فرد برائے فروخت

غُلامی ، بشمول خاندانِ غلاماں ، انسانی تاریخ کا ایک بے حد قدیم ، تاریک اور نفرت انگیز باب ہے ۔  لیکن انسانوں کی خرید و فروخت کے علاوہ خود اپنی قیمت لگانے اور خود کو مفادات کے عوض بیچنے کی سماجی روایت آج بھی جاری ہے۔ نہ صرف جاری ہے بلکہ بڑی سہولت سے چل بھی رہی ہے ، تاہم اب انسانوں کی  خریدوفروخت کا سسٹم بدل گیا ہے ۔

مختلف انسانوں کی قیمتیں مُختلف ہوتی ہیں اور وہ اپنی پسندیدہ قیمت کے عوض اپنے ضمیر سے لے کر اپنا ایمان اور اپنا وطن تک بیچنے پر آمادہ رہتے ہیں ۔ مسلم  ہندوستان کی تاریخ میں   ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے قیمت لے کر حب الوطنی کا سودا کیا اور ملک تک بیچ دیا ۔ اس قسم کی سودا بازی کی ایک مثال اقبال نے یوں بیان کی ہے :
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ دیں ، ننگِ زماں ، ننگِ وطن
انسانوں اور اُن کے ضمیروں کو خریدنے کی منڈی تب بھی لگتی تھی اور اب بھی لگتی ہے ۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے زمانے میں ایک برطانوی وزیرِ اعظم  تھے ۔ نام تھا سر رابرٹ والپول ۔ انہوں نے ہندوستان کے بازارِ سیاسست میں جب لین دین شروع کیا تو اپنا تجربہ یوں بیان کیا :
Every man  has his price.
ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے اور پھر اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو اُس کی پوری قیمت ادا کرنے کے بعد اُس سے ہر کام لیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ انگریز بہادر نے برِ صغیر میں بھانت بھانت کے خطابات اور اعزازات کے عوض ، جاگیروں کے عوض ، عہدوں کے عوض اور گھوڑی پال مربعوں کے عوض لوگ خریدے اور اُن سے حسب منشا کام لیا ۔ لوگوں کے ضمیروں کی خرید کے علاوہ اُنہوں نے ہندوستان کے ٹُکڑے کر کے بھی بیچے ، جس میں کشمیر کو پچھتر لاکھ میں بیچنے کا سودا بھی شامل تھا ، جو بھلائے نہیں بھولتا ۔ اس واقعہ پر حفیظ جالندھری نے نظم کہی جس کا ایک مصرع ہے :
بیچ دی کشمیر کی جنّت پچھتر لاکھ میں

اس روایت کے لوگ بکاؤ مال ہوتے ہیں جو جسم کے بجائے ضمیروں کے سودے کرتے ہیں ۔ ضمیر فروشی کا جرم جسم فروشی سے بھی زیادہ بھیانک اور قبیح ہوتا ہے ، مگر زر کی چمک دمک اور سماجی مقام و مرتبہ اُسے دلکش بنا دیتا ہے ۔ اسی روایت کے مطابق ملکی مفادات کو بڑی طاقتوں کے ہاتھ فروخت کر دینا ایک عام سی بات ہے اور اس قسم کی مکروہ سودے بازی کو سرکاری راز کے کھاتے میں ڈال کر سر بمہر کردیا جاتا ہے اور اس کا افشا جرم قرار دیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان کی کسی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ حمود الرحمان کمیش رپورٹ ہی شائع کرتی ۔

ذہنی غلامی کے عارضے میں مبتلا معاشروں میں اگر ایک غریب ، مفلس اور قلاش آدمی ایک فاقہ ٹالنے کے لیے روٹی کا ٹُکڑا چرا لے تو اس کا جرم قابلِ دست اندازئ پولیس ہوتا ہے لیکن اگر ایک سیاستدان ، ایک حکومتی عہدیدار ، ایک سرمایہ دار ، ایک وڈیرا یا ایک مذہب فروش مُفتی قانون کی حکمرانی کا سودا کرے ، منی لانڈرنگ کرے ، ملکی خزانہ لوٹ کر سوئس بنکوں میں چھپا کر رکھے  تو وہ نہ تو  عدالت کی نظر میں مجرم ہے اور نہ ہی احتساب کرنے والے ادارے ہی اسے سزا دے پاتے ہیں ۔ یہ ہماری تاریخ ہے  ۔ یہ معاملہ ہمیشہ حریف دھڑوں کے درمیان مُک مکا یعنی سمجھوتے پر ہی ختم ہوجاتا  ہے ۔ میڈیا کے مداری اس قسم کی ضمیر فروشی پر اُس وقت تک اپنا منتر جاری رکھتے ہیں جب تک کوئی " لفافہ " اُن کے مونہہ بند نہ کردے ۔
ملک میں سیاہ کاری اور ضمیر کی سیاہی کو چھپانے کے لیے وائٹ کالر کو اُس کی سفیدی کا فائدہ دے کر اُس سے نرمی کا برتاؤ کیا جاتا ہے ، اُس کے بارے میں میڈیا کا بیانیہ کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتا ہے اور کوّے کو سفید ثابت کرنے کی مہم شروع ہو جاتی ہے ۔

ملکی مفادات کا سودا کرنے والوں اور سیاست کی آڑ میں قومی اثاثوں کو بیچنے والوں کو عدالتوں سے بھی کلین چِٹ مل جاتی ہے لیکن ملک کا قانونی شکنجہ صرف کمزوروں کو کسنے میں مصروف رہتا ہے ۔ یعنی کوئی شخص کسی نوعیت کا کوئی بھی جرم کر کے اگر جرم کی قیمت ادا کردے تو اُسے جُرم سے رہائی مل جاتی ہے۔ چنانچہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں قانون بکتا ہوِ ، عدل بکتا ہو ، روزگار بکتا ہو ، مذہب بکتا ہو ، آئین بکتا ہو ، چند سو مربع گز کے پلاٹوں  اور مراعات کے عوض دانشور بکتا ہو ، ٹی وی پر ٹاک شو کی اینکری کے عوض صحافی بکتا ہو ، وہاں آدمی ، آدمی نہیں رہتا بلکہ کماڈٹی بن جاتا ہے ۔ انسان منصب سے محروم ہوجاتا ہے ۔ اور جب آدمی کماڈٹی یعنی اشیائے صرف بن جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے ؟

پچھلے دنوں میڈیا نے  بے جا طور پر ایک چیونٹی کوگلوری فائی کر کے ہاتھی بنایا ۔ ایک غریب اور مجبور مگر آزاد خیال لڑکی کو ، جسے دنیا قندیل بلوچ کے نام سے جاننے لگی تھی ، غیر ضروری کوریج دی اور اُس کی یہی شہرت اُس کی موت کا سبب بن گئی ۔  ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ہمارے معاشرے کے باقی شعبوں کی طرح کرپٹ ، غیر ذمہ دار  اور مبالغہ کار ہے اور غیر معیاری بھی ۔ جیو پر ‘ایک دن قبدیل بلوچ کے ساتھ‘ جیسے بھونڈے اور مکروہ پروگرام نے ایک مجبور لڑکی کی زندگی کے دن گن دیے ۔ آخر جیو کو  اس قسم کے فضول پروگرام کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
کیا صرف ریٹنگ بڑھانے کے لیے ؟

بہت سے ٹی وی چینلوں کے رپورٹر جس قسم کی غیر معیاری زبان استعمال کرتے ہیں اور جس طرح ایک ہی خبر کو بار بار دوہراتے ہیں کہ سننے والا اوب جاتا ہے ۔ لگتا ہے وہ ناظرین اور سامعین کی سماعتوں میں میخیں ٹھونک رہے ہیں ۔
لگتا ہے کنفیوژن پھیلانے کی فیکٹری چل رہی ہے اور  معاشرے کے کنفیوژن کی سطح میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ مگر کون ہے جو اس منفی صورتِ حال کا تدارک کرے کیونکہ ان اندھوں میں کوئی کانا راجہ تک موجود نہیں ہے ۔ اور اگر ہوگا بھی تو اُس کی قیمت لگ جائے گی۔

 

loading...