میں ، بے چارہ پاکستانی

میں نے پاکستان کو اپنے آبائی شہر کی گلیوں میں اُگتے اپنی  آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ کل ہند مسلم لیگ کے جلوس دیکھے ہیں  اور کچھ نہ جانتے اور سمجھتے ہوئے  بھی پاکستان کی تشکیل میں شامل رہا ہوں ۔ میرا گمان تھا کہ پاکستان اُن مُسلمانوں کے لیے جو اُس کے حصول پر کمر بستہ تھے ، ایک جنّت نظیر ملک ہوگا ، جہاں وہ مکمل آزادی سے امن ، ترقی اور خوش حالی کے راستے پر چل سکیں گے ۔

وقت کے ساتھ پاکستان کا جُغرافیہ بدل گیا ہے ۔ اب پاکستان سے باہر ایک سمندر پار پاکستان ہے ۔ میں سمندر پار کا پاکستانی ہوں ۔ ما قبلِ تقسیم کا پاکستانی جو نارویجین پاسپورٹ پر پاکستان کا سبز پرچم لپیٹ کر پاکستان سے ہزاروں کوس دور اپنی خیالی پاکستانیت میں زندہ ہے اور وہ  اکیلا نہیں اُس کے ساتھ ایک جیتا جاگتا پورا پاکستان ہے ۔ مجھے یہ سمندر پاکستان پاکستانی کی  زندگی بہت عزیز ہے کیونکہ یہ پاکستان سے میری محبت کے تخلیقی رویوں پر مبنی  ہے ۔

میں جس پاکستان کا پاکستانی ہوں ، وہ قائدِ اعظم کا پاکستان ہے ، کسی جرنیل یا کسی مینڈیٹ یافتہ سیاسی سریا فروش کا نہیں ۔ یہ شاید موجودہ نسل کے ہوش سنبھالنے سے پہلے کی بات ہے  کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی تقریریں روزنامہ " زمیندار " میں چھپتیں ۔  گھر کے بالغ افراد اخبار پڑھتے اور میں اُن خبروں اور تقریروں  کی مدد سے پاکستان کا خاکہ تراشنے اور خدو خال وضع کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔ یہ میرا ملک ہے ، جہاں خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانی ہے ۔ اُس خُدا کی حکمرانی جس کے نزدیک تمام مسلمان ہی کیا  تمام انسان بھی برابر ہیں لیکن اب کیا ہوگیا ہے کہ انسان  ، انسانوں  کے درمیان برابر نہیں رہے ؟ کیا یہ خُدا کا ملک نہیں رہا ؟ اور اگر اشتراکیت کو حوالہ نہ بھی بنایا جائے تب بھی پاکستان کا سماج واضح طور پر طبقاتی رہا ہے کیونکہ امیر اور غریب کا امتیاز موجود تھا  اور اُن امیروں اور غریبوں   کے درمیان ایک متوسط طبقہ تھا یا بالائی اور زیریں طبقوں میں بٹا ہوا تھا  اور ہے۔

اسلامی حکمرانوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سماجی اقتصادی تقسیم کو ، جو  کمیونزم کی اختراع ہر گز نہیں ہے ، کم کر کے ایک ایسا معیاری سماجی ڈھانچہ قائم کر یں جس میں حقوق العباد کی ادائیگی اور بجا آوری کو فوقیت اور اولین ترجیح حاصل ہو ۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا ۔ مگر کیوں؟

اس لیے کہ قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سِکّوں نے سیاسی جماعتوں کے نام پر سیاسی مافیا گردی شروع کر دی  اور سیاست کو جسے وہ عبادت کہتے نہیں تھکتے ، منافع بخش کاروبار بنا دیا ۔ چونکہ اس منافع بخش کاروبار کے قواعد و ضوابط  آف شور اور ماورائے رسم و رواج تھے ، اس لیے یہ کاروبار قانونی سرحدوں سے نکل کر مافیا گینگ بازی میں تبدیل ہو تا چلا  گیا ۔ اور یہ کاروباری سلسلہ پچھلی سات دہائیوں سے نہ صرف جوں کا توں ہے بلکہ اس نے خوب ترقی کی ہے اور منی لانڈرنگ کے پر پرزے نکالے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کو معاشرتی اور اقتصادی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ معاشرے میں  بچوں کا اغوا ، اغوا برائے تاوان ، اغوا برائے سیاسی دباؤ کی ٹیکنیک کے علاوہ  خاندانوں اور رشتہ داروں کے جان لیوا باہمی  تنازعے عام ہیں۔ غیرت کے نام پر ماورائے عدالت قتل کا لائسنس  ہر شخص کے پاس ہے اور ان لوگوں کے ہاتھوں میں نظریہء پاکستان ایک مذاق بنا ہوا ہے ۔

خلفائے راشدہ  کے زمانے کے مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست قائم کرنے کے بجائے ، حکمران سیاسی تاجروں نے کرپشن ،  منی لانڈرنگ ، قانون فروشی اور قانون   شکنی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے، جن کا نعرہ  اور مسلک  ہی یہ ہے کہ اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر جتنا لُوٹ سکتے ہو ، لُوٹ لو ۔ اور دل چسپ بات تو یہ ہے کہ خود کو سیاست دان کہنے والے تمام جاگیردار ، صنعت کار اور مذہبی و عسکری تاجر یہ لوٹ مار عوام کی فلاح و بہبود ، جمہوریت اور خُدا کی حکمرانی کے نام پر کرتے ہیں مگر ان کے ہاتھوں عوام کا بھلا کبھی نہیں ہوا ۔

یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی مارشل شاہی تھی  مگر عوام کے مسائل میرا دوست حبیب جالب بیان کر رہا تھا :
روٹی ، کپڑا اور دوا
گھر رہنے کو چھوٹا سا
مفت مجھے تعلیم دلا
میں بھی مسلماں ہوں واللہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا للہ

ایوب خان ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ملک کو دوسری یعنی  یحیٰ خانی مارشل لا کے کنوئیں میں دھکا دے کر رخصت ہوگئے مگر پاکستان کے عام آدمی کے مسائل جوں کے تُوں رہے ۔ عام آدمی کے معیارِ زندگی کا تعین نہ تب  ہو سکا ہے اور نہ ہی  آج   ہو رہا ہے ۔ المیہ تو یہ ہے،  رہا ہے کہ کوئی سی  سیاسی جماعت بھی اپنے دورِ حکمرانی میں  عام شہری کے حقوق العباد کو تسلیم کر کے   روٹی کپڑا ، دوا اور تعلیم کی فراہمی کی ضمانت نہیں دے سکی ۔ کسی حکومت نے عوام کے مسائل حل نہیں کیے بلکہ اُلٹا لوگوں کے لیے طرح طرح کے مسائل کھڑے کیے ہیں ۔

اور پھر تیسرے مارشل لا حکمران مردِ حق ، ضیا الحق نے تو عوام کی حق تلفی کی انتہا ہی کردی کہ بچوں سے امن تک چھین لیا ۔ جگہ جگہ جیش ، جتھے ، لشکر ، جنود اور لڑاکا تنظیمیں وجود میں آ گئیں اور پاکستان مہذب ، متمول اور فلاحی معاشرہ بننے کے   بجائے دہشت گردی ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کا چیمپیئن بن کر  نظریہ پاکستان کی بنیادی اساس ہی کھو بیٹھا ۔
پس چہ باید کرد اے اہلِ وطن !

اس وقت ضرورت اس  بات کی ہے کہ نئی نسل پاکستان کی نظریاتی اساس پر نظر ثانی کرےاور اُن غداروں اور نظریاتی دشمنوں کو جن میں دہشت گرد اور کرپٹ سرِ فہرست ہیں ،انجام تک پہنچائے ، جنہوں نے پچھلی سات دہائیوں میں پاکستان کو ایک  پر امن ، جدید ، ترقی یافتہ متمول اور مہذب  فلاحی ریاست نہیں بننے دیا کیونکہ اسلامی ریاست کا بینادی تصور ہی ایک فلاحی ریاست کا ہے ۔ ایک ایسی ریاست جہاں خُدا کا قانون چلے اور ہر  فرد  کو اس کا موعودہ رزق ملے ، جہاں بندوں کے مابین بندگی کا باہمی رشتہ اتنا مستحکم ہو کہ سانجھی روٹی، یکساں خاندانی نظام ، یکساں طرزِ تعلیم کے علم برادر سکول سب کے لیے ہوں اور جہاں بیماری کا گدھ پر تک نہ مار سکے ۔  مگر کہاں ؟

ہم سب تو گفتار کے غازی ہیں ۔ تقریریں خُطبے ہمارا قومی اثاثہ ہیں ۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں :
نہ انقلاب کوئی اور نہ کوئی تبدیلی
پرانے شہر ہیں اب تک اُداس اور ویران
کہاں گیا میرا جنّت نظر وطنِ عزیز
کہاں سے ڈھوند کے لاؤں میں اپنا پاکستان
  
 

loading...