود کہ ( طلب العلم فریضہ علیٰ کل مسلم و مسلمات) علم حاصل کرنا تمام مسلمان مردوں اور عورتوں پر فرض ہے ، لڑکیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے بجائے اُنہیں صرف باورچی خانہ یونیورسٹی تک محدود رکھنے کی روایت بہت مستحکم رہی ہے، جس کے تحت اُنہیں سر مونہہ لپیٹ کر آنکھیں بند رکھنے کا سبق دیا جاتا رہا ہے ۔

لباس کا تعین فطرت کی اپنی تہذیب کرتی ہے جو موسموں کو جنم دیتی ہے۔ خزاں کے کھرونچوں سے درختوں اور پودوں کے سر سے ردا چھین کر شمشاد قامت شیشموں اور شہتوتوں کو برہنہ کر دیتی ہے ۔ پہلے پتوں سے ہرا رنگ چھینتی ہے اور گلستانوں کا حسن و جمال لوٹ لیتی ہے ۔ پھر ان لنڈ مُنڈ درختوں کو نیا نکور لباس دیتی ہے اور اُن کی شاخوں کی مشاطگی کر کے اُن کے سروں میں رنگ رنگ کے پھول ٹانکتی ہے ۔ فطرت کی اس تہذیب نے خاک نژادوں کو اُجڑنا اور اُجڑ کر پھر بسنا سکھایا ۔ ہر علاقے کی آب و ہوا اور لینڈ اسکیپ نے اُنہیں لباس کی وضع قطع اور تراش خراش سکھائی ۔ چنانچہ جس طرح ہر درخت اور پودے کی خاصیت الگ اور ہر پھول کا رنگ اور خوشبو الگ ہوتی ہے ، اسی طرح ہر علاقے کا اپنا ملبوساتی تمدن الگ ہوتا ہے ۔ اور اس لیے الگ ہوتا ہے کہ اُس کا تعین آب و ہوا اور موسم کرتے ہیں کہ تپتے ہوئے صحراؤں کے باسیوں کو کون سا لباس درکار ہے اور قطب شمالی کے نواح میں رہنے والے اسکیمو لوگوں کا لباس کس طرح کا ہونا چاہیے ۔ ایک لباس سردی کی شدت سے بچاتا ہے اور دوسرا گرمی کی شد ت سے تحفظ دیتا ہے ۔ کوئی بھی لباس کسی مذہبی نظریاتی حوالے سے لازمی طور پر مقدس یا متبرک نہیں ہوتا ، کیونکہ اسکیمو مسلمان کو گرم اونی لباس کی ضرورت ہوتی ہے جس میں عورتوں اور مردوں دونوں کا چہرا بھی ملفوف ہوتا ہے جب کہ استوائی علاقے کے مسلمانوں کو ململ اور لٹھے کے لباس کی ضرورت ہوتی ہے مگر اصل لباس وہ شرم و حیا ہے جو مرد اور عورت دونوں پر یکساں فرض ہے ۔

مجھے اپنے لڑکپن کا ایک نجی واقعہ یاد آ رہا ہے ، جسے میں نے برسوں پہلے ایک کہانی کی صورت میں لکھا تھا ۔ یہ کہانی دہلی کے مشہور جریدے بیسویں صدی میں چھپی تھی ۔ اس کہانی کا عنوان تھا گرم دوپہروں کے حادثے ۔ میری پھوپھی ماں جن کے ہاں میں اپنے زمانہ طالب علمی میں مقیم تھا ، ایک شام کہنے لگیں کہ کل سکول سے سیدھے گھر آنا ، تمہاری بہن زیب کے برقعے کے لیے سیاہ کپڑا خریدنا ہے ، تم میرے ساتھ بازار چلنا ۔

میں نے پھوپھی ماں سے پوچھا کہ لڑکیوں کو برقعہ کیوں پہنایا جاتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ، ارے بے وقوف ! جب لڑکیاں جوان ہو جائیں تو تو جوان لڑکوں کی نظر اُن پر نہ پڑے ، یہ بے پردگی ہوتی ہے ۔ تو میں نے بے پردگی کی تفصیل جاننے کے لیے پوچھ لیا کہ کیا لڑکیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ برقعہ پہن کر کالج جاتے ہوئے راستے سے گزرتے اور کالج جاتے لڑکوں کو دیکھتی پھریں ؟

اصل پردہ تو یہ ہوگا کہ جوان لڑکیوں کی طرح جوان لڑکوں کو بھی برقعے میں ہونا چاہیے تاکہ دونوں کی نظر ایک دوسرے پر نہ پڑے ۔ البتہ اپنے اپنے گھروں میں ماں ، خالہ ، پھوپھی اور بہنوں کی پاکزہ صحبتوں سے اپنے تزکیہ نفس کرتے رہیں ۔

اس پر مجھے جو کچھ سننا پڑا ، وہ میں دوہرا نہیں سکتا ، کیونہ ہمارے بزرگوں کا مزاج ہمیشہ آمرانہ ہوتا ہے اور وہ بچوں کے سوالات کو چنداں اہمیت نہیں دیتے اور ڈنٹنا اپنا فطری حق سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ اس ضمن میں میں فقط اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ یک طرفہ حجاب اسلامی اقدار کے ساتھ مذاق ہے کیونکہ قرآنِ حکیم نے سورۃ  نور میں عورتوں سے پہلے مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھ کر حجاب میں رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ حجاب علم ہے ۔
آپ جانتے ہی ہیں ، میں کیا کہہ رہا ہوں ؟

میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مروجہ اسلام اس دور کے مردوں کا وضع کردہ ہے جس میں نہ صرف عورتوں کی تعلیم کا حق غصب کیا گیا ہے بلکہ اولاد کو ان پڑھ مائیں مہیا کرنے کا ٹھیکہ بھی لیا گیا ہے ۔ اب آپ سے کیا پردہ ؟

loading...