اِک دیس کے ٹُکڑے ہزا ر ہوئے

پاکستان کی اُنہترویں سالگرہ میں تین دن باقی رہ گئے ہیں ۔ 1947 سے آج تک ایک قوم کا سات دہائیوں کا سفر کتنا کٹھن اور کیسی کیسی خطرناک اور دشوار گزار گھاٹیوں کا سفر رہا ہے ۔ اگر کشمیر پر قبائلی لشکرکشی اور رن کچھ کی لڑائی کو بھی شامل کر لیا جائے تو اب تک ستر سال میں ہم چھ جنگیں لڑ چکے ہیں ، جن میں دو بڑی جنگیں سن پینسٹھ اور اکہتر کی ہیں ، جن میں سے ایک میں ہم آدھا پاکستان گنوا بیٹھے ہیں ۔

یہ جنگیں ہمارا مقدر ہیں جن سے ہماری گلو خلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ ایک طرف ہماری طالبانی بلی ہے جو ہمیں ہی میاؤں کرتی ہے اور دوسری طرف ہمارے پڑوسی ہیں جن سے ہماری کبھی بن ہی نہیں پائی اور اب دشمنوں کی صف میں ہمارا بچھڑا ہوا بھائی بنگلہ دیش بن کر شامل ہو چکا ہے ۔ یہ ہماری تاریخ ہے، لیکن ہم نے تاریخ سے سبق نہ لینے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔

اس بار ہمارے بیرونی دشمنوں نے ہمارے اندرونی دشمنوں کی ملی بھگت سے کوئٹہ میں ہم پر جو وار کیا ہے، اُس کے مابعد زخم ہر گز ہر گز آسانی سے مندمل ہونے والے نہیں ہیں ۔ کوئٹہ میں قتل اور خود کُش حملے کی کارروائی ایک باقاعدہ منظم حملہ تھی ، جو ایک نئی طرز کی اُس جنگ کا حصہ ہے جو قسطوں میں وقفوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے ۔ یہ تابڑ توڑ حملوں کے بجائے ایک نو گوریلا قسم کی واردات ہے جو کبھی ملک میں ایک جگہ رونما ہوتی ہے اور پھر وقفے کے ساتھ دوسری جگہ ۔ اور یہ سلسلہ افغانستان میں روسی فوجوں کے کابل میں داخلے کے ساتھ 1980 میں ہی شروع ہو گیا تھا ۔

اُس زمانے میں ایک فرقہ پرست فوجی سربراہ جنرل ضیا نے معاشرے کو شرعی رنگ میں رنگنے کا کھیل شروع کردیا اور پاکستان میں ایک ایسی نظریاتی ریاست کی بنیاد ڈالی جس کے ڈانڈے انتہا پسندی سے ملتے تھے ۔ اس انتہا پسندی نے پر پرزے نکالے اور معاشرے میں بلاس فیمی کے قوانین نافذ ہوئے جن کی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا ، گرجوں پر حملے ہوئے ، قرآن کی بے حرمتی پر غیر مسلموں کو قتل کیا گیا ، غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کا جواز مہیا کیا گیا اور اُس کی شرعی حیثیت کو باقاعدہ قانونی تحفظ دیا گیا اور اس طرح قائد اعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کے اندر کئی پاکستان وجود میں آتے چلے گئے ۔ اب صورتِ احوال یہ ہے کہ نہ جانے ما بعد بنگلہ دیش ایک پاکستان کے اندر کتنے پاکستان سانس لے رہے ہیں ۔ ذرا اس کا ایک اجمالی جائزہ لیجیے :
1 ۔ قائد اعظم کا پاکستان
2 ۔ گورنر جنرل غلام محمد کا پاکستان
3 ۔ سکندر مرزا کا پاکستان 
4 ۔ ایوب خان کا پاکستان
5 ۔ یحیٰ خان کا پاکستان جس نے بنگلہ دیش کو جنم دیا
6 ۔ بھٹو کا پاکستان
7 ۔ جنرل ضیا کا پاکستان جس میں مذہبی جماعتوں کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے مسلح سپاہی بھرتی کریں ۔ آئی ایس آئی کے جنرل حمید گل کو اس کارِ خیر پر مامور کیا گیا کہ پاکستان کو فوجیایا جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی کمانڈروں اور سپہ سالاروں کی قیادت میں افغانستان کی طرز پر نجی فوجوں کا قیام عمل میں آنے لگا ۔

اسلامی جمعیتِ طلباٗ نے نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور پاکستان کے تمام دینی مدارس سے لے کر کالجوں اور یونی ورسٹیوں تک ہر جگہ سے جوہرِ جنگجو کو چن چن کر بھرتی کیا گیا اور قائدِ اعظم کے پاکستان کے ملبے پر ایک نیا انتہا پسند پاکستان وجود میں لایا گیا ۔ یہ پاکستان امریکی جنگ کا فرنٹ لائن ملک تھا اور ہے ۔ لیکن اس فرنٹ لائن ملک کو اپنے فرنٹ لائن ہونے کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ۔ کلاشنکوف،  توپیں ، راکٹ سٹنگر میزائل اور دوسرے پیچیدہ قسم کے ہتھیاروں نے پاکستان کی ہتھیاروں کی کھلی مارکیٹ میں جگہ بنا لی ۔ پاکستان انتہائی خطرناک ہتھیاروں سے بھر گیا اور وہ ہتھیار اب عام لوگوں کے پاس ہیں ۔

دوسری لعنت یہ آن پڑی کہ ملک منشیات کی مافیا کے قبضے میں چلا گیا اور پاکستان کے عام آدمی پر ہیروئین حکومت کرنے لگی ۔ امریکہ ، سعودی عرب اور پاکستان کے اتحادیوں نے کٹھ ملاؤں اور اُن کے مدرسوں کو سرکاری طور پر امداد دی تا کہ وہ سوویت یونین کے خلاف مذہبی تعلیمات سے لیس جنگجو تیار کریں ۔ چنانچہ جب ضیا نے ایک رجعت پذیر فرقہ وارانہ مذہبی نظام کو رواج دیا ، شرعی عدالتیں بنائیں ، کوڑے مارے ، حدود نافذ کیں تو کسی نے اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی اُس کی مخالفت کی کیونکہ ضیا اُنہیں کا اپنا تھا ، ایسا اپن، جن اپنوں کو امریکی پیار سے ان الفاظ میں یاد کرتے ہیں :
Our son of bitch

چنانچہ آج کا یہ پاکستان جنرل ضیا کا وہ پاکستان ہے جس کے اندر کئی پاکستان سانسیں لے رہے ہیں ۔ اس لیے بعض مبصر موجودہ حکمرانوں کو ضیا کی باقیات کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ضیا آج بھی زندہ ہے ۔ اور ہم سب ضیا کے پاکستان میں رہتے ہیں ۔

اور قائد اعظم کا پاکستان ؟ نہ جانے اُس کا چہرہ کتنی جنگوں کے لہو سے لال ہے ۔ اور میں نہیں جانتا کہ مشرقی پاکستان کے سقوط اور بنگلہ دیش کے وجود میں آ جانے کے بعد اُس کا کوئی جواز بھی باقی رہ گیا ہے یا نہیں ۔ آج کا وہ پاکستانی جو پاکستان کی تاریخ سے واقف ہے، جس نے پہلے پاکستان بنتے اور پھر ٹوٹتے دیکھا ہے، اس ٹُکڑے ٹُکڑے پاکستان کو چن کر جوڑنا چاہتا ہے اور وہ ان نظریاتی ٹُکڑوں کے انبار تلے دبے اُس اصل پاکستان کو بازیاب کرنا چاہتا ہے، جس میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے ، جس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں اور جو انتہا پسندی سے بالکل پاک سر زمین ہے ۔ ایک پر امن ، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان ، عوام کا پاکستان ، میرا پاکستان ، تیرا پاکستان ، ہم سب کا پاکستان ، جس میں ہر شہری کو بلا تخصیصِ مذہب و فرقہ یکساں ، مساوی اور بلا امتیازاسانی ، معاشی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں ۔ یہ ہم سب کا خواب ہے :

سمندر پار پاکستانیوں کا ایک خواب

اِک نئی صبح کا آغاز کریں گے ہم لوگ
اک نئے عہد کا در باز کریں گے ہم لوگ
اپنے غم خانے سے تریاقِ محبت لے کر
اشک کو آنکھ کا دمساز کریں گے ہم لوگ
اک نیا مُلک نظر آئے گا جب پاک وطن
اپنی تقدیر پہ تب ناز کریں گے ہم لوگ
اپنی مٹّی سے اُگائیں گے زر و سیم کے ڈھیر
اپنے پرچم کو سرفراز کریں گے ہم لوگ
پھر کوئی شخص نہ پردیس روانہ ہوگا
پھر وہی رشکِ چمن اپنا ٹھکانہ ہوگا

loading...